نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر جنرل (ر) امجد شعیب ، پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار، مسلم لیگ ن کے رہنما صدیق الفاروق اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

 سیاستدانوں کو لگ رہا ہے کہ 2018 میں الیکشن نہیں ہوں گے اور دوسری طرف یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تاریخ دے دی ہے۔ نگراں وزیر اعظم بھی آچکے ہیں۔ سندھ کے علاوہ ابھی نگراں وزیر اعظم بھی آنے ہیں ، اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں ان کے نام بھی آجائیں گے۔ الیکشن کیمپئن بھی سیاسی پارٹیز نے شروع کردی ہے ۔ اپنے اپنے حلقوں میں لوگ چلے گئے ہیں۔ کاغذات نامزدگی بھی وصول کرلیے گئے ہیں۔ جب کاغذات نامزدگی کی بات آتی ہے ۔ ایک وقت تھا جب پیپلز پارٹی کا دور تھا وہ چاہتی تھی کہ آئین سے آرٹیکل 62 اور 63 ختم کردی جائے ۔

اس وقت پی ایم ایل این نے نہیں مانا تھا اور وہ ایک رکاوٹ بنی رہی تھی ۔ کیوں کہ وہ آئین پاکستان کی ایسی شق تھی جس سے ایک پارلیمنٹیرین کا صادق و امین ہونا ضروری ہے ۔ لیکن اس کے بعد جب نااہلی کے سلسلے ہوئے ۔ لوگوں کے جھوٹ پکڑے گئے اور لوگوں کی کرپشن سامنے آئی ، منی لانڈرنگ کے کیس سامنے آنے لگے اور ایک کے بعد ایک لوگوں کے کتھے چٹھے کھولنے لگے تو پھر یاد آیا کہ آرٹیکل 62، 63 ختم ہی ہوجاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ کچھ قوتیں تھیں جو واقعی نہیں چاہتی تھیں کہ ایک اور چالاکی کی گئی۔ وہ چالاکی یہ تھی کہ آئین کا آرٹیکل 62 تو اپنی جگہ رکھا جس کے مطابق کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے جو پاکستان کا شہری نہ ہو ۔ رکن پارلیمنٹ اچھے کردار کا حامل ہو ، اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند ہو، گناہ کبیرہ نہ کیا ہو، رکن پارلیمنٹ پارسا، صادق و امین ہو ، فضول خرچ اور آوارہ گرد نہ ہو۔ جب یہ شقیں ختم نہیں کرسکے ، تو چالاکی یہ کی کہ کاغذات نامزدگی میں ترمیم کردی اور اس میں وہ تمام چیزیں ہی نکال دیں۔

فارم میں مینشن کرنا ضروری نہیں ہے کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ بتائیں کہ آپ کا پیشہ کیا ہے ۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ میشن کریں کہ آیا آپ کے دوہری شہریت ہے ۔ آپ اپنا نیشنل ٹیکس نمبر بھی نہیں دیں۔ انکم ٹیکس ریٹرن بھی شئیر نہ کریں۔ سورس آف انکم ٹیکس بھی شو نہ کریں۔ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو پرانے کاغذات نامزدگی میں ہوتی تھیں۔ لیکن اب کہا گیا ہے کہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تو آپ کا کوئی کرمنل ریکارڈ بھی ہے تو وہ بھی مینشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ یہ معاملہ لیکر گئے وہاں کہا گیا کہ پرانے ہی کاغذات نامزدگی فارمز چلیں گے۔ لیکن پھر وہ معاملہ ایاز صادق ، الیکشن کمیشن ، سپریم کورٹ گئے اور وہاں سے یہ اسٹرائیک ڈاؤن ہوگیا۔

سوال: سیاسی جماعتیں شروع مچارہی ہیں کہ الیکشن ہوں گے نہیں ہوں گے ۔ آپ الیکشن اپنے ٹائم پر ہوتے دیکھ رہے ہیں جس طرح سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے ؟

جنرل  (ر) امجد شعیب: میرا اندازہ یہی ہے کہ الیکشن ٹائم پر ہوں گے۔ لیکن اگر مہینہ دس دن دیر بھی ہوجاتی ہے تو کونسا آسمان گر جائے گا۔ یقین کریں کہ جب سپریم کورٹ نے اس کو اسٹرائیک آف کیا جو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ تھا۔ میں اتنا ڈیمورولائز ہوا ۔ بلآخر وہ تمام چیزیں جو لاہور ہائی کورٹ نے ہائی لائٹ کی تھیں وہ شامل ہوں گی ۔ اور اگر اس کی بنیاد پر وہ فارم نئے بنواتے ہیں ۔ یا کوئی ایسا ذریعہ جس سے دو چار دن لیٹ بھی ہوجاتےہیں۔تو ایسی کونسی بات ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا بھی کچھ حق ہے ۔ یہ صرف ان لوگوں کا نہیں ہے۔ جیسے عثمان بیٹھا ہے کہ اس نے الیکشن لڑنا ہے ۔ میں ایک ووٹر کی حیثیت سے بھی حق رکھتا ہوں ، مجھے تو چاہیے کہ فلٹر آؤٹ ہوکر پہلے وہ لوگ آئیں جو حق دار ہیں ، پھر میں اپنے ووٹ کا رائٹ استعمال کروں ۔ اب اگر آپ چھین لیتے ہیں میرا رائٹ ، بلکہ پوری قوم سےچھین لیتے ہیں کہ آپ ایک ایسا فارم بنادیتے ہیں جو راستہ کھول دیتا ہے ہر طرح کے چور اچکوں کے لیے کہ وہ جیسا بھی ہو آجائیں۔ مجھے پھر آپ سے کیا لینا میں تو کہوں گا کہ الیکشن نہیں کرائیں آپ، جو بیٹھے ہیں وہی بیٹھے رہیں۔

سوال: جو اسمبلی میں چالاکی ہوئی ہے ، جب آپ آرٹیکل 62، 63 میں ترمیم نہیں کر سکے تو پھر آپ نے فارم چینج کردیا اور اس پر تمام پارٹیز ایک پیچ پر تھیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار: میں الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کا حصہ نہیں تھا ۔ جو میری اطلاعات ہیں اس کے مطابق ممبران کو آخری دن تک یہ فارم دیکھایا نہیں گیا تھا کہ اس شکل میں آرہا ہے، دوسرا یہ کہ اگر آپ منٹس دیکھ لیں تو پاکستان تحریک انصاف نے فائنل الیکٹورل ایکٹ یہ پاس ہوا تھا تو تب سے ہم نے اس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ میں ان تمام چیزوں کے پیچھے چھپنا نہیں چاہتا ، میرا یہ ماننا ہے کہ 62، 63 مہذب معاشروں میں کسی نہ کسی فارم میں ایگزیسٹ کرتی ہے ، یہ ہمارے ہاں المیہ ہے یہاں کہ ہمیں قانون کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ شقوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں وہ تمام پارلیمان جو اس پروسسز کا حصہ تھے ۔ میں اس حق میں ہو کہ اگر آسکتا ہے تو پرانا فارم آجائے۔

سوال: یہ معاملہ کہاں سے شروع ہوا ؟ جب حکمران آرٹیکل62 ، 63 ختم نہیں کرسکے تو خاموشی سے کاغذات نامزدگی میں ایسی چیز کردی کہ بندے کا کچھ پتہ ہی نہیں کہ کیا کرتا ہے کیا نہیں کرتا ہے ۔

ن لیگ کے رہنما صدیق الفاروق: پہلی بات تو یہ ہے کہ جو حق پارلیمان کا ہے وہ کسی اور کو تو نہیں دیا جاسکتا ہے ۔اب یہ کہنا ہے کہ انھوں نے فارم دیکھا نہیں ہے ۔ فارم دیکھنے کی ذمہ داری بھی انہی کی ہے۔ قانون موجود ہے ، جو فیصلہ پارلیمان نے کردیا ۔ اور اس پر سپریم کورٹ نے ایک سنگل بینچ نے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو جو روک دیا تھا انہوں نے کالعدم قرار دے دیا۔ ہم نہ پارلیمنٹ ہیں نہ سپریم کورٹ ہیں ۔ جنہوں نے یہ سب چھپایا ہوا تھا ان کے بھی سب معاملات آئے سامنے اور سب فارغ ہوگئے ہیں کچھ جائز اور کچھ ناجائز ۔ جو قانون پارلیمان نے بنایا ہے جو فارم بنایا ہے وہی چلے گا۔ باقی سوال آپ نے کرلیے ، آپ نے بھی ٹاک شو کرلیا ، انھوں نے بھی بات کرلی ہے ۔ اس کی حیثیت کوئی نہیں ہے۔

سوال: کیا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ پارلیمان نے اس پر مہر لگادی ہے۔

جنرل (ر) امجد شعیب: مثال کے طورپر پارلیمنٹ یہ کہے کہ آدھا پاکستان فروخت کرنا ہے قانون بنا دے تو آپ قبول کرلیں گے ، ایک روح ہے جس کے تحت پارلیمنٹ نے کام کرنا ہے ۔پارلیمنٹ نے قانون بنانے ہیں عوام کے لیے ۔ عوام کی فلاح کے لیے اور عوام کو بہتر طرح سے چلانے کے لیے ۔ نہ کہ ملک کا نظام ایسے لوگوں کے حوالے کرنے کے لیے قانون بنادیے جائیں جو ان کو سوٹ کرتا ہو اور اس میں تمام مشکوک لوگ آجائیں یا ایسے لوگ آجائیں جو کہ جرائم پیشہ ہوں۔

سوال: ضرورت کیوں پیش آئی ، اس سے پہلے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن ہی تیار کرتا رہا ہے اور آخری دفعہ بھی اسی نے کیا تھا ۔

ن لیگ کے رہنما صدیق الفاروق: لیجسلیشن وہ پارلیمنٹ کااپنا استحقاق ہے ،آئین اس کو دیتا ہے ، اب الیکشن کمیشن کے رولز بھی اگر امنٹ کرسکتی ہے تو پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے ۔ اگر پارلیمنٹ کی ساری پارٹیوں نے یہ محسوس کیا ہے ۔ ححسو

جنرل (ر) امجد شعیب: پارلیمنٹ کے استحقاق کو یہ طول دیتے ہیں ۔ استحقاق ان کا ہم نے ان کو سونپا ہے ۔ اور ہمارے مفاد کےلیے سونپا گیا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ پارلیمنٹ اپنی مراعات بڑھا لیں۔ خود غرضی کی بھی انتہا ہوتی ہے ۔ پارلیمنٹ بلکل سپریم بھی ہے لیکن اس حدتک جب تک وہ آئین کی روح کے مطابق قوانین پاس کرے۔

سوال: آپ عوام کو کیا میسج دے رہے ہیں کہ کوئی کرمنل بھی ہوگا ، کسی کے پاس اقامہ بھی ہوگا ، سب کو اٹھا کر بھرتی کرلیں گے کہ پارٹی سپرئیر ہے۔

عثمان ڈار: اقامہ کا جس نے آپ نے ذکر کیا ۔ اور سابق وزیر خارجہ کے  جو معاملات تھے وہ قوم کے سامنے بھی رکھے عدالت کے سامنے بھی رکھے ۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ فارم کو پہلے ایمپروف ہونا چاہیے تھا ۔ جو پہلے سے ایگزیسٹ کر رہا تھا ۔ پاناما میں جب مریم بی بی کا ڈیپینڈیٹ کے کالم میں نام آیا تھا ۔ تو میاں صاحب کہنے لگے کہ میں ان کو کہاں لکھتا ،اس لیے وہاں پر کوئی گنجائش نہیں تھی اس چیز کو ایمپروف کرنے کی ضرورت تھی ۔ میں اگر ذاتی طور پر پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا تو ضرور اس کو پوز کرتا ۔ ہم لوگ یا پارلیمان عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارا صادق و امین ہونا بہت ضروری ہے۔