نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سینیر تجزیہ کار صالح ظافر ، جنرل (ر) امجد شعیب اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

الیکشن 2018 ،جنرل الیکشن 2018 جس کی تاریخ کا بھی باقاعدہ طور پر اعلان ہوچکا ہے الیکشن کمیشن نے سمری بھجوائی صدر نے دستخط کردیے اور اناؤسمنٹ ہوگیا 25 جولائی کو پاکستان میں جنرل الیکشن ہونگے پھر کیا وجوہات ہیں کہ ابھی بھی انسیڈینٹی ہے ابھی بھی آوزیں آرہی ہیں اور ابھی بھی یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا 25 جولائی کو الیکشن ہونگے یا نہیں ہونگے۔

ہمیں یاد ہے جب سینٹ کے الیکشن ہونے تھے تو اس وقت بھی اسی قسم کی خبریں تھی۔ قوتیں ہیں وہ الیکشن نہیں کروانا چاہتی سینٹ کے الیکشن نہیں ہونگے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ سینٹ کے الیکشن بھی ہوئےوہ جس طرح سے ہوئے جس طرح سے چیئرمین سینٹ آئے اس میں اپنے الگ سوالات ہیں ابھی تک موجود ہیں جس کے جوابات بھی شاید ابھی تک کہیں نہیں آئے۔ تو اس کو لے کر جب یہ انسیڈینٹی تھی ایسی انسیڈینیٹی کے دوران اگر کسی اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کردی جائے تو پھر ڈیفینٹلی اس انسیڈینٹی میں آپ کا کچھ اور پلاس کردیں کہ یہ شکوک و شبہات جو  ہیں اس کو ایک ہوا ملنا شروع ہوجاتی ہے ہم نے دیکھا بلوچستان اسمبلی میں آج یہ قرارداد پیش کی گئی میں مختصراس کا متن آپ کے سامنے رکھ دوں جس میں بلوچستان اسمبلی عام انتخابات التواع کے حق میں اور اس میں کہا 25 جولائی کی بجائے اگست کے آخری ہفتے میں کروائے جائیں کیونکہ جولائی میں عوام کی اکثریت فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے ملک سے باہرہوگی اور اس طرح وہ اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوجائیں گے۔

جولائی میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے اکثر اضلاع میں سیلاب کی صورتحال ہوی ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں لہذا ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ عام  انتخاب اگست میں کروائے جائیں۔ یہ تو تھی وہ بلوچستان اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے جو تحافظاد ہیں جو انہوں نے قومی اسمبلی میں تحافظات کا قرارداد کا پیش کیا انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کی جانب سے وعدے کیے گیے تھے مردم شماری اعداد و شمار کے پانچ یصد کا تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرایا جائے گا کے انعقاد کو یقینی نہ بنانے پر حکومت سے شدید احتجاج کرتا ہے اور متنبہ کرتا ہے کہ ایوان مردم شماری کے اعدادو شمار کو بغیر آڈٹ کے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ جو اسنزز کا مسئلہ ہے جو ڈیوارکیشن کا مسئلہ ہے جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیسز جانے کا مسئلہ ہےجس پر انہوں نے اس کو مطالعہ  کیا اور اب یہ کہا کہ جو ڈیماریکشن ہوئی تھی کہ دوبارہ سے ہوگی تو ایسی ایک نہیں کئی اینریکیشنز جو ہیں وہ الیکشن کمیشن کے پاس ہیں لیکن الیکشن کمیشن تاحال بضد ہے کے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہم سب کر لیں گے۔ الیکشن ٹائم پر ہوں گے کیا واقعی اسی پر ہم بات کریں گے۔

سوال: 25 جولائی 2018 کو پاکستان میں نئے انتخابات ہوں گےکیا واقعی ؟

کنور دلشاد: دیکھیں جی آپ نے انٹروڈکشن مارچ میں بڑی بڑی شخصیات کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اپنی خدشات کا بھی زکر کیا ہے کہ بھئی انتخبات وقت پر نہیں ہوں گے باعس کہتی ہیں وقت پر ہوں گے دیکھیں ہمارا پوائنٹ آف یو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی تیاری مکمل رکھی ہوئی ہے تمام ٹرینگ بھی ہوگئی ہیں تمام جو انتظامی معملات ہوتے ہیں اس کے اوپر پوری الیکشن کمیشن کی تیاری مکمل ہے لیکن اس میں سب سے بڑا ایک قانونی پوائنٹ یہ پیش آگیا کہ جو ہماری حلقہ بندیاں تھی۔ تو حلقہ بندیاں ہمیشہ ہوتی ہیں  متنظہ لوگوں میں درخواست آتی رہتی ہیں جب بھی ہمارے حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔ لیکن اس دفعہ ہماری الیکڑو حسٹری میں صالح ظافر صاحب بھی ہمارے ساتھ رہے ہیں اس ہی بات کو بتاعد کریں گے۔

لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کبھی بھی چیلنج نہیں ہوئی ہماری ہائی کورٹ میں کبھی چیلنج نہیں ہوئی کبھی اعلاہ اگالیہ میں کبھی کوئی نہیں گیا الیکشن کمیشن تک رہا۔ جو الیکشن کمیشن نے اپنی حلقہ بندی کا نوٹیفیکشن کردیا تو معملہ ختم تو باقی لوگوں نے اپنی انتخاب کی تیاری شروع کردی اب یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ادھر سے انہوں نے نوٹیفیکشن کیا 5 مئی کو حلقہ بندیوں کے اوپر قانون یہ کہتا ہے کہ جب یہ حلقہ بندیوں کے بارے میں جب یہ الیکشن کمیشن اپنا حتمی غزر نوٹیفیکشن جاری کردے تو اس میں اپیل  نہیں ہوتی لیکن پو ڈیشن ہوسکتی ہے آرٹیکل ون۔

نادیہ: ٹھیک ہے یہ جو شکایت ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ تک پوچھی ہیں یہ جو پوٹیشنز ہیں یہ سبب بن سکتی ہیں الیکشن کے پی میں؟

کنور دلشاد: اس لیے میں بتا رہا ہوں اب جیسے کہ پرائم منسٹر صاحب بھی اشارہ کرتے رہتے ہیں ہر کانفرنس میں کے ہمیں عدلیہ کی طرف سے بھی ہمارے کاموں میں بھی رکاوٹ پڑتی رہتی ہے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے معملات میں بھی ہماری عدلیہ بڑی وضاحت کرتی ہے۔ انڈیا میں یہ ہوتا ہے جس وقت آپ کی الیکشن کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں تو کوئی انڈیائی کورٹ جو ہے اس پر چلینج کر ہی نہیں سکتا وہ ایکسیپڈ ہی نہیں کرتے اب ہمارے یہاں یہ ہوگیا انہوں نے ایک آرڈر کردیا اب آرڈر جو کیا ہے وہ 8 ضلع ہیں حلقے نہیں ہیں 8 ضلعوں کی جو ہیں حلقہ بندیاں وہ انہوں نے کارزم قرار دے دی اسی طرح 4 ضلعے لاہور ہائی کورٹ میں ہیں انہوں نے بھی قرار دے دی۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے   ۔

سوال: جن حالات کا خدشات پولیٹیکل لیڈر شپ کرتی رہی ۔ کیا یہ اسی کا تسلسل ہے کہ جو اب چیزیں سر اٹھارہی ہیں؟

 صالح ظفر: الیکشن کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا آپ ان کو ارریلیونٹ نہیں کہہ سکتے ۔ اس کی کئی نہ کوئی وجہ اور جواز موجود ہے ۔ ڈیڑھ سو پٹیشن اس وقت پینڈنگ پڑی ہیں ۔ ابھی دو پٹیشنز پر ایکشن ہوا ہے۔ اور اگر ان سب پیٹشنز کو ڈسپوز آف کیا گیا تو میں نہیں سمجھتا کہ الیکشن جو ہیں وہ ایک سال تک بھی ممکن ہوسکیں گے۔ جہاں تک بلوچستان کی اسمبلی کی بات ہے یہ مضحکہ خیز قرار داد ہے ۔ بلوچستان اسمبلی اس وقت انہی کے انگھوٹوں کے نتیجے میں ہے جو دور سے بیٹھ کر آپ کو انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ وہ اگر آپ جاننا چاہتی ہیں تو آپ کو تھوڑی سے ہمت کرنی پڑے گی ۔ انھوں نے یہ کہا کہ جولائی کے آخر میں لوگ ۔ حج پر گئے ہوں گے۔ ساتھ میں تجویز بھی دے دی ہے  کہ اگست میں الیکشن کرائے جائیں ۔

اگست میں تو یہ بات آجائے گی کہ اگست میں تو محرم الحرام ہوگا۔ تو پھر کہیں گے کہ اگست میں محرم الحرام ہے اس لیے بہتر ہے کہ اور کسی موسم میں الیکشن کرائے جائیں۔ اور الیکشن کے  بارے میں آج پرائم منسٹر شاہد خاقان عباسی نےآج صبح یہ کہا ہے کہ اس میں ایک دن کا ڈیلے بھی انوائیٹ کرے گا کونسٹی ٹیوشن سکس کو اوک کرنے کے لیے اور یہ آئین اور ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔ اور جب آپ نے ایک دن کے ڈیلے کے لیے بھی ایگری کرلیا تو پھر ایک سال کے لیے بھی ڈیلے ہوجائےگا۔ پھر دس سال کے لیے بھی ڈیلے ہوجائے گا اور اس کے بیچ میں جو کچھ ہوگا اس کے بارے میں کسی قسم کا خدشہ ظاہر کرنا اچھا نہیں لگتا ۔

سوال: یہ بہت اسٹرونگ اسٹیبلش ہے کہ جس طرح سے بلوچستان اسمبلی ڈیزولف ہوئی جس طرح سے وہ نئی بنی اور جس طرح سے چئیرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا اور جس طرح سے یہ تمام چیزیں ہوئیں کہاں یہ جاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سے آرڈرز آتے ہیں تو بلوچستان اسمبلی آگے ان چیزوں کو لیکر آتی ہے۔ تو یہ وہ لوگ ہیں جو ڈگ ڈگی بجا رہے ہیں ۔ کون ہیں جو نہیں چاہتے کہ اس ملک میں الیکشن ہوں۔

جنرل (ر) امجد شعیب: بلوچستان کی گورنمنٹ یا ان کی اسمبلی جس نے قرار داد پاس کی وہ ایک قرار داد ہے اگر اس کو الیکشن کمیشن ریجیکٹ کرے تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اور قرارداد میں اگر ایک مہینے کی ڈیلے کی بات ہے تو انھوں نے یہ تو نہیں کہا کہ الیکشن ہمیشہ کے لیے پوسپونڈ کردیں۔ تو نہ تو کوئی قانونی پابندی ہے الیکشن کمیشن پر اور نہ ہی وہ اس نوعیت کی ہے ۔ ان کے اپنے خدشات ہیں جن کو رد کیا جاسکتاہے ۔ اگر ان کو کوئی بہت زیادہ خدشہ ہے تو وہ عدالتوں میں رجوع کرتے وہ تو انھوں نے کیا نہیں ۔ اصل قصہ ان کا بلوچستان اسمبلی کا نہیں ہے ۔

اصل پرابلم حلقہ بندیوں والی ہے ۔ اور حلقہ بندیوں کو درمیان اور عدالتوں کے درمیان ہے ۔ الیکشن کمیشن کو اس پر ریاکٹ کرنا چاہیے ۔ میں اس چیز کو تسلیم کرتا ہوں کہ الیکشن میں ڈیلے نہیں ہونا چاہیے ۔ ڈیلے اگر یہ کسی تکنیکی وجہ سے ہوتی ہے تو بھی ہفتہ، دس دن سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کو فیصلہ الیکشن کمیشن سے کروانا چاہیے ۔ عدالت میں وہ بھی جائیں ۔ وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ جا سکتے ہیں۔ اور ان کو کہہ سکتے ہیں کہ اس سے ہمارا نظام خراب ہوجائے گا۔ اور اس سے ہمارے الیکشن کے اوپر اثر پڑے گا لہذا ہمیں اجازت دی جائے کہ جو فیصلہ بھی الیکشن کمیشن نے کیا ہے۔ اس کو اسٹرک کیا جائے ۔ میرے خیال سے وہاں سے ان کو مل جائے گا۔ اور الیکشن وقت پر ہونا چاہیے ۔

جہاں تک صالح ظافر کہہ رہے ہیں ان کے خدشات ہیں ، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی پچھلے پانچ سال میں کالے کرتوت چھپانے ہوتے تھے تو سول ملٹری کھاتا کھول دیا جاتا تھا ۔ آج تک اس میں سے کچھ نہیں نکلا ہے۔ اور کالے کروتوتوں سے توجہ ہٹ جانے سے آپ کی ڈیموکریسی کمزور ہوئی ہے ۔ اگر ڈیموکریسی ٹھیک کرنی ہوتی ہم نے تو ہم ضرور لوگوں کی پرفارمنس کا ذکر کرتے اور جو کچھ ملک کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے اس کی بات کرتے ۔ اس کے بجائے ہم نے ہر ایشو پر یہ کیا کہ وہ شاید خلائی مخلوق کی طرف سے الزام آگیا ۔ کسی اور کی طرف سے اور کچھ آگیا۔ یہ چیزیں ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اپنے کام کو دیکھیں اس کو بہتر کریں ۔ آپ عدالت میں جائیں اور سپریم کورٹ میں جاکر الیکشن کمیشن کو پیش کرے ۔ اپیل کرے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اور وہاں سے سو کرائے ۔

سوال: اگر الیکشن کسی وجہ سے ڈیلے ہوئے وہ اس کی وجہ سے ہوں گے جو مردم شماری کے رزلٹ کمپائلڈ نہیں ہوئے یا پھر حلقہ بندیوں کا ایشو ہے۔ جنرل صاحب نے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کو اس پر کوئی اعتراض ہے اور الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ عدالت انٹروین کرے تو سپریم کورٹ جائے معاملہ سالٹ آؤٹ کرلے ۔ اتنا سادہ ہے معاملہ ؟

کنوردلشاد: الیکشن کمیشن نے آج اس پر اپنا عندیہ بھی دیاہے ۔ کہ ہم اس کی اپیل کرنے کے بارے میں سوچ رہےہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کو۔ سب سے بڑی بات کیا ہے ، بات یہ ہے کہ حلقہ بندیوں میں جو خامی پیدا ہوئی جس پر صالح صاحب نےبھی کہا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زیادہ درخواستیں پینڈنگ میں ہے ۔ ہم نے بھی کراچی اور لاہور سے پتہ کیا تو وہاں بھی تمام تیس اضلاع کی حلقہ بندیاں  عدالتوں میں چیلنج ہیں۔ چھ حلقے تو بلوچستان کے ہیں۔ یہ تمام دیکھا جائے تو کوئی پچیس سے تیس اضلاع چیلنج ہوگئے ہیں۔ اور الیکشن کمیشن بڑے دہرائے پر کھڑا ہوگیا ہے اور اب یہ معاملہ ہوگیاہے کہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے تو کہیں کہ ہم آپ کی بات نہیں مانتے ۔

جنرل (ر) امجد شعیب : ابھی بھی میری رائے یہ ہے کہ الیکشن کمیشن ایک دوسرا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے کہ تمام پویلیٹیکل پارٹیز کے نمائندوں کو بلا کر ان کے سامنے صورتحال رکھے اور ان کو کہے کہ اگر آپ نے پٹیشن چلائی رکھنی ہے تو پھر ڈیلے کرنی پڑے گی ۔اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ وقت پر الیکشن ہوں تو مہربانی کرکے یہ پٹیشن ود ڈرا کریں ۔ جو انھوں نے آبادی کا اعتراض کیا ہے تو کراچی کی آبادی کا غالبا یہ ایشو تھا کہ انھوں نے شہری اور جو غیر شہری آبادی ہے اس کے تناسب میں فرق بڑا ہے۔ کراچی کے جو مضافاتی علاقے تو وہ شہری آبادی میں شامل تھے وہ بڑھ گئی ہے ۔

انھوں نے دیہی اور شہری علاقے الگ کیے ہیں۔ مضافاتی علاقے باہر نکالنے سے آبادی کا فرق پڑا ہے ۔ یہ چیزیں شماریات والوں کو سامنے رکھنی چاہیں۔ میری سوچ یہ کہتی ہے کہ الیکشن کے ڈیلے سے بچنا چاہیے ۔ جو ڈیلے ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کی جو کئیر ٹیکر گورنمنٹ ہوگی وہ زیادہ وقت لے گی ۔ کئیرٹیکر گورنمنٹ کے اختیارات لمیٹڈ ہوتے ہیں اس سے ملک میں کئی مسائل جنم لیں گے۔  اس سے بہتر ہے کہ آپ پٹیشن اپنی واپس لیں ۔ الیکشن وقت پر کرالیں آپ کا سسٹم آگے چل سکتا ہے۔

صالح ظفر: بات یہ ہے کہ جو ایشو پیدا ہوا ہے یہ ہے پولیٹکل نیچر کا اس کی ابتدا ہوئی سیاسی اختلافات کی بنیاد پر۔ جہاں تک کراچی کی بات ہے وہاں پیپلزپارٹی اردو بولنے والے طبقات ہیں ان کے درمیان جو مناشفہ چل رہا ہے یہ کراچی کا مسئلہ وہاں سے پیدا ہوا ہے ۔ اب یہ ممکن ہی نہیں ہے جس طرح سے جنرل صاحب کہہ رہے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو بلایا جائے اور ان سے کہا جائے کہ وہ اس پر ایگری ہوجائیں جب تک ان کے درمیان آپس میں افہام و تفہیم نہیں ہوتی جو کہ نہیں ہوسکتی کیوں کہ پیپلزپارٹی یہ چاہے گی کہ یہ جو اس وقت ڈی ایمیلیٹیشن ہوئی ہیں اسی کی بنیاد پر وہاں پر انتخابات ہوجائیں اور ایم کیو ایم اور اردو بولنے والے یہ نہیں چاہیں گے کہ اس کی بنیاد پر یہ انتخاب ہوں تو یہ دو بیسک وہاں پر فریق ہیں ۔اس کے لیے اگر سپریم کورٹ کی طرف جاتے ہیں تو سپریم کورٹ کا جو چلن ہے وہ آپ نے سامنے ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے جو سیاسی مقدمات ہیں ان کی یقینا ان کی ترجیح ہے ۔ یہ جو معاملہ ہے اس کے لیے تو کہیں سے دعائے خیر ہوگی تو شاید ممکن ہے کہ یہ الیکشن کے لیے سپریم کورٹ کہہ دے۔

یہ جو لوگ اس صورتحال کو استعمال کرتے ہیں تو وہ سیاسی معاملات کو ہی اپنے رنگ میں ڈھالتے ہیں اور اس کے بعد اس کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب مل جل کر غلطیاں پیدا کی گئیں ہیں۔ یہ غلطیاں کسی ایک فرد کی نہیں ہے یہ سب نے مل جل کر پیدا  کی ہیں۔ اگر 5 پرسنڈ یہ آڈٹ کروا دیتے تو یقینی طور پر اس کے بعد یہ ابھی میں آپ کو خبر دے رہا ہوں یہ مسئلہ یہاں اگر یہاں آپ طے بھی کر لیں گے ابھی ریٹرنگ افسر کی جو اپوائنٹمنٹ وہ بھی چیلنج ہونے والی ہے یہ الیکشن کے لیے اس ایفٹ کو اسکٹل کرنے کے لیے پورا منصوبہ موجود ہے ۔ یہ اندازہ کریں آج تحریک انصاف کو پتا چلا ہے ناصر کوسا صاحب جو ہیں وہ شہباز شریف کے بھی پرنسپل سیکٹری رہے ہیں اور نواز شریف کے بھی رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس جج نے نواز شریف کو ایک متنازع فیصلے کے لیے ڈیسکولیفائی کیا تھا وہ اس کے بھی سگے بھائی ہیں یہ سب کو الامتے ہیں اب آپ دیکھیے نہ کے پی میں کیا ہوا وہاں پر بھی چیف منسٹر اور بیک آؤٹ کر گئے۔

نادیہ: دیکھیے صالح صاحب آپ یہ کہہ رہے ہیں اگر یہ نہیں ہوتا تو کچھ اور ہوجاتا مگر یہ جو ہوا ہے یہ حکومت وقت کی وجہ سے نیگلیجنس ہیں یہ 5 فیصد کی بات جو آج ایم کیو ایم قرارداد پیش کر رہی ہے یا پھر جو سینٹ میں 42 دن پیپلز پارٹی نے زایہ کیے یہ سیاسی جماعتوں نے اور سیاسی حکومتوں نے کیا۔

صالح ظافر: گزارش یہ ہے یہ جواب تو گورمنٹ دے گی یہ جواب پیپلز پارٹی دے گی لیکن جو بدیو نظر میں جو چیزیں نظر آرہی ہیں وہ میں آپ کو عرض کررہا ہوں کل حکومت کا آخری دن ہے کل آپ دیکھیے گا چیزیں کس طرح فولٹ ہوتی ہیں یہ قدم بہ قدم آپ کو 15 سے 20 دن میں پتا دل جائے گا۔

نادیہ: اچھا ایک اور بڑی خبر صالح ظافر صاحب یہاں پر دے رہے ہیں کہ ابھی ریٹرنگ افسر کی بھی تعناتے بھی چیلنج ہونگی وہ کون کرے گا؟

صالح ظافر: وہ تو چیلنج کرنے والے ہیں کریں گے اور کرنے والے کرایں گے

امجد شعیب: یک پروگرام میں میرے ساتھ تھے بلال محبوب بھی اور تاثر انہوں نے یہ دیا اور کامران شاہد کا پروگرام تھا جو پورا چلتا رہا اسی ٹاک شو پر کہ ایک سروے کی بنیاد پر ایسا ہوا تبھی انہوں نے پرسنٹ ٹیج اس میں رکھی ہیں بڑے مکارانہ طریقے سے وہ کامران یہی کہتے رہے کہ یہ سروے ہوا اتنے لوگوں نے یہ کہا اس میں اور بعد میں اینڈ پر سروے نہیں کیا یہ تو میری اپنا تجزیہ ہے ۔ تو یہ تمھارا تجزیہ کیسے ہے ہم جانتے ہیں کہ تم ریلائبل آدمی نہیں ہو اور ہم جانتے ہیں تمھارا تعلق کس سے ہے ۔ پھر وہ آئیں بائیں کرنے لگے اور یہ کچھ تھوڑا سا آپ کو تھوڑا بہت کنور دلشاد نے بتایا ۔