عدالت کا تعلیمی اداروں کو چھٹیوں کی فیس نہ لینے کا حکم!!

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں عدالت کی جانب سے تعلیمی اداروں کو چھٹیوں کی فیس نہ لینے کے حکم کے معاملے پر ماہر قانون بیریسٹر مسرو، مرکزی صدر اے پی پی ایس کاشف مرزا ، جنرل سیکریٹری پی اے سی ایف سجیل عثمانی سے خصوصی گفتگو کی۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

نواز شریف کی طرح نجی اسکول بھی مشکلات کا شکار ہیں ۔ مشکلات یہ ہیں کہ جیسے ہی گرمیوں کی چھٹی کا اعلان ہوا اس کے ساتھ ساتھ ہی مزید فیصلے بھی عدالتوں کی طرف سے آئے ۔ سب سے پہلے اگر ہم بات کریں تو لاہور ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن گئی کہ جو اضافی بوجھ پڑتا ہے والدین کے اوپر کیوں کہ اپنی مان مانی کر رہے ہیں پرائیوٹ اسکول اور ضرورت سےزائد فیس چارج کر رہے ہیں ۔ وہ جو اضافی فیس چارج کرتے ہیں اس کو نہ کیا جائے ۔ 18 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا جس میں انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ اسکولز سمر وکیشن کی چھٹیوں کی فیس چارج نہیں کر سکتے ۔ اس فیصلے کے بعد پرائیوٹ اسکولز فیڈریشن ہے اس بزنس سے ملحقہ جو شخصیات ہیں ان کا ریکشن آیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے اس کے اپنے ریزنز بتانے کی کوشش کی۔

دیکھا جائے تو والدین کے لیے یہ خوش آئند بات ہے دوسری طرف اگر اسکول ٹیچرز اور وہ طبقہ جو اسکولز میں ملازمت کر رہا ہے اگر ان کی طرف سے ایک ریزن اور جسٹیفکیشن یہ دی گئی کہ اگر ہم اسکول کی فیس نہیں لیتے تو پھر ہم جو سیلریز ہیں وہ اپنے اسٹاف کو کیسے دیں گے جن کی اسکول کی بلڈنگ رینٹ پر ہے وہ  کیسے مینج کریں گے ۔ اس معاملے پر ابھی کیس چل رہا ہے۔

سوال: یہ فیصلہ آگیا ہے یہ آپ کے لیے قابل قبول ہے یا نہیں ہے ۔ اگر یہ قابل قبول نہیں ہیں تو اس کو قابل قبول بنانے کے لیے آپ کیا تجاویز دیتے ہیں ؟

سجیل عثمانی: یہ جو فیصلہ آیا ہے یہ انٹیرم آرڈر ہے ۔ یہ کوئی فائنل ڈسیشن نہیں ہوا ، اور یہ جو فیصلہ سامنے آیا ہے یہ مس ریپریذنٹیشن کی وجہ سے سامنے آیا ہے ۔ جو کورٹ کے سامنے پیرا کی چئیرپرسن نے اور جو سیکریٹری کیڈ ہیں انہوں نے کورٹ کیا ۔ میں خود حیران ہوں کہ اتنی ذمہ دار پوزیشن پر افسران تھے جب ہائی کورٹ نے ان سے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پریذنٹیشن موجود ہے ۔ تو انھوں نے جو حوالہ دیا سندھ ہائی کورٹ کا اور لاہور ہائی کورٹ کا وہ تو ایون کے آرڈ شیٹ کے اندر بھی لاہور ہائی کورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ یہ ڈسیشن ہوچکے ہیں کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس نہیں لی جائے گی اور یہ انتہائی قابل افسوس بات ہے کہ جس کا حوالہ دیا گیا اس کا سرے سے کوئی فیصلہ آیا ہی نہیں ہے ۔ نہ سندھ ہائی کورٹ میں آیا نہ لاہور ہائی کورٹ میں آیا ۔  اور وہاں جو فیصلے آئیں ہیں وہ اس حدتک آئے ہیں کہ آپ ان ایڈوانس وصول نہیں کریں گے ۔ بلکہ کنسرن منتھ میں آپ لیں گے ۔ اچھا اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں ایک پارشل ڈسیشن آچکا ہے کہ آپ اگر ہاف فیس چارج کریں گے گرمیوں کی چھٹی کی ۔ مگر وہ بھی چیلینج ہوچکا ہے اور ریوو میں بھی ہوا ہے سپریم کورٹ میں ۔

سوال: آپ کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ پرائیوٹ اسکولز کے لیے کہ کسی قسم کا ریلیف پارنٹس کو دیا جانا چاہیے ۔ یا دیا جائے؟

سجیل عثمانی: ریلیف کی حدتک ہم کمیٹیڈ ہیں اور ملنا چاہیے اور ہمیشہ ملنا چاہیے ۔ بچے یہاں اسکول میں ایڈمیشن لیتے ہیں یہ کوئی ٹیوشن سینٹر نہیں ہے کہ آپ نے دوماہ کے لیے پڑھا لیا اور پھر وہ چلے گئے ، یہاں سیشن کے لیے ایڈمیشن ہوتے ہیں۔ سیشن ٹو سیشن ہوتا ہے اور ہم پابند ہوتے ہیں کہ سیشن کے بعد بچے کو اگلی کلاس میں پروموٹ ہوتے ہیں تو یہ ایک کنٹینیوٹی ہے ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ جو آپ کی فیس کیلکولیٹ ہوتی ہے یہ بارہ مہینے کے اوپر ہوتی ہے اور اس میں چھوٹیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اور بہت سے اور بھی ادارے ہیں جب گرمیوں کی چھٹیاں آتی ہیں تو چاہے وہ گورنمنٹ کے لیول کے ہو یا پرائیوٹ سیکٹر میں ہوں وہاں پر سمر کی اور ونٹروکیشن آتی ہیں ۔ ان کے ایمپلائز کو تنخواہیں ملتی ہیں۔ ۔ پبلک میں بھی ملتی ہیں پرائیوٹ میں بھی ملتی ہیں۔ گورنمنٹ کے فنڈز تو آرہے ہیں جب کہ پرائیوٹ سیکٹر کے پاس سوائے فیس کے اور کوئی سورس نہیں ہے۔

سوال: یہ جو کہتے ہیں کہ بارہ مہینے کا سسٹم ہے ۔ دوسری کلاس میں پروموٹ کرتے ہیں ایک کنٹینیوٹی ہے ۔ کوئی ٹیوشن سسٹم تو ہے نہیں۔ سیلریز نہیں ملیں گی اگر آپ پیسے نہیں دیں گے۔

سجیل عثمانی: کاشف صاحب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ریفرنس دیا ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈسیشن انٹیرم ہے ابھی وہاں پر بھی پارٹی شروع ہوئی ہے ۔ اور اسکول والے دیکھیں گے کہ آگے جو آرگرومنٹس آئیں گے وہ کیا ہے اور کیسے ان کو ریورٹل دیناہے ۔ میرا نہیں خیال کے ریورٹل دے پائیں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلکل ہمارے لیے پارٹی ہے کیوں کہ 1984 سے آپ پارٹی منا رہے تھے اور اب ہم منا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا جو فیصلہ ہے میں یہ سمجھتا ہوں ذاتی طور پر کہ وہ بہت ہی اچھا اور تفصیلی فیصلہ ہے ۔ اور اس کا نہ صرف والدین کو فائدہ ہے بلکہ ایجوکیشن سسٹم کو بھی فائدہ ہے ، لاہور ہائی کورٹ میں جس کا ریفرنس کورڈ ہوا ہے ۔ اس فیصلے میں نامی گرامی وکلاء تھے جن میں عاصمہ جہانگیر ، خواجہ حارث نے کہا کہ ایجوکیشن سروس نہیں ہے اوکیپیشن ہے۔ ابھی انھوں نے کہا ہے کہ ایجوکیشن بزنس ہے ۔ یہ ان کے کورٹ میں ریفرنسز تھے۔ اب مجھے یہ بتائیں کہ چھٹیوں میں کونسی ایکومڈیز بیچتے ہیں جس کے پیسے لیتے ہیں ۔ اور فیس مانگ رہے ہیں۔  چھٹیوں میں فیس لینا کوئی لاجک بنتا نہیں ہے ۔

سوال: یہ تو بدمعاشی ہے کہ بچے نہیں آرہے پیسے دو ، بچے اسکول نہیں جا رہے وین والا کہتا ہے پیسے دو ؟

بیریسٹر مسرور: یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ معاملہ کوٹوں میں آیا کیوں ۔ یہ اس طرح کا پرائیوٹ بزنس نہیں ہے جو بندہ برگر بیچ رہا ہے ، یا بیٹھ کر یہاں گاڑیاں بیچ رہا ہے ۔ ایجوکیشن ہمارے آئین کے تحت آرٹیکل 25 اے کے تحت ہر بچے کا  بنیادی حق ہے ۔ پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچے کا بنیادی حق ہے اور کمپلسری ایجوکیشن دینا ریاست کا بنیادی حق ہے۔ ریاست اس کو ادا کرے ۔ اب ہوا یہ ہے کہ اسکولز نے جب اس کو منی میکنگ کا ذریعہ بنا دیا تو ہر ہائی کورٹ میں کیسز گئے ۔ اب جو کیس ہے اسکولوں کا اس کا اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو سندھ ہائی کورٹ کی ججمنٹ ہے اس میں ریٹرن ججمنٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اسکولوں کا موقف یہ تھاکہ جی ہمارا اصول بزنس پرنسپل یہ ہے کہ ہم وہی چیز دیں گے جس کی آپ قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ اس پر کورٹ نے بڑی برہمی کا اظہار کیا کہ یہ بہت غلط بات ہے ۔ ایجوکیشن کو ایسا نہ سمجھیں کہ کوئی آپ برگر یا چپس بیچ رہے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے تین پرسنٹ انوئل انکریس ری اسٹریکٹ کیا ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ نے پانچ انوئل انکریس کو ری اسٹریکٹ کیا ہے ۔ کیوں کہ من مانی ہوتی تھی جب ان کا دل چاہتا تھا یہ فیسیں اپنی مرضی سے بڑھا دیتے تھے۔

سوال: یہ بزنس ہے یا سروسز ہیں؟

بیریسٹر مسرور: یہ سروسز ہے نیچریلی جس طرح وکالت ہے ۔ اب وکالت جو ہے وہ اس طرح کا بزنس نہیں ہے کہ ایک عام آدمی جو ہے وہ کپڑے بیچ رہا ہے ۔ ہمارے بھی بار کونسل کے رولز ہیں وہ سارا کچھ ریگولیٹ کرتے ہیں ۔ اگر کسی کو اعتراض ہے کورٹ جا سکتا ہے ۔

سوال: کہاں کہاں یہ بات ہوئی ہے کہ آپ نے جون ، جولائی کی فیس ہی چارج نہیں کرنی، کہاں کہاں یہ بات ہوئی ہے کہ چاہے آپ نے ایک مہینے کی کرنی ہے کچھ چھوڑ کر کرنی ہے ۔  یا آپ نے انوئل چارجز اضافی لیا جاتا ہے ۔ وہ نہیں لینی ہے ۔

بیریسٹر مسرور: اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیٹگوری کہا ہے کہ آپ نے ایڈوانس فیس سمر وکیشن کی لینی ہی نہیں ہے ۔ انٹیرم آرڈر ہے ۔ اگر کورٹ مناسب سمجھے گی تو 20 جون کو یہ کیس ود ڈرا کردے گی ۔

سوال: حسنات احمد قریشی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو معاملہ یہ ہے کہ کیس کیونکہ مقدمہ ہے عدالتیں اب اس کا فیصلہ کررہی ہیں کے پیرنٹس کو ریلیف دیا جانا چاہیے یا پیرنٹس کو ریلیف نہیں دیا جانا چاہیے اس کے علاوہ جو ڈیفینیڈلی جو اسکولز ہیں جو پرائیوٹ اسکولز ہیں ان کے اپنے انٹرسٹ ہیں وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے پیرنٹس کو ریلیف ملے پیرنٹس کو ریلیف ملنے کا مقصد ان کے لیے ہے نقصان تو آپ کی ریگولیٹی بارڈی کیا وہ اپنے کہے ایسے کوئی اقدامات کرنے کا کوئی تصور ہے جس میں پیرنٹس کو ریلیف ملے یا یہ فیصلے بھی عدالتوں نے کرنے ہیں؟

حسنات احمد قریشی: جی دیکھیں ہمارے  جو ہمارے 2016 کے رولز ہیں اس میں پورا ایک فی ڈیٹرمینیشن کا میکنیزم دیا ہوا ہے اس میں تمام پیرامیٹرز طے ہیں کہ اگر ایک اسکول کی انوالومنٹ اتنی ہوگی اس کا انسٹرا اسٹریکچراتنا ہوگا اس کا لیول اگر یہ ہوگا تو وہ اتنی فیس چارج کرسکے گا۔ وہ رولز ہمارے چلے گئے جو بڑے اسکول ہیں تو وہ ہمارے رولز کم ہوگئے۔ عدالت نے اسٹرائیک کم کردی انہوں نے کہا ہے کہ یہ رولز صحیح نہیں ہیں آپ دوبارہ سے رولز بنائیں تو وہ تو چل رہا تھا اگر وہ رولز ان سے انفلیومنٹ ہو جاتا تو یقینا پیرنٹس کو ایک ریلیف ملنا تھا کیونکہ اس میں میں آپ کو بتاؤں اس میں جو ایف ایف سی، ایف اے اور میٹرک کے اسٹوڈنٹ تھے اس کی جو فی ہم نے ڈیٹرمنٹ کی وہ سارے 8 ہزار روپے پر منتھ تھا۔ اسی طرح سے جو اے لیول، او لیول کی تھی وہ ساڑھے 12 ہزار تھی ود 10 پرسنٹ انکریس ایوری ائیر تو وہ رولز اگر انکرینمٹ ہوجاتے تو شاید کافی جلدی ہوجاتی پیرنٹس کو۔

سوال: اچھا تو یہ جو آپ کے چارجز تھے یہ یونیفارم تھے یا تمام اسکول پر ان کا اطلاق ہورہا تھا ؟

حسنات احمد قریشی: جی تمام اسکول پر جی تمام پرائیوٹ اسکولز پر تو اب انفوچونیٹلی وہ تو رولز اسٹرئیک ڈاون ہوگئے اب دوبارہ نئے رولز بنیں گے تو اس میں ہم جو ہیں فارمولا لے کر آئیں گے وہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ تمام پرائیوٹ اسکول اور پیرنٹس کی مشاورت کے ساتھ نیا فورمولا لے کر آئیں گے۔

سوال: ابھی جو معاملہ ہے اور یہ کہا جارہا ہے آپ کیا سمھجتے ہیں یہ جو جون جولائی کی فیس ہے یہ ابھی سے تو نہیں لی جارہی نہ اور جو آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ اسٹرائیک ڈاون ہوئے ایک سال پہلے دو سال پہلے یہ ابھی وہ بھی نہیں جون جولائی کی فیس کا معاملہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تعلم نام کے لفظ سے آشنا ہوئے ہیں ہمیں یہ پتہ ہے جون، جولائی کی فیس بھی ہمارے پیرنٹس کو ادا کرنی ہے اس میں آپ نے کام کیا کبھی سوچھا کہ یہ اضافی بوجھ ہے پیرنٹس کے اوپر۔

حسنات احمد قریشی: دیکھیں ابھی جو یہ کورٹ کا آرڈر آیا ہے جی میں نے آپ سے عرض کیا نہ اس میں جو فیس ڈیٹرمینیش کا فارمولا ہے اس میں جو ان کا ایکسپینس ہوتا ہے ۔

بیریسٹر مسرور: جنوری 2018 میں رول اسٹرائیک ڈاؤن ہوگئے ۔ چھ مہینے ہوگئے اتنا ٹائم کیوں لگ رہا ہے رولز بنانے میں آپ کو ایمپلیمنٹ کرنے کے لیے؟

حسنات احمد قریشی: جنوری 2018 میں رول اسٹرائیک ڈاؤن ہوا اور اس کے خلاف ہم کورٹ میں گئے ۔

کاشف مرزا: لاہور ہائی کورٹ کا اس کے اوپر بڑا کلئیرڈسیشن آیا ہے ۔ اور اس میں کہا کہ آپ اس کو کیپ نہیں کرسکتے ، آرٹیکل 18 اگر وہ کسی قسم کا پروفیشنل جوائن کرے۔