نادیہ مرزا کا مئیرکراچی وسیم اختر کے ساتھ خصوصی انٹرویو

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مئیرکراچی وسیم اختر کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

2018 عام انتخابات کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان ہوچکاہے۔  ملک بھر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں لیکن اگر میں بات کروں کراچی کی تو جو روایتی سرگرمیاں ہیں جو کراچی کی پہچان ہیں وہ ہمیں نظر نہیں آرہی ہیں اور جب بات ہوتی ہے کراچی کی تو ساتھ ہی بات ہوتی ہے کراچی کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم کی اور شاید ایک یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم اس جن حالات سے دوچار ہے ۔ ایم کیو ایم کی طرف سے ایک بات کلیئر ہے بہت بڑی تبدیلی ہے کہ اس دفعہ جب الیکشن میں ایم کیو ایم اترے گی ۔ تو اس کے سرپر اس کے قائد نہیں ہوں گے یہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی کراچی کی سیاست میں ۔

سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ آ پ وہ کر پائے جو آپ کرنے آئے تھے ؟ کم از کم اتنا ڈیلیور کردیا ہے کہ آپ عوام میں جاسکیں؟ سر اٹھا کر دوبارہ ووٹ مانگ سکتے ہیں؟

وسیم اختر: کراچی کی جہاں تک بات ہے اور اس مینڈیٹ کی بات ہے جس نے ہمیں کاونسل میں بھیجا ہے ۔ مجھے جو آخری بجٹ 17-2016 کا ملا تھا آنے کے بعد وہ پیپلزپارٹی کا دیا ہوا تھا ۔ بجٹ میں جو میں اسکیم دی تھیں اللہ کا شکر ہے میں نے پچاس فیصد پورا کرچکا ہو ۔ جو فنکشن میرے پاس ہیں گراؤنڈ پر کام ہو رہا ہے ۔ مگر جو ایشوز ہیں کراچی کے ۔ سب سے بڑا پانی کا ایشو ہے ۔ دوسرا ایشو ہے کراچی میں سیوریج ، سیوریج اور پانی واٹر بورڈ کے پاس ہے یہ محکمہ سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے دس سال سے ۔ آج بھی ان کے پاس ہے ۔ جہاں سڑک بناتا ہوں اگر وہاں سڑک کے نیچے سیوریج کا ایشو ہے تو میں کے ایم سی کا پیسہ سیوریج پر لگا رہا ہوں ، مگر فنکشن نہیں ہے میرا۔ اسلیے لگاتا ہوں کہ اگرسڑک بناتا ہوں تو وہ بیکار ہوجائے گی۔ اس کے بعد جو عوام کی ضرورت ہے وہ سیوریج ہے تو اس کی لائینیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ میں کر رہا ہوں۔ جہاں تک پارکس کا معاملہ ہے ، پارکس بہتر ہو رہے ہیں، سڑکوں کی لائٹس بہتر ہورہی ہیں۔

انڈر پاس پیڈسٹرن بیریج ہم نے بنانے شروع کیے ہیں۔ جو میرے فنکشن ہیں وہ میں پچاس سے ، ساٹھ فیصد حاصل کرچکا ہوں۔ اس کا ریزن یہ ہے کہ مجھے جتنے ڈیپارٹمنٹ دیے گئے تھے ۔ باقی سب سندھ گورنمٹ نے اپنے پاس رکھے ۔ اور جو فنکشن مجھے دیے تھے وہ نوٹی فکیشن کے بعد ان میں سے بھی مجھ سے کچھ لے لیے گئے۔ جو فنکشن میرے پاس ہیں اس کے ڈیپارٹمنٹ مجھے بہتر کرنے پڑے۔ مجھے سارے ڈیپارٹمنٹ اجاڑ کر دیے گئے تھے۔ ایڈمنسٹریشن رن کر رہے تھے کسی کو دلچسپی نہیں تھی کراچی کے ایشوز حل کرنے کے۔ مجھے زیادہ ٹائم ڈیپارٹمنٹ کو بہتر کرنے میں لگ رہا ۔ جب تک میں ڈیپارٹمنٹ بہتر نہیں کروں گا میں بہتر ڈیلیور نہیں کرسکتا ۔ مجھے کام نہیں کرنے دیا جاتا ہے۔

سوال: بحیثیت عوام میں آپ کو ووٹ کیوں دوں ؟ جب آپ کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔ میں اس کو ووٹ کیوں نہیں دوں جس کے پاس اختیار ہے ؟

وسیم اختر: مجھے خوشی ہے کہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں جو لوگ رہتے ہیں وہ لوگ ان ایشوز سے آگاہ ہیں۔ ان کی نالج میں ہے اور وہ باشعور ہیں۔ جہاں تک کام کا معاملہ ہے تو ووٹ کام پر ہی ملنا چاہیے ۔ جو ڈیلیور کرے اس کو ووٹ ملنا چاہیے ۔ لیکن کراچی کی پولیٹکس ڈائینامکس جو ہیں وہ پیپلز پارٹی نے بدل کر رکھ دیے ہیں۔ دس سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے سندھ میں ، لاڑکانہ تباہ ہوچکا ہے ۔ سہون تباہ ہوچکاہے ، دادو ، میرپور خاص م، سکھر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکاہے ۔ حیدرآباد کا ستیاناس ہے ، کراچی کا ستیاناس کردیا ہے ۔ ان لوگوں نے ۔ تو کیا کراچی کی عوام پیپلزپارٹی کو ووٹ دے گی۔ کہ دس سالوں میں انھوں نے یہ پرفارم کیا ہے تمام اختیارات کے ساتھ ۔ ان کے پاس فنانشل پاور بھی ہے ساری اتھارٹی ہے پھر بھی ڈیلیور نہیں کیا۔ رہ جاتی ہے ایم کیو ایم تو کراچی کا ووٹ بینک ایم کیو ایم کا ہے ۔

آج بھی ایم کیو ایم کا ہے اس نے 2/3 میجورٹی سے بلدیہ کی حکومت دی ہے عوام نے ۔  عوام باشعور ہے سمجھتی ہے کہ یہ جان کر کام کرنے نہیں دے رہے ہیں۔ ووٹ بینک کراچی میں ایم کیو ایم کا ہے وہ اس لیے ہمیں کام نہیں کرنے دیتے اور جہاں لیاری میں ان کو ووٹ ملے وہاں ایک ماڈل یوسی یہ نہیں بناسکے ، پورے سندھ میں یہ ایک ماڈل یوسی نہیں بناسکے ۔ دس سال میں انھوں نے کراچی میں دس بسیں دیں ہیں۔ میرے جہاں تک ووٹ کا تعلق ہے وہ میری انٹرنل پرابلم ہے ۔ پارٹی کی۔ وہ ایک وقت تھا جب قائد کے نام پر ووٹ پڑتا تھا ۔ 22 کے بعد ایک ایسی صورتحال بن گئی کہ ہم ان سے الگ ہوگئے ۔  کراچی میں جتنی زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے ۔ پینے کا پانی کسی کو نہیں مل رہا ۔ بجلی کا پروبلم ہے ، سیوریج کا پروبلم ہے ۔ ٹرانسپورٹ کا پروبلم ہے ۔ ان کا کوئی پرسان حال بن سکتا ہے وہ ایم کیو ایم ہے ۔ ہم 2018 کے الیکشن میں بھرپور طریقے سے جائیں گے اور ثابت کریں گے ہمیں پہلے سے زیادہ ووٹ پڑیں گے۔ کیوں کہ میں نے 17-2018 کے بجٹ میں کراچی کو ڈیلیور کیا۔ جتنا بھی کرسکا۔ کراچی کے لوگ جانتے ہیں جس حساب کا بجٹ تھا ہمارا ، جس طرح سے مجھے فنڈنگ کی جارہی ہیں۔ اور بہت ہی لمیٹڈ فنڈنگ جو ناکافی ہے شہر کے لیے اس میں رہتے ہوئے بھی ہم الیکٹڈ لوگ عوام میں ہے ۔

سوال: بڑا معاملہ اٹھا تھا کہ وسیم اختر صاحب کچھ حساب نہیں دے رہے ہیں۔ وہ پانچ ارب کا حساب نہیں دے رہے ہیں۔ کسی نے کہا وہ پونے آٹھ ارب روپے ہوگئے ہیں ۔ تو آپ نے فاروق ستار کو یا کسی اور کو حساب دے دیا۔

وسیم اختر: میرے خیال سے ان لوگوں کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس پر یہ لوگ بات کریں میرے لیے یہ چیپ پبلیسٹی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ حساب مانگنے والا جہاں تک فاروق بھائی کا معاملہ ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ فاروق بھائی نے میرے ساتھ ملکر کوئی کاروبار کیا ہے اور پیسہ انوسٹ کیا ہے ۔ جو آدمی پیسہ انویسٹ کرتا ہے تو حساب مانگتا ہے ۔ یہ گورنمنٹ کا پیسہ ہے اور ان کو خود پتا ہے ۔ اور پھر جہاں تک کہا گیا کہ معافی مانگیں تو اللہ کا شکر ہے میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔

پارٹی مانگتی ہے پرفارمنس رپورٹ ۔ میں پابند نہیں ہوں فاروق بھائی کو حساب دینے کا ۔ کس چیز کا حساب؟ حساب کے لیے گورنمنٹ کا آڈٹ ہوتا ہے ، نیب موجود ہے اگر میں کرپشن کر رہا ہوں۔ کامران صاحب کو میں کنسیڈر نہیں کرتا میں ان کی بات کا جواب نہیں دینا چاہتا ، میں فاروق بھائی کی بات کر رہا ہوں۔ یہ سوئپنگ اسٹیٹمنٹ ہے ، فاروق بھائی کے جب پارٹی سے اختلاف ہوئے تب انہوں نے یہ بات کی ۔ اس سے پہلے حساب کیوں نہیں مانگا، اس سے پہلے تو فاروق بھائی مئیرکے لیے اختیارات مانگ رہے ہوتے تھے۔ کہ مئیر کو اختیارات دیے جائیں ، فنڈ دیے جائیں۔ اس کے بعد جب اختلافات ہوئے تو فاروق بھائی ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ ریزائن کیوں نہیں کردیتا اور مئیر حساب دے ۔ حساب میں ان کو دینے کا پابند نہیں ہوں دینے کا ، گورنمنٹ کے ڈیپارٹمنٹس موجود ہیں ۔ فاروق بھائی کو سب کچھ پتہ ہے۔

سوال: اگر پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے وہ آپ سے حساب مانگ رہے تھے کہ اگر پارٹی کی ریپوٹیشن خراب ہورہی ہے تو ان ہی سے پوچھا جائے گا۔ اور چلے ٹھیک ہیں کہ آپ نہیں سمجھتے کہ ان کو حساب دیں تو آپ ان کو حساب نہ دیں۔

وسیم اختر: حساب تو اس وقت دیا جاتا ہے جب انھوں نے میرے ساتھ پیسہ کہیں انویسٹ کیا ہوا ہو۔ پرفارمنس ہوتی ہے کہ کتنے پروجیکٹس آئے ۔ عوام کی کتنی ریکوائرڈ منٹ ہوئی ۔ وہ ہوتا ہے ہمارا ایک فنانس ڈیپارٹمنٹ بھی ہے ۔ کے ایم سی کا جو فنانشل ڈیپارٹ ہے اس کے کاغذات میں فاروق بھائی کو تھوڑی دوں گا ۔

سوال: سناہے آپ کی فائل کھل گئی ہے نیب نے تحقیقات کا آغاز کردیاہے ؟ آپ کے خلاف بھی وزیر اعلی سندھ کے خلاف بھی ثناءاللہ زہری۔ وہاں تو دیں گے آپ حساب؟

وسیم اختر: یہ ڈیپارٹمنٹس ہیں ان کا کام ہے یہ تو اگر ڈیپارٹمنٹ کے پاس کوئی شکایت آئی ہے تو وہ اس پر انکوائری کر سکتا ہے ۔ ہمارا فنانشل ڈیپارٹمنٹ ، موجود ہے اس کا جواب دیا جائے گا ۔ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ ہم کوئی چیز اس میں ہائیٹ کریں گے ۔ یا ہم پریشان ہیں۔ جو سوال وہاں سے کیا جائے گا ڈیپارٹمنٹس موجود ہیں ہم ان کے جواب دیں گے۔

سوال: یہ جو پانچ ارب ، پونے چھ ارب اور آٹھ ارب روپے ، تو کیا آپ کو اتنا فنڈ ملا ہے؟

وسیم اختر: یہ جو لوگ بات کر رہے ہیں وہ میٹر نہیں کرتے میرے نزدیک ۔ نہ ان کو سر پتہ نہ پیر پتہ۔ ہمیں سیلری ہیڈ پر تقریبا سوا پانچ ارب روپے ملا ہے جو سیلری ہم نے دے دی۔ اس کے بعد اے جی پی وہ تقریبا ڈھائی ارب کی ہم نے ڈیولپمنٹ کی ہے ۔ سوا پانچ ارب روپے ہم سیلری کے دے چکے ہیں۔ گورنمنٹ سے سیلری کے پیسے آتے ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں۔ کوئی ڈھائی ارب روپے ڈیولپمنٹ کے آئے ہیں ہمارے پاس وہ ہماری اسکیمیں موجود ہیں گراؤنڈ پر ، اس کا ٹینڈر پراسس ہوتا ہے۔ وفاق سے ہمیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا ۔

ٹیسٹ جو ہے وہ 2018 کا الیکشن ہے جو نزدیک ہے ۔ دوسری بات کہ عوام یا تو جارہی ہوتی ان کے پاس تو مجھے لگتا کہ یہ کچھ کام کرنے جا رہے ہیں۔ جس طرح سے آئے پورے ملک کو ، پوری دنیا کو پتہ ہے کس طرح سے آئے ، کہاں آئے ، کہاں بیٹھے اور کس طرح سے ان لوگوں نے اپنا آغاز کیا اس کے بعد دھونس ، دھمکیوں سے جتنے لوگ چلے گئے ۔ انڈر پریشر لیکر کیا چیز کرلیں گے ۔ محبتوں سے لوگ جاتے ، ہنسی خوشی جارہے ہوتے ، جیل میں جو لوگ اریسٹ ہیں ان کو دھمکیاں دے دیکر ۔ جو لاٹ ان کے پاس ہے وہ سب ایم کیو ایم کا تو ہے ، عوام میں سے کوئی لاٹ دیکھا دیں کہ نیوٹرل آدمی آگیا کوئی ، کوئی نیا آدمی جس نے پولیٹکس جوائن کرنی ہے وہ دکھائیں مجھیں ۔ یہ سارے ایم کیو ایم کے لوگ ہیں۔

فوزیہ قصوری پی ٹی آئی سے منحرف ہوئیں ہیں  ۔ پی ٹی آئی کی جو پالیسیز ہیں وہ ان کو پسند نہیں آئیں میں نئی ممبر شپ کی بات کر رہا ہوں۔

جب یہ چیف جسٹس تھے (چوہدری افتخار، بارہ مئی کو) ان کے سیاسی عزائم تھے ان کو ریلی نکالنی تھی سندھ ہائی کورٹ تک ۔ تو سیاست ذہن میں تھی ان کے جبھی انہوں نے پارٹی بنا لی ۔ تو جب یہ چیف جسٹس تھے ان کے خیالات تھے سیاست کے ، ریلی کا اسی وقت ان کے دماغ میں آگیا تھا اور ان کو پاکستان کی ساری ایجنسیز نے منع کیا تھا کہ ریلیز نہ نکالنا اور یہ نہیں مانے ، اب یہ کہہ رہے ہیں بارہ مئی اور الزامات لگا رہے ہیں۔ تو ان سے یہ سوال کرلیتی 2013 تک تو یہ چیف جسٹس آف پاکستان تھے انہوں نے خود کیوں کوئی کمیشن نہیں بنایا  خود کوئی انکوائری کیوں نہیں کی انھوں نے کیس کی ۔ تو انہوں نے مشرف کو یا مجھے کیوں نہیں پکڑا، اللہ رحم کرے جب یہ ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں تو ایسی بات کرتے ہیں۔ ان کو پتہ ہی نہیں ہے کچھ ۔ میرے خلاف جتنے کیسز ہیں 12 مئی کے حوالے سے وہ راؤ انوار نے بنائے اور وہ ہیں گاڑی جلانے کے ۔ گاڑی کا ٹیپ ریکارڈر چوری کرنے کے ہیں 8 ایف آئی آر ڈالی ہیں مجھ پر۔ ان کو یہ بھی نہیں پتہ کہ سندھ ہائی کورٹ 12 مئی کا کیس ڈسپوز آف کرچکے ہیں ۔