نادیہ مرزا کا سینئیر تجزیہ کار حسن نثار کے ساتھ خصوصی انٹرویو

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی سیاسی صورتحال پر سینیر تجزیہ کار حسن نثار کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے اور کیوں نہ ہو الیکشن 2018 میں کل ملا کر اگر دیکھا جائے تو شاید ڈیڑھ ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے اور ایسے میں الیکشن کی گہما گہمی یا سیاسی گہما گہمی ایک فطری بات ہے ۔ کچھ حلقے تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ کچھ چیزیں ہیں جو حل طلب ہیں۔ باوجود اس کے کہ نومینیشن پیپرز فائل ہو رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں گے  ۔ 25 جولائی کو الیکشن ہوجائیں گے۔ ابھی جو نئے وزیر اعلی کو لیکر شہباز شریف نے اور پی ایم ایل این نے جو ریزرویشن ظاہر کیں اور ان کو لگتا ہے ان کی پسند کا بندہ نہیں ہے تو شاید ان کے جو مطلوبہ چیز ہے وہ حاصل نہیں کرپائیں کیوں کہ آج بیوروکریسی میں تبدیلی کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔ نواز شریف کا مستقبل کیا ہوگا۔ کیا آنے والے الیکشن یا عید وہ ملک سے باہر گزاریں گے یا وہ جیل میں گزاریں گے اور اس کے بعد ریحام خان کی کتاب ، کیا اس کتاب کے آنے کے بعد عمران خان کی جو پولیٹکس، یا پرسنالیٹی یا ایمیج ہے اس کو کوئی ڈینڈ پڑنے والا ہے یا نہیں۔؟

سوال: آپ کو لگتا ہے 25 جولائی کو الیکشن ہوجائیں گے؟

سینیر تجزیہ کار حسن نثار: اگر آپ ریکارڈ دیکھو تو ان لوگوں کا ریکارڈ بہت اچھا ہے ۔ جو ، جو وہ کہتے رہے ہیں ویسا ویسا ہوتا رہا ہے ۔ میرا ایشو یہ ہے کہ الیکشن کا ہونا نہ ہونا ، وقت پر ہونا نہ ہونا ، آگے پیچھے ہوجانا ، کیا فرق پڑتا ہے؟َ اصل بات یہ ہے کہ الیکشن ہوں گے تو اس کے  نتیجے میں کیا ہوگا؟ پچھلے پانچ سال ہم نے بھگتے ، الیکشن کے بطن سے ڈیلور ہوا ، ایک بی بی کالڈ نواز شریف ، تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، سرتا پا جھوٹ ، پورے ملک کی اکانومی ، اخلاقیات تو جب سے آئے ہیں برباد کی ہے ملک کی۔ وہ رخصت ہوا تو تحفہ دے گیا عباسی نام کا ۔ عجیب و غریب حرکتیں کر کے وہ رخصت ہوا ۔ کورٹ نے مہربانی کی کہ بیان حلفی دینا ہوگا ۔ چوروں ، اچکوں کو اور ان بنارسی ٹھگوں کو ۔ یہ ملا تھا مجھے اور آپ کو، اس سے پہلے بھی الیکشن ہوئے تھے۔ لارڈ ، پیار اور چاہ کے ساتھ پوچھا کا رہا تھا کہ کب ہوں گے ؟ کیسے ہوں گے؟ ہوگئے ، نکلا کیا؟ آصف زرداری ۔ مجھ جیسے بندے سے سوال کرنا تو تھوڑا معیوب ہے۔ میں ان طرز پر زندگی کو نہیں سوچتا ہو  ۔ ہو بھی گئی تو کیا ہوگا ۔ اصل کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہوجانے کے بعد  کیا ہوگا۔

سوال: کیا آپ الیکشن کمیشن سے مایوس ہیں کہ وہ شفاف الیکشن نہیں کروا پائے گا، یا آپ کو لگتا ہے کہ حسن عسکری صاحب پنجاب میں نگراں وزیر اعلی کے عہدے کا آج انہوں نے حلف اٹھایا ہے ۔ وہ کچھ تبدیلی یا فرق نہیں لا سکیں گے ۔

سینیر تجزیہ کار حسن نثار: ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ چیخ اس لیے رہے ہیں حسن عسکری پر کیوں کہ اس خاندان پڑھنے لکھنے، فکر و دانش سے ، سوچ بچار سے چڑ ہے۔ یہ جہالت کے چلتے پھرتے نمونے ہیں ۔ حسن عسکری جیسے پڑھے لکھے اور دانشمند بندے کے بارے میں ،  جہالت کا یہ لیول ہے کہ کہتے ہیں ان کی سوچ ، ان کے نظریات ، ۔ اس بندے کی دیانت دیکھو آپ ۔ آپ مجھے کوئی ٹاسک دو گے میں اس پر چھاپ نہیں پڑنے دوں گا اپنے نظریات کی وہ میں میرٹ پر کروں گا۔ یہ تو ہے پنجاب کے حوالے سے ۔

الیکشن کمیشن کا بھی معاملہ نہیں ہے۔ یہ جو للو پنجو ٹائپ آتے ہیں، کھوتے آتے ہیں ، گدھے ۔ جو میک اپ کر کے لکیریں ڈال کر آجاتے ہیں۔ یہ سیاست دان۔ یہ کوڑی ہیں جو مقابلہ حسن کے منصف بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ وہ اندھے ہیں جو ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں اس ملک کے ۔ یہ وہ گندی نالیاں ہیں جو خود کو ریورس سائن ، یہ دریا کہلاتی ہیں گندی نالیا۔ میرا ایشو یہ ہے کہ الیکشن جب ہوگا تو کیسے لوگ آئیں گے۔ اور وہ کیسے پرفارم کریں گے۔ الیکشن کا ہونا ایک خوشی ہے ۔ پھر اس کا پرفارم کرنا وہ رئیل پلیجر ہے ۔

سوال: پی ٹی آئی پنجاب میں آتی ہوئی دیکھائی نہیں دے رہی کہ وہ پنجاب میں الیکشن جیت جائے گی؟

سینیر تجزیہ کار حسن نثار: میں مایوس نہیں حقیقت پسند آدمی ہوں۔ یہ غلط کوڈ کرتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے ۔ یہ غلط ہے ۔ اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ رحمت سے مایوس نہ ہونا حق ہے میرا۔ اگر میں پرفارم کر رہا ہوں  ۔ اگر میں اس کے احکامات کے پیرا میٹرس کے اندر زندگی گزار رہا ہوں۔ تو وہ میری اعانت کرے گا۔ اگر آپ یہاں چور، اچکے اٹھا کر لے آتے ہو۔ ۔

پی ٹی آئی سرپرائز دے گی ۔ پنجاب میں یہ مجھے نظر نہیں آتے ۔ کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاج کو بھی پھونکیں مارتا ہے وہ آدمی ۔ اور کہتے ہیں کہ سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے۔ جب میں پیچھے دیکھتا ہوں تو بھٹو کے روٹی ،کپڑا ، مکان کے نعرے سے لیکر ان کے اقتدار کی سیاست کے فراڈ تک ۔ ہم لوگ جب بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ تو جن کے پاس ملازمت نہیں ان کے لیے پاکستان اور طرح کا ہے۔  یہ تعزیت کا سال ہے ، کہیں ایم آر آئی کی مشین نہیں ہے ۔ کہیں وینٹی لیٹر نہیں ہے ۔ اسی سال کا بوڑھا ڈرپ کرسی پر لیکر بیٹھا ہے۔ کروڑوں بچہ اسکول کے باہر دھکے کھا رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی جا کر دیکھیں کوئی ایسے ہی پھر رہا ہے۔ یہ صورتحال اچھی نہیں ہے۔ جو لوگ ہمیں ہضم نہیں کر پاتے ان کے لیے بلیک میلنگ کی پوزیشن بہت آئیڈیل نشان بنتی جارہی ہیں۔ کوئی ٹیم ایسی آتی ہے یا نہیں جو اس صورتحال کو سنبھال سکے اور اس کو ڈائریکشن میں لیجا سکے ۔

سوال: حسن نثار صاحب ریحام خان کی آنے والی کتاب کا جس کا بہت بڑا پینڈورا باکس کھل چکا ہے ۔ کتنا ڈیمیجنگ ہے یہ الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کے لیے؟

سینیر تجزیہ کار حسن نثار: مجھے اندازہ ہوا ہے ۔ میں نے اپنے مینیجر سے کہا کہ میری طرف سے فیس بک پر یہ میسج چلا دو۔ میسج پاکستانیوں کے لیے تھا اس کا مفہوم یہ ہے کہ میرے پاکستانی بھائیوں ۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ ریحام زدگی آنے والے انتخابات پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔ وہ وائرل ہوگیا ۔ اس کی وجہ ہے ۔ کیوں کہ بھلے ہم بزدل ہوں پسند ہم بہادر کو کرتے ہیں۔ ہم بھلے بے ایمان ہوں ۔ ہمارے دل میں عزت ہوتی ہے اس آدمی کے بارے میں جس کا پتہ ہو یہ دیانتدار ہے ، ہم بھلے جیسے بھی ہوں۔ زندگی کا ایک بنیادی اصول ہے ۔ ہر پڑھے لکھے گھرانے میں ماں باپ جو تربیت دیتے ہیں ۔ ان میں سے جو سے چند چیزیں ہائی لائٹ ہوتی ہیں ان میں سے ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ دیکھو بیٹا زندگی میں رشتوں کا تقدس ہوتا ہے۔ میرا کوئی دوست ہے میری اس سے دوستی دس سال رہے ، پچاس سال رہے  ۔

اور یہ ہوا بھی ہے ۔ اس کے بعد آپ کے اختلافات ہوگئے اس عرصے کے دوران میرے اور اس کے درمیان جو کچھ ہوا وہ امانت ہے ۔ میں اس کا امین ہوں ، میں خائن ہو اگر میں اس کو بتاؤ۔ طلاق اصل میں اختلاف ہے ۔ وہ ایک ایگریمنٹ ہے ۔ میں نے عائشہ بخش سے پوچھا کہ یہ بلیک بیری عمران خان کا ہی تو انہوں نے کہا جی بالکل ، تو میں نے کہا کہ وہ عورت اپنے چور ہونے کا اور بلیک میلر ہونے کا اعلان کر رہی ہے ۔ لیکن میں تو جاہل آدمی ہو آج تو ہر بندہ سیل فون اٹھائے پھر رہا ہے۔ تو لوگ تو سیانے ہیں ۔ تو ان کو سمجھ نہیں آئے گی کہ جو عورت بطور بیوی اپنے شوہر کے اعتماد کے ساتھ اس طرح کھیلتی ہے ۔ ایک جاسوسہ کے طور پر کے اس کا بلیک بیری لیجاتی ہے تو ایسی کریکٹر لیس شخصیت ۔

ضیا شاہد صاحب نے کتاب لکھی اس میں انھوں نے بتایا کہ جنرل حمید گل نے ضیا شاہد صاحب کو فون کیا اور کہا کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ اس آدمی پر ایک عورت پلانٹ کی جارہی ہے ۔ تم جاو اور اس کو سمجھاؤ۔حمید گل کی وفات کے بعد ان کا بیٹا عبد اللہ گل جس نے ضیا شاہد کو بتایا کہ سر یہ ملنے آئی تھی اور ہمیں فادر نے نکال دیا تھا کمرے سے کہ کچھ پرائیوٹ بات کرنا چاہ رہی ہے۔ جنرل صاحب نے کہا ریحام کو کہ میں تمھیں نہیں جانتا ۔ آپ فلاں فلاں لوگوں کو نہیں جانتیں۔ آپ نے فلاں فلاں ایجنسی کے لیے کام نہیں کیا؟ پھر آپ کو پاکستان لایا نہیں گیا ؟ کیا فلاں فلاں لوگوں نے فیسیلیٹیٹ نہیں کیا آپ کو عمران تک پہنچانے اور ملوانے میں ۔یہ جنرل صاحب نے بتایا اپنے بیٹے کو اس کے پوچھنے پر کہ ڈیڈی جب یہ خاتون گھر سے نکلی ہیں۔ تو یہ بہت پریشان اور ٹینشن میں دیکھائی دے رہیں تھیں۔ یہ بہت پہلے کا لکھا ہوا ہے۔

سوال: یہ میسج خان صاحب تک کنوے نہیں ہوا آن ٹائم؟

سینیر تجزیہ کار حسن نثار: اس میں ضیا شاہد صاحب نے ایک لاجک دی ہے جو بہت اچھی ہے ۔ لیکن انھوں نے کہا کہ جب کسی کے سر پر عشق کا بھوت سوار ہو تو اس سے بات کرنی بیکار ہوتی ہے ۔  یہ ضیا صاحب نے لاجک دی ہے کہ وہ کیوں جنرل صاحب کے کہنے کے باوجود نہیں ملے۔ عمران تو نارمل حالات میں کسی کی نہیں سنتا۔ عمران کی دیانت کا کیا لیول ہے آپ غور کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں ن لیگی خاص طور پر ان کی لیڈر شپ جنہوں نے بھٹو کو نہیں بخشا۔ اس زمانے میں حسین حقانی ان کا درباری تھا اس سے کام لیتے تھے یہ۔