نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ناز بلوچ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما شاہد پاشا اور قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

آج بات کرنی تھی جھوٹے سیاست دانوں کی ان سیاست دانوں کی جن میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور ان سیاسی جماعتوں کی جو نہ صرف منافقت کرتے ہیں بلکہ قومی مفاد پر سیاسی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ان کے لیے اگر کسی چیز کو اولیت حاصل ہے تو وہ ان کا سیاسی مفاد ہے ۔ ان کا حلقہ ہے ۔ ان کی پولیٹیکل پارٹی ہے ۔ اور پھر وہ ووٹ ہیں جو ان کو آنے والے الیکشن  میں حاصل کرنا ہوتا ہے اس عوام سے جس کو دلاسوں ، وعدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا ہوتا اور جب دینے کا وقت آتا ہے تو اپنی شکلیں بھی نہیں دیکھاتے ہیں۔ ایسے میں جب صوبوں کی بات ہوتی ہے تو آپ کا جذبہ حب الوطنی جاگ جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو صوبوں کی اشد ضرورت ہے اور پھر آپ کو دیگر ملکوں کی مثالیں یہاں پر یاد آنے لگ جاتی ہیں لیکن جہاں جس جگہ پر جس صوبے میں آپ کا ووٹ بینک متاثر ہورہا ہوں آپ کی سیاست متاثر ہورہی ہو ، آنے والے الیکشن میں آپ کو لگے کہ آپ کا ووٹ بینک ڈیوائڈ ہورہا ہوں وہاں آپ کہتے ہیں کہ یہ دھرتی تو ہماری ماں ہے اس کو تقسیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو انتظامی بنیادوں پر اگر مزید صوبے بنیں گے تو کیا وہ پاکستان کے اندر نہیں ہوں گے ؟ کیا وہ پاکستان کے صوبے نہیں کہلائیں گے۔ یہ لوجک کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ آپ اتنے انسیکیور کیوں ہوجاتے ہیں۔

سوال: پنجاب میں مزید صوبوں کی بات ہو تو ٹھیک ، سندھ میں مزید صوبوں کی بات ہو تو لعنت ، یہ کونسی دوغلی پالیسی ہے؟

سینیٹر نہال ہاشمی: اصل میں اس پالیسی کا نام ہے منافقت پالیسی ۔ یہ ٹوٹل منافقانہ رویہ ہے ۔ اس سے بہتر منافقت کی کوئی مثال نہیں ہے۔ صوبے زبان یا لسان پر نہیں بنائے جاتے ۔ دنیا کا ایک اسٹینڈرڈ ہے ۔ آپ دیکھیں کہ پڑوس میں صوبہ یوپی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ اسی طرح صوبہ بہار کو تین حصوں میں تقسیم کیا ۔ اسی طرح صوبہ پنجاب کو جو ہمارے بارڈر کے ساتھ ہے اس میں تین صوبے ہیں ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہی سوچ ہے تو ان کو لوگوں کو سندھ میں بھی زیادہ سہولت دینی چاہیں ۔ سکھر کے قریب ایک صوبہ ہونا چاہیے ۔ ذہن میں تو یہ بات پورے پاکستان کے ہیں تو کیا وہ پورے پاکستان کو لعنت دیں گے۔ میں وہ سندھی ہوں جو چاہتا ہوں گھوٹکی کے لوگوں کو بھی سہولت ملے

نادیہ: ناز بلوچ صاحبہ جو سہولتیں کراچی کی عوام کو میسر ہیں جو سہولتیں سندھ کے دیگر ایسے بڑے شہروں کو میسر ہیں کیوں نہیں چاہتے آپ کہ وہی صوبے جو ہیں جیکب آباد کو گھوٹکی کو بھی میسر ہوں۔

نہال ہاسمی: دیکھیں نادیہ میں کہہ رہا ہوں جو کھوٹکی کے لوگ ہیں ان کے لیے سکھر کیپیٹل بنتا ہے تو وہ زیادہ آلودگی سے اپنی ذندگی گزاریں گے وہ طالبہ علم وہ مریض۔ پنجاب کے آپ 2 صوبے کیوں پنجاب کے آپ 4 صوبے بنائے کیونکہ سوائے کے پی کے آپ 3 صوبے بنائے۔

میزبان: ٹھیک ہے زرا ناز سے بھی اس کا جواب لےلو۔

ناز بلوچ صاحبہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن کی آمد آمد ہے ۔ الیکشن کی مہم چل رہی ہے ۔ ہر پولیٹیکل پارٹی اپنا ایجنڈا لیکر آگے آرہی ہے ۔ تیس سال سے مہاجر کارڈ کھیل کر جتنا ہمارے اردو بولنے والے بھائی ۔ ، بہنون اور فیملیز کے ساتھ نا انصافیاں کی ہیں اور جو تیس سال تک ان سے وعدے کیے وہ تو وفا نہیں کیے۔ یہ آواز جو اٹھ رہی ہے ۔ اچانک سے ان کو یاد آجاتا ہے کراچی صوبہ بننا چاہیے ۔ کراچی کے تو مئیرہیں آپ ۔ اربوں روپے کا آپ کا فنڈ ہے بجٹ ہے۔

سوال : میں نے آپ سے پوچھا کہ پنجاب کے صوبے مزید ہونے چاہیں ۔ سندھ میں صوبوں کی بات کی تو لعنت کا مطلب کیا ہے۔

ناز بلوچ: صوبے بنتے ہیں اور وہ ہونے چاہیں ۔ اور وہ محرومی کی بنیاد پر بنتے ہیں ۔ کراچی کو کوئی محرومی نہیں ہے ۔ پنجاب میں عوام آواز اٹھا رہی ہے ۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس سوتیلوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے پنجاب میں ۔ یہاں پر ایک سیاسی پارٹی شرارت کر رہی ہے ۔ یہاں کی عوام نہیں مانگ رہی ہے ۔ کیوں کہ کراچی میں آپ کے پاس ہر سہولت ہے ہر آسائش ہے ۔  ائیرپورٹ ہے کراچی میں بڑے بڑے کارخانے ہیں ۔ کون سی کمی ہے کراچی میں تعلیمی اداروں کی ۔ ہر چیز ہے ۔

سوال: کیا آپ نے دوبارہ سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا چورن بیچنا شروع کردیا ہے الیکشن آنے سے پہلے پہلے؟

شاہد پاشا: پیپلز پارٹی تیس سال کی بات کر رہی ہے میں تو ستر سال پیچھے جانا چاہ رہا ہوں۔ ستر سال میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے پاکستان کو کیا  دیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے گاہ بگاہ سندھ میں تو رہی ۔ آج کراچی کو چھوڑے سندھ کا حال دیکھ لیں جو لاڑکانہ کو نہیں بنا سکے ، دادو کو نہیں بنا سکے ، گھوٹکی کو نہیں بناسکے۔ اسپتالوں کا ذکر تو میری بہن نے کیا لیکن اسپتالوں کی حالت دیکھ لیں ۔ میں پچھلے دنوں لیاری جنرل اسپتال کا حال دیکھ رہا تھا۔

ایم کیو ایم نے آج تک کسی صوبے کا مطالبہ نہیں کیا۔ کراچی صوبے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے ۔ جنوبی سندھ صوبے کا ایک کانسیپٹ ہے جو اسکول آف تھارٹ سے آتا ہے ۔ ہاں ڈیمنانڈ ہے مہاجروں کی ڈیمانڈ ہے لوگوں کا مطالبہ ہے جس کو ایم کیو ایم گزشتہ کئی سالوں سے اس مطالبے کو ایم کیو ایم کنسیڈر کر رہی ہے ۔ اور ایک الٹی میٹ چوائس پر ایم کیو ایم بات کرتی ہے ۔ میں خود کہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے گزشتہ تیس سالوں میں وہ کچھ نہیں کیا جس کی امید کر رہے تھے خاص طور پر مہاجرین جو سندھ میں آکر آباد ہوئے۔ اب پروبلم یہ ہے کہ ہم ایم کیو ایم ایک جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ تمام جو چیزیں میری بہن نے کہیں میں کچھ حد تک چیزیں ایکسیپٹ کرتا ہوں۔ ایگری کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم نے وہ کارگردگی نہیں دیکھائی۔ ہمارے ساتھ بھی پروبلم چلی آرہی ہے گزشتہ پچیس ، تیس سال سے کچھ لوگ ہیں جو ایم کیو ایم پر قابض ہیں۔

میزبان: مختصرا بتاتی چلوں کے مختلف ممالک میں جو آبادی کے اعتبار سے صوبوں کی تعداد ہے وہ کیا ہے ۔ اور ہم کتنے پیچھے ہیں۔ جب کچھ سیاسی جماعتیں کھڑی ہو کر کہتی ہیں کہ ہمیں جمہوریت نہیں کرنے دی جاتی ۔ جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا ۔ تو جس دن یہ تمام کے تمام سیاسی جماعتیں منافقت ایک طرف کر کے اپنے سیاسی یا ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کے  ان کی اولین ترجیح اگر ملک کا مفاد ہوگا ۔ تو پھر جمہوریت کو ٹائم بھی دیا جائے گا ۔ اسپیس بھی دیا جائے گا۔

پاکستان: پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 ہے اور صوبوں کی تعداد 4 ہے۔

بھارت: انڈیا کی کل آباد 1 ارب 34 کروڑ ، 25 لاکھ 12 ہزار 706 ہے اور صوبوں کی تعداد 29 اور 07 وفاق کے زیر انتظام مرکز ہیں۔

افغانستان: افغانستان کی کل آبادی 3 کروڑ 62 لاکھ 83 ہزار 288 ہے اور صوبوں کی تعداد 34 ہے۔

ایران: ایران کی کل آبادی 8 کروڑ 19 لاکھ  33 ہزار 803 ہے اور صوبوں کی تعداد 31 ہے۔

چین: چائنہ کی کل آبادی ایک ارب 41 کروڑ 44 لاکھ 73 ہزار 230 ہے اور 23 صوبے ، 5 میونسپل کمیٹیاں اور 05 آزاد ریاستیں ہیں۔

جاپان: جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 72 لاکھ 16 ہزار 112 ہے اور 47 صوبے ہیں۔

سوال: یہ جو ناز بلوچ کہہ رہی تھیں کہ آل آف سڈن آپ کو یاد آگیا کراچی صوبہ ،جس کی بات نہیں ہوئی ، ایڈمنسٹریٹف بنیادوں پر یونٹس بنانے کی بات ہوئی ہے ۔ پتہ نہیں کیسے پیپلز پارٹی کو یہ ایک دم سے لگا کہ پھر سے شاید کوئی سوشہ چھوڑا جا رہا ہے لیکن آپ کو یاد ہے 2013 میں پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ نے جاتے جاتے یہ شوشہ چھوڑا تھا کہ جنوبی پنجاب کو الگ سے صوبہ بنادیں ، سرائیکی صوبہ ۔

سینیٹر نہال ہاشمی: انصاری کمیشن نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کے 18 صوبے ہونے چاہیں اور متعصبانہ نہیں ہونا چاہیے زبان اور مذہب کے لحاظ سے ۔ اگر کوئی ہندو بھی ہے اور پاکستانی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو ایکسیپٹ کریں ۔ الگ صوبہ بنایا جارہا ہے تو اس لیے نہیں کہ کراچی کو آگے بڑھایا جائے یا پیچھے ہٹایا جائے اصل میں جو رورل ایریاز ہیں وہ ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ وہ سندھ کا علاقہ ہو یا پنجاب کا علاقہ ہو ، کے پی کے کا ہو ۔

سوال: انتظامی بنیادوں پر پورے سندھ میں مزید صوبے ہونے چاہیں یا نہیں ہونے چاہیں؟

ایاز لطیف بلیچو: مزید صوبے بنانے کا اختیار ہمیں دیا کس نے ہے؟ یہ ہزاروں سال سے وطن ہے ۔ سندھ ، پنجاب ، کے پی کے یہ کوئی آسمان سے نہیں اترا ہے جو ہم نے کھجور کا درخت لگادیا ہے۔ ہزاروں سال سے رہنے والے لوگوں کا وطن ہے اس کو تقسیم کرنا انتظامی بنیادوں پر ۔ اس کا اختیار کس نے دیا ہے ۔ پانچ کروڑ سندھیوں کو یا بائیس کروڑ پاکستانیوں کا اختیار حاصل ہے آپ کو مجھے یا کسی کو  ۔ کوئی سندھ کو توڑنے کی کوشش کرے گا پاکستان کو توڑنے کی کوشش کرے گا ۔ پاکستانی عوام اس کی مذمت کریں گے اور عالمی ایجنڈا کو ناکام بنائیں گے را اور امریکی منصوبے کو ۔

پاکستان میں قطعا مزید صوبے نہیں بننا چاہیں۔ پنجاب اپنا فیصلہ سندھ پر مسلط کرے اس کا کسی کو اختیار نہیں ہے جب تک وہاں کے رہنے والے عوام چاہیں گے۔

سوال: کیا ایم کیو ایم الیکشن سے پہلے ایک دفعہ پھر کوئی مہاجر صوبے کی بات کرنے جا رہی ہے ؟ مہاجر کارڈ کھیلنے جارہی ہے ؟ مہاجر صوبے کی بات کرنے جارہی ہے یا آپ نے حقیقتا ملکی مفاد میں مزید صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات کی ہے۔

شاہد پاشا: اگر ایسے رہنما ہوں گے جو انتہا پسند سوچ رکھ کر بیٹھے ہوں گے جو ایک نیرو مائنڈ کے ساتھ بیٹھیں ہوں گے تو پھر نہ تو یہ ملک ترقی کرے گا، نہ صوبہ ترقی کرے گا نہ یہ شہر ترقی کرے گا۔ کراچی میٹروپولیٹن سٹی ہے ۔ میٹروپولیٹن سٹی پہلے کراچی نہیں تھا اس کی وجہ یہ ہے جب 10 ملین لوگوں طے ہوجائے اور یہ طے ہوجائے کہ اس شہر میں 1 کروڑ لوگ رہتے ہیں تو وہ میگا سٹی یا میٹروپولیٹن سٹی کہلاتا ہے ۔ جیسے جیسے ترقی ہوگی ویسے ویسے چیزیں ایلیبریٹ ہوں گی ۔ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ پاکستان میں جس ڈویژن کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرجائے اس ڈویژن کو انتظامی بنیاد پر صوبے کا درجہ دیا جائے۔