نادیہ مرزا کا ملک کی سیاسی صورتحال پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان ، سینیر تجزیہ کار صالح ظفر ، پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت بسرا، ماہر قانون ماہر قانون کامران مرتضیٰ سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

عمران خان کے بعد شیخ رشید بھی عدالت سے صادق و امین ڈکلئیر ہو چکے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جب فیصلہ ہمارے حق میں آجاتا ہے تو ہم کہتے ہیں شکریہ ۔ لیکن جب ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آتا تو کہا جاتا ہے انف از انف۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف نہیں ملتا،۔ کیوں کہ وہ انصاف آپ کی مرضی کا نہیں ہوتا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جو ریزائن کرکے پارٹی کو ٹکٹ اسی کو دے دوں گا۔ مسلم لیگ ن کی خواتین کہہ رہی تھیں کہ ان کو پوچھا نہیں جارہا ۔ یہ تمام چیزیں الیکشن کا حصہ ہوتی ہیں لیکن پھر بھی اس پر بات کرنا ضروری ہے۔

سوال: جب فیصلہ حق میں آجائے تو الحمداللہ اور جب فیصلہ آپ کے خلاف آجائے تو انف از انف مسٹر چیف جسٹس۔ یہ آپ کس طرح سے ڈسکرائب کریں گے؟

پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان: نہ ہم نے اپنے سسٹم کو مضبوط کیا ہے اور نہ اس کو عزت دینا سیکھا ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ نہ ساری زندگی فیصلے آپ کے حق میں آئیں گے نہ آپ کے خلاف آئیں گے۔ یہ جو عدلیہ کے مختلف فیصلے کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف آئیں ہیں۔ دونوں صورتوں میں ہمارا اٹیٹیوڈ مہذب قوموں والا نہیں ہے ۔ عدالت نہ کسی کی دوست ہوتی ہے نہ کسی کی دشمن ہوتی ہے ۔ عدالت جو ہے وہ ثبوتوں پر جاتی ہے ۔ جو وہاں بیٹھا شخص ہوتا ہے اس سے مس ججمنٹ ہوسکتی ہے ۔ اس سے غلط فیصلہ بھی آسکتا ہے لیکن مہذب قومیں کبھی بھی عدالت کو کومپرومائز نہیں کرتی ۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہم اپیل کریں گے۔ یہاں پر یہ کہنا ہے میں بہت شکر گزار ہوں عدلیہ کا کہ میرے حق میں فیصلہ دے دیا یہ بھی غلط ہے ۔ آپ کیوں شکر گزار ہیں؟ کیا عدلیہ نے آپ پر احسان کیا؟ آپ غلطی پر تھے آپ کا حق نہیں تھا ۔

شوکت بسرا: میاں صاحبان کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ انھوں نے جب شہباز شریف کے حق میں فیصلہ آیا حدیبیہ والا ۔  کتنی تعریفیں کی گئیں۔ اب خواجہ آصف کی مثال دیکھ لیں۔ پاکستان کی تاریخ میں عملی طور پر جب سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا تو شریفوں کی گورنمنٹ تھی ۔ باقاعدہ غنڈوں کو بھر کر لایا گیا اور پنجاب ہاوس میں ٹھہرایا گیا ۔ حملہ آوار ہوگئے۔ ابھی بھی ان کو یاد ستار رہی ہے ملک قیوم کی۔ اس جیسا جج چاہیں ان کو ۔ ان کو پتہ ہے ان کے پاس نہ ثبوت ہیں نہ گواہ ہے، نہ مدعی ہے۔ ان کو پتہ ہے کہ سزائیں ہونے جارہی ہیں ، ان کو پتہ ہے کہ حق میں فیصلہ آجائیں گے وہ بہت اچھے ہیں۔ تین ادارے ہیں جو توپ کے دھانے پر ہیں ۔ عدالتیں، فوج اور نیب۔ تینوں کو یہ مینج نہیں کرسکے اور میاں صاحبان نے ہمیشہ تمام لوگوں کو یا تو بریف کیس سے خریدا ۔ اگر وہ بریف کیس سے نہیں خریدا گیا تو ان پر قتل و غارت کرائی ۔ ان پر حملے کرائے ۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ہم نے اداروں کو کمزور کیا۔

سوال: چئیرمین نیب پر بڑا شور ہوا جب انہوں نے غلط اماؤنٹ کو کہہ دیا تھا کہ منی لانڈرنگ بھارت میں ہوئی ہے ۔ فیصلہ اپنے حق میں آتا ہے تو عدلیہ اچھی ہے ۔ اگر اپنے حق میں نہیں آتا تو انصاف نہیں ملتا اس ملک میں۔

صالح ظفر : یہ بہت بڑا المیہ ہے ۔ ایسے وقت میں جب ملک میں سیاست ہونی چاہیے ۔ جب ملک میں لوگوں کو ، سیاسی پارٹیوں اور لوگوں کو یہ پتہ چلنا چاہیے کہ ان کی ماضی کی کارگردگی رہی ہے اور یہ آئندہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر بحث ہونے کے بجائے  پورے کے پورے معاملے اس وقت عدالتی کٹہرے میں چلے گئے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب الیکشن ہیں۔ وجہ اس کی کچھ بھی ہو ۔ اگر عدالت نے ان کو انٹرٹین کیا ہے ۔ تو عدالتوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے تھا کہ آئندہ مہینوں میں الیکشن ہونے والے ہیں ملک میں ۔ بجائے اس کو کہ وہ عدالتوں کو اکھاڑہ بنائیں ۔ وہ لوگوں کو موقع دیں کہ وہ اپنے نمائندے خود چنیں۔ اور اس کے بعد جب صورتحال بلکل واضح ہوجائے پھر اس کے بعد عدالتوں کو میدان میں لے آیا جائے۔ یہ جو معاملات پولیٹیکل لیڈرشپ کے ہیں ۔

ان کو سالٹ آوٹ ہونا چاہیے پارلیمنٹ میں بجائے اس کے کہ آپ اس کو عدالت میں لائیں۔ عدالت میں وہ لوگ آتے ہیں جو کرمنل ہوتے ہیں۔ چور ہوتے ہیں۔ مجرم ہوتے ہیں۔  آپ عدالتوں میں معاملہ لاکر خود نہیں ہیں تو دوسرے کو چور ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تو میری سیاسی رہنماؤں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے آپ کو عدالتی کٹہرے کے بجائے اپنے آپ کو اس ایریا میں محدود رکھیں جو ان کے لیے دنیا بھر میں مخصوص ہے۔ عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسا رویہ اختیار کرے کہ وہ مثالی ہو۔ جو کچھ پچھلے کئی مہینوں سے عدالتوں میں ہو رہا ہے اور جو عدالتوں کے لوگ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے ایک نئی کنٹریورسی شروع ہوگئی ہے ۔ وہ کام جو کہ چھوٹے چھوٹے اہلکاروں کو کرنا چاہیے ۔ اس کام کے لیے اتر آتے ہیں جج صاحبان جس کے نتیجے ان کے کردار پر بات شروع ہوجاتی ہے ۔

سوال: آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسے کام عدالتوں کو کرنا چاہیے جس سے ان کی عزت ہو ۔ جب فیصلہ خواجہ آصف کے حق میں دے دیا جائے تو عدالت قابل عزت ہوجائے گی لیکن اگر شیخ رشید کے حق میں دے دیا جائے تو اداروں کی عزت نہیں ہوگی۔

صالح ظفر : عدالت میں دو فریق ہوتے ہیں ایک وہ جس کے حق میں فیصلہ آئے اور ایک وہ جس کے خلاف آئے ، جس کے خلاف آئے اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ بات بھی کرے گا اور جس کے حق میں آئے گا وہ واہ واہ کرے گا جس طرح آپ نے مثال دی۔

شوکت بسرا: ججوں سے اختلاف ہونا چاہیے ، ججوں کو گالیاں نہیں دینی چاہیں۔ آپ کو اختلاف رائے کا حق ہے  ۔ آپ کہیں کہ یہ فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا۔ اس میں یہ فلاز رہے ہیں۔ لیکن جب آپ ججز کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیتے ہیں۔ تو آپ کیا میسج دیتے ہیں ۔

سوال: لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے ہر فارم پر اپنی پارٹی کو ڈیفینڈ کیا ۔ پھر یہ سوال بنتا ہے کہ آپ کو کیوں نکالا؟

علی محمد خان: مجھے کہیں سے کوئی نہیں نکالا میرے حلقے کا ابھی فیصلہ نہیں آیا۔ میرے حلقے کے نیچے دو صوبائی حلقے ہیں جس میں سروے چل رہا ہے جس کی وجہ سے سب پیڈنگ چل رہا ہے ۔ ایک دو روز میں اس کا رزلٹ آجائے گا۔ جب آپ ایک پولنگ پول کا حصہ ہوتے ہیں ۔ چھوٹا سا میرا سیاسی کیرئیر ہے ۔ میں نے چھوٹے عرصے میں دیکھ لیا کہ جو لوگ اپنی جماعتوں کے ساتھ جڑ کر رہتے ہیں اللہ تعالی ان کو عزت دیتا ہے اور وہ اپنے کارکنوں میں  ہوتے ہیں ان کو پیار ملتا ہے ۔ اوپر کے لیول میں جو آپ کے تعلقات ہوتے ہیں کسی بھی جماعت میں وہ کبھی اچھے ہوتے ہیں کبھی برے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک اصولی موقف پر ہوتے ہیں ۔ آپ کی عوام ، آپ کا ورکر ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔

سوال: آپ کو ٹکٹ کیوں نہیں ملا؟

علی محمد خان: ٹکٹ کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا وہ ہو جائے گا۔ آج کل آپ دیکھ رہے ہیں کہ مختلف جماعتوں میں ٹکٹ کو لیکر ایک واویلا مچا ہوا ہے ۔ میں ٹکٹ کی درخواست دینے والوں کو کہنا چاہتا ہوں ، ٹکٹ از ناٹ اینڈ آف دی ورلڈ، اگر آپ کو ٹکٹ نہیں ملا تو وہ جماعت جو کل تک بہترین تھی آج اتنی بری ہوگئی کہ آپ لوگ پریس کانفرنسز کرنے لگے ۔ آپ اپنی جماعت میں رہیں ،ٹکٹ پھر کبھی مل جائے گا۔ یہ سیاست کا حصہ ہے۔ میں ان لوگوں کی قدر کرتا ہوں جو جماعت کو نظریے کی بنیاد پر رہتے ہیں اور جو لوگ میری جماعت میں آتے ہیں عمران خان کے نظریے سے متاثر ہیں ان کو میں سلام پیش کرتا ہوں۔ جو وزارتوں کے لیے آئے ان کی ادھرعزت ہوتی ہے نہ ادھر ہوتی ہے یہ ہماری سیاست کا المیہ ہے ۔ لیکن جیسے جیسے جمہوریت مضبوط ہوگی پھر آپ دیکھیں گی کہ یہ چیزیں کم  ہوجائیں گی۔ پاکستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ سویلین پراسسز چل رہا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ ہمارے لیے باعث اطمینان ہونا چاہیے ۔ ایک سویلین پراسسز آگے چل رہا ہے ۔ کتنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا لیکن اب الیکشن کا ماحول بن رہا ہے۔

سوال: جسٹس قاضی عیسیٰ فائز کا جو اختلافی نوٹ ہے شیخ رشید کی اہلیت کے حوالے سے اس کو آپ کیا دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں کسی غلط بیانی کی سزا کیا صرف نا اہلی ہے ۔ غلط بیان کی مدت کیا تاحیات ہوگی۔ کیا آئندہ انتخابات تک ہوگی۔ اس طرح اختلافی نوٹ کا دوبارہ بننا کیا کوئی نیا پریذیڈنٹ بننے جا رہا ہے اس کو لیکر؟

ماہر قانون کامران مرتضیٰ: عدالت نے اس سے پہلے بھی جہانگیر ترین کے لیے کچھ اور ، اور عمران خان کے لیے کچھ اور فیصلہ کیا تھا ۔ اور پھر اسی طرح سے شیخ رشید والاکیس آیا ہے ۔ درمیان میں خواجہ آصف والا کیس آیا ہے ۔ ایک ہی طرح کے معاملات میں مخلتف قسم کے فیصلے تو شاید اسی حوالے سے ایک ویو یہ بھی ہے کہ اس معاملے پر ریوزٹ ہونا چاہیے ۔ بہت سے لوگ اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں۔ کہ اس کی لیمیٹ ہونی چاہیے ۔ جہاں تک اخلاقی جرائم کی بات ہے اس میں بھی لیمیٹ دی ہوئی ہے ۔ تو یہ معاملہ غلط بیانی کا ہے ۔

سوال: یہ سوال جو اٹھے ہیں ان کے جواب کہاں طے ہونے ہیں، عدالتیں طے کریں گی یا پارلیمنٹ میں طے ہوں گے؟

ماہر قانون کامران مرتضیٰ: اس وقت تک تو پارلیمنٹ موجود نہیں ہے ۔ اس وقت تو عدالت طے کرے گی ۔

سوال: جو پرانے لوگ ہیں ۔ نظریاتی لوگ ہیں ان کو ٹکٹ نہیں ملا۔ پارٹی میں آرہے ہیں تو پارٹی کی لیڈرشپ ویلکم کر رہی ہے ، ان کے لیے بڑا عزت و احترام ہے لیکن اگر آپ اپنی پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں تو آپ کہیں اسٹینڈ نہیں کریں گے

صالح ظفر: علی محمد صاحب جو ہیں میں نے ان کو دیکھا ہے نیشنل اسمبلی میں پچھلے پانچ سال میں ان کی کارگردگی بہت عمدہ رہی ہے ۔ بہت اچھے انسان ہیں ۔ بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں ملا۔ تو میں سمجھتا ہوں ۔ تحریک انصاف میں سب کچھ ہوگا لیکن انصاف نہیں ہوگا۔ جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں لوگ آگئے ہیں۔ تحریک انصاف میں لوگ نہیں آئے  ۔ تحریک انصٓف میں امیدواروں کا ایک ریوڑ ہے ۔