نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ایم کیو ایم کے رہنما ساجد احمد، مسلم لیگ ن کے رہنما قیصر احمد شیخ ، پیپلز پارٹی کے رہنما عاجز دھامڑا اور پی ٹی آئی کے رہنما افتخار درانی سے  خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

سیاسی دنگل کا آغاز ہوا جاتا ہے اور آج رات بارہ بجے کے بعد کون ایم این ایز تھا  ، کون وزیر اعظم تھا کس کے پاس کیا عہدہ تھا ، کس کے پاس کون سی وزارت تھی ۔ ایک اور سیاسی اور جمہوری حکومت جس نے اپنے پانچ سال پورے کیے اور آج یہ اس کا آخری دن ہے۔ آج رات بارہ بجے اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔ اللہ اللہ کرکے نگراں وزیر اعظم کا فیصلہ تو ہوگیا اور اللہ اللہ کر کے کنسینسز سے ہوگیا۔ اسی کنسینسز سے جس سے خواہش کی جارہی تھی کہ نگراں وزیر اعظم کا جو بھی انتخاب کرے وہ لیڈر آف دی اپوزیشن کرے یا اپوزیشن لیڈر آف دی ہاوس کرے یہ تو ہوگیا۔ معاملہ اب اسمبلیوں کا ہے ۔ پہلے بات کرتے ہیں سندھ اسمبلی کی لیڈر آف دی ہاوس اور اپوزیشن لیڈر میں کسی نام پر کنسینسز ڈیویلپ نہیں ہوسکا ہے ۔

پھر کے پی کے جنہوں نے شروع میں نام دے دیا تھا لیکن پھر ان کی ملاقاتیں بھی ہوگئیں وہ شخصیت بنی گالہ بھی چلے گئے اور اس کے بعد آیا کہ عوام نے نو نو کہا تو ہم پیچھے ہٹ گئے اور وہ اب نہیں ہیں ہم نے نیا نام لینا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کی بھی یہی بات ہے کہ ایک نام دے دیا گیا کنسینسز ڈیویلپ ہوگئے پھر ہوا کہ جلد بازی میں فیصلہ ہوگیا ۔ بڑی عجیب سی بات ہے کہ وہ جماعت جو پارلیمانی جماعت ہے وہ جماعت جو الیکشن لڑتی ہے اور حکومت کرچکی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ جلدبازی میں ہوگیا۔ تو یہ چیز سمجھ سے بالا تر ہے۔ بلوچستان اسمبلی اس لیے  بھی سب سے آگے ہے اس نے قرارداد پاس کی ہے کہ الیکشن کو ایک مہینے آگے بڑھا دیا جائے۔ تمام پولیٹیکل پارٹیز کے یہ کنسینسز ہیں کہ الیکشن شفاف اور وقت پر ہوں۔

سوال: کیا آپ کو لگ رہاہے کہ حالات ایسے ہی جیسے آپ نے سوچا تھا کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں ، صاف شفاف الیکشن کی طرف ٹائیملی جارہے ہیں؟

قیصر احمد شیخ: ہم پانچ سال سے سن رہے تھے کہ اب حکومت یہ جارہی ہے یہ اسمبلی ٹوٹ رہی ہے ۔ مسلم لیگ ن میں کوئی دراڑ پڑ رہی ہے ۔ یہ افواہیں چلتی رہتی ہیں۔ میرا خیال ہے پاکستان افورڈ ہی نہیں کرسکتا اگر ایک دن بھی الیکشن ڈیلے ہو تو بہت بڑا یہ سانحہ ہوگا، پوری دنیا میں جہاں ڈیموکریسی ہے ، امریکا کو دیکھ لیں ایک ہی دن میں الیکشن ہوتا ہے ۔ کبھی طوفان آجائے آندھی آجائے الیکشن کبھی چینج نہیں ہوئے ۔ آج اسمبلی میں آخری دن تھا ہم نے تقاریری کیں۔ اب تک ہر چیز آئین کے مطابق چل رہی ہیں۔ جو الیکشن کمیشن نے کہاکہ وہ کل سے الیکشن کا اسکیجوائل دے دیں گے اور پھر دو دن میں نومینیشن شروع ہوجائیں گی ۔ میڈیا کی پروجکشن بہت غلط ہے ، مثلا ابھی چنیوٹ کا واقعہ ہوا میڈیا نے اسکو اتنا اچھالا کہ میاں شہباز شریف وہاں گئے کوئی ایم این اے ، ایم پی اے نہیں تھا ، خالی کرسیاں پڑی ہوئی ہیں۔ ہوا یہ کہ پولیس نے ان کو دو منٹ کے لیے روکا وہ لیٹ ہوگئے۔

عاجز دھامڑا: کنسینسز ہوتے ہیں اس لیے ہیں کہ یہ نا ہو ایک دن نام دیا اور اگلے دن کہا کہ غلطی ہوگئی اور پھر واپس لے لیں اس سے پھر عوام کے سامنے اور آپ کے چینلز کے سامنے جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔ دانشمندانہ فیصلے ہونے چاہیں آپ ایک نگراں سیٹ اپ بنانے کے لیے سیرئس نہیں ہیں تو آگے چل کر آپ نے حکومتیں کرنی ہیں اور اس میں اللہ نہ کرے ایک نگراں حکومت کے لیے کوشش کرنے والی پارٹی کہتی ہے کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے تو الیکشن سر پر ہیں۔ اس لیے ہمارے صوبے میں دیر ہورہی ہے۔ ہم وہ کام کرنے جارہے ہیں کہ جو ٹائم آئینی طور پر ریکوائرڈ ہے اگر کینسینسز نہیں ہوا تو ایک کمیٹی بنے گی۔ اگر کنیسنسز ڈیویلپ نہیں ہوا تو معاملہ کمیٹی میں جائے گا اور اس سے پہلے کنسینسز جاری ہیں۔

ساجد احمد: پڑسوں تک خواجہ اظہار الحسن انتظار کر رہے تھے سی ایم کا لیکن انہوں نے کوئی کال نہیں کی ۔ دوبارہ سے اب ایک پراسس اسٹارٹ ہوا ہے ۔ چار ، پانچ نام ہمارے طرف سے ہے اور اتنے ہی ان کی طرف سے ۔ کسی کو بننا تو ہے کیوں کہ صوبائی اسمبلی تو 28 کو ختم ہوگئی۔ قومی اسمبلی آج ختم ہورہی ہے۔ ابھی بات چیت چل رہی ہے ۔ جیسے پنجاب کے اندر ہوا کہ دونوں جماعتیں ایک نام پر متفق ہوگئے اور پھر دونوں جماعتیں منتشر ہوگئیں۔