نادیہ مرزا کا بابر اعوان کے ساتھ خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نےماہر قانون ڈاکٹر بابر اعوان سے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پرخصوصی گفتگو کی ۔

میزبان کے تعارفی کلمات

الیکشن میں کچھ ہی دن ہی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں تمام جو مین اسٹریم پولیٹیکل پارٹیز ہیں وہ میدان میں ہیں اور یقینا جب وہ میدان میں ہیں ۔ وہ اپنے اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں آئیں گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو پارٹی کے مسئلہ مسائل ہیں وہ بھی ایکسپوز ہو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی جو کہ بڑی پر امید ہے اس کو بھی اس وقت بڑے کریٹیزیزم کا سامنا ہے ۔ یہ لیکر کے اس نے شاید اپنے  نظریاتی لوگوں کو پیچھے کردیا ہے اور دوسرے لوگوں نے جنہوں نے مہینے ڈیڑھ مہینے پہلے پی ٹی آئی جوائن کی تھی ان کو ٹکٹس سے نوازا ہے۔ دوسری طرف پی ایم ایل این کی حالت دیکھیں تو نواز شریف اور شہباز شریف صاحب میں بھی پالیسی کا اختلاف ہے ۔ پیپلزپارٹی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کو امیدوار ہی نہیں مل رہا ہے کہ وہ ٹکٹس کس کودیں۔

سوال: کیا آپ کو ٹکٹ ملا ہے؟ الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں؟

ڈاکٹر بابر اعوان : میرا ٹکٹ میرے چئیرمین کے پاس ہے ۔ الیکشن لڑنے کے لیے ہر آدمی تیار ہوتا ہے ویسے اس وقت میں ان کا الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہوں بلکہ میدان میں ہوں۔

سوال: پی ٹی آئی اس وقت الیکٹیبلز کی پولیٹکس کر رہی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اقتدار حاصل کرنا چاہے اس کے نظریاتی کارکنوں کو کمپرومائز ہی کیوں نہ کرنے پڑے ۔ کیا یہ صحیح ہے؟

ڈاکٹر بابر اعوان : آپ کی بات سے مجھے ایسے لگا کہ جیسے باقیوں نے تبلیغی جماعت سے کینڈیڈیٹ مانگے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جب پہلے ٹانگہ پارٹی ہوتی تھی بقول عمران کے تحریک انصاف اس وقت تو یہ بڑے خوش ہوتے تھے اور اب جب ایک پارٹی صحیح فیڈرل ، ڈیموکریٹک  ، فورس کے ساتھ سوئنگ میں آئی ہے تو یہ بات کر رہے ہیں۔ اکثریت لوگوں کی مطمئن ہے ٹکٹس پر ۔ عمران خان اپیل سنیں گے اور جن لوگوں کو اعتراضات ہیں ان کو مطمئن کریں گے ۔ ہر کارکن عہدیدار کو ہم راضی کریں گے ۔

سوال: پیپلزپارٹی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر ماضی رکھتی ہے ۔ پی ایم ایل این کوئی نظریاتی جماعت نہیں رہی ہے۔ آج جو پی ٹی آئی کو کریٹیزم کا سامنا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہی پی ٹی آئی ہے جو تنقید کا نشانہ بناتی تھی پیپلز پارٹی کو ، جو تنقید کا نشانہ بناتی تھی پی ایم ایل این کو اور دوسری پارٹیوں کو ۔ کہتے تھے کہ اسٹیٹس کو کہ لوگ ہیں ،میری فائٹ اگینسٹ اسٹیٹس کو ہے ۔ اب نظریات کہا گئے پارٹی کے؟

ڈاکٹر بابر اعوان : یہ جو تنقید ہو رہی ہے میں اس کو سمجھنے کا آسان نسخہ بتاتا ہوں ۔ ایک آدمی رہا مسلم لیگ ن میں کسی نے بات نہیں کہ جوہی شبنم کیس کے حوالے کا ملزم پی ٹی آئی میں آیا 7 دن میں ساتویں آسمان تک چیخیں پہنچیں ، ہم نے لوگوں کی رائے کا احترام کیا اس کو نکالا۔ اس وقت ایجنڈا ہے الیکشن کے حوالے سے ۔ سب کو خوف ہے پاکستان تحریک انصاف سے اس لیے جن کو خوف ہے ان کی توپوں کا رخ ہے پاکستان تحریک انصاف کی طرف ۔ دوسرا یہ کہ کیا پاکستان کے ایشوز یہ ہیں کہ کسی نے شادی کرلی۔ کسی کے خلاف کتاب لکھی جارہی ہے ۔ اس پر اعتراضات ہوں گے ۔ پاکستان کے ایشوز کیا یہ ہیں۔ پاکستان کے ایشوز اس ماورا ہیں۔ اور ان میں سے تین ایشوز بہت اہم ہیں۔ کیا وہ لوگ جو دس سال پنجاب اور سندھ میں بیٹھے رہے ۔ باقی جگہوں پر بیٹھے رہے ان کی اکاؤنٹیبیلٹی ہونی چاہیے ۔ یا اس بات کا ذکر ہونا چاہیے کہ عمران خان نے مدینہ شریف میں جرابیں کیوں نہیں اتاریں۔ ؟ یہ سارا کچھ اس لیے ہے کہ جب آپ فوکس جب نان ایشوز کی طرف کریں گے تو شہباز شریف کے قتل چھپ جائیں گے۔ نواز شریف کی وارداتیں چھپ جائیں گے اور ان کی بیٹی کے تمام انٹرویوز چھپ جائیں گے۔ جو آپ کا تحقیقاتی کام ہے وہ بھی پیچھے چلا جائے گا۔ اس لیے میں سب سے درخواست کرتا ہوں جن کو پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ، ڈیموکریٹک سسٹم کے ساتھ کوئی دلچسپی ہے کہ وہ آگے بڑھیں ۔اور اس وقت ایشوز کو اچھالیں ۔ ایشوز پر بات کریں۔ دوسرا جو اس وقت اہم پہلو ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کا نام ان کے دور میں عالمی تنہائی کی وجہ سے ڈال دیا گیا ہے اس لسٹ میں جو جون کے اندر ریوائز ہونے جارہی ہے ۔ کہ کیا ہم سرمئی رنگ کی لسٹ میں رہیں گے یا ہم بلیک لسٹ میں چلے جائیں گے اور پھر سب سے بڑا ایشو یہ ہے کہ بھائی میں کئیرٹیکرز کو کہنا چاہتا ہوں کہ تم بھائی نگرانی کرو، قوم کو سیدھی بات بتاؤ کہ خزانہ میں کیا پڑا ہے ؟ آپ کیوں چھپاتے ہیں۔ کہ بھائی بجلی بڑی ہے ۔ پیسہ بڑا ہے اور بجلی بڑی ہے تو وہ کہا ہے پھر۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں جتنے بھی ایشوز اٹھائے جارہے ہیں یہ سب الیکشن سے کچھ دن پہلے کھڑے کیے جاتے ہیں اور پولنگ بند ہوتے ہیں بند ہوجاتا ہے یہ سلسلہ۔

سوال: پی ٹی آئی کو ریحام خان کی کتاب کو ڈیفینڈ نہیں کرنا چاہیے تھا یا رسپانڈ نہیں کرنا چاہیے تھا ؟

ڈاکٹر بابر اعوان : جب کوئی لیک ہوا تو اس پر رسپانڈ کرنا چاہیے تھا ۔ اوور ریاکٹ کیا میں اس سے اتفاق کرسکتا ہوں۔ ہر پاکستانی اس بات سے اتفاق کرے گا۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں پوچھنا چاہیے کہ ایک طرف مودی نے 54 اعشاریہ 5 ارب سے کشن کنگا پر ڈیم بنا کر ہمارا سارا پانی اپنی طرف کرلیا ہے اور وہ چوری کر کے رہ گیا۔ اور پاکستان کے اندر جو سب سے بڑا صوبہ جو کبھی پانچ دریاؤں کی سرزمین ۔ وہاں پر تین نالے اور دو دریا رہ گئے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ جو اورنج ٹرین بنی ہے ۔ کیا منصوبہ ہے اس کی جڑیں کیا ہیں؟ اس کا فائدہ کہاں ہے ۔ 240 ارب روپے اس پاکستان میں جس کے 75 فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ان کا پیسہ لگ گیا ہے۔ اس کو تو مل گیا کوور ۔ اب کوئی نہیں پوچھ رہا ہے کہ الیکشن سے پہلے اتنے پیسوں کی بھرمار کہا سے آگئی کہ اتنے بڑے بڑے اشتہارات چل رہے ہیں۔ میں پوری قوم سے یہ دست بستہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو یہ موقع  پانچ سال کے بعد ملا ہے ۔ ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں یہ موقع پانچ سال کے بعد آئے گا۔ اس وقت پاکستان ایسے دہرائے پر نہیں اس وقت پاکستان ایسے کھائی کے کنارے کھڑا ہے کہ اس کا دنیا میں کوئی دوست ہے نہ اس کے پاس فارن ریزرف ہیں ۔ 10 ارب سے بھی کم ہیں۔ نہ ہم قرضے اتارنے کے قابل ہیں۔ بیمار معیشت ہے۔ کوئی نئی فیکٹری نہیں کھل سکی۔ پنجاب کے ہر ڈسٹرکٹ کے اندر ان کا ایمپائر بیٹھا ہے ڈی سی او۔ ان کا ایمپائر بیٹھا ہے ڈی پی او۔ کہاں ہیں پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کرنے والے ۔ سارے وکیل ہیں۔ وکیلوں کا راج ہے پورے پاکستان میں۔

سوال: ان کو مشرف صاحب تو بڑے یاد آرہے ہیں کہ وہ فرار ہیں۔ ان کے اپنے صاحب زادے جو انٹرویو پلانٹڈ دے رہے تھے جو پاکستان آئے کہ الحمد اللہ یہ ہمارا ہے ۔ اب کہاں ہیں ؟ کیا وہ پاکستان کی نیشنلٹی سلینڈر کرچکے ہیں؟ کوئی وہ جوابدہ نہیں ہیں پاکستان کی عدالتوں کو؟

ڈاکٹر بابر اعوان : ہم مشرف کی ڈکٹیٹرشپ کے مخالف تھا ۔ اس لیے کہ وہ ماورائے آئین نظام تھا۔ اس کے ساتھ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ اگر دس درجے کا بزدل کوئی کہتا ہے نہ تو یہ دس لاکھ درجے کے بزدل ہیں۔ اگر اس کی ایک نسل بھاگی ہوئی ہے تو ان کی چار نسلیں ملک سے بھاگی ہوئی ہیں۔ آپ گن کر دیکھ لیں ، شریف صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ سے شروع کریں۔ یہ مفروری اور منی لانڈرنگ کی گود میں پلے ہوئے خاندان ہیں ۔ خواتین کا اگر ان کو اتنا غم ہیں تو ایک دن میں پارلیمنٹ کے اندر جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ صحافیوں کا جو پارلیمنٹ میں پورشن ہے ۔ اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کے درمیان سے مجھے ایک منی لانڈرنگ کرنے والا چہرہ نظر آیا نواز شریف کا۔ میں جب پاس سے گزرا تو وہ یہ فرما رہے تھے کہ میں اپنی حکومت آتے ہی جو پہلا کام کروں گا ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لاؤں گا ۔۔ لائے وہ واپس؟ انھوں نے ساتھی ہماری وکیل کو کہا تھا کہ ہم آئیں گے تو مختارا مائی کو انصاف دلوائیں گے۔ دلایا انھوں نے انصاف؟

میں شرمیلا فاروق کے ابا کا وکیل تھا۔ ان کی والدہ اور ان کی تصویر جس اینگل سے لی گئی کہ وہ بیٹھی ہوئی ہیں ۔ اس پر ترس آیا ؟ حکمران کون تھا نواز شریف ۔ شہباز شریف۔ آلہ کار کون تھا جس کو انہوں نے احتساب کے ادارے کا سربراہ بنایا سیٹنگ سینیٹر ان کی اپنی پارٹی کا ۔ ان کے بعد شہلا رضا ہیں ۔ ان کو میل پولیس کی گاڑی میں بیٹھا کر لیجا کر ان کی تصویریں بنائیں گئیں۔

سوال: جب ان کی حکومت تھی ای سی ایل میں نام ڈالنے کا کہا تھا وزارت داخلہ نے نہیں ڈالا ۔ ان کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا جارہا

ڈاکٹر بابر اعوان : ایک اور غلط کام ہواہے ۔ اس وقت جو نگراں سیٹ اپ ہے اس سے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وزیروں کی کمیٹی ان کے ناموں پر غور کرے گی ۔ وہ بندے باہر چلے گئے ان کے خلاف چارجز ہیں۔ عمران کے ساتھ جو گیا تھا وہ ملک میں واپس آگیا ہے ۔ اس کے خلاف کسی عدالت میں کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ یہ وقت ہے پاکستان کی قوم کو جاگنے کا اور یہ وقت ان گفتگوں کا نہیں ہے جو چھیڑی جارہی ہیں ۔ یہ وقت ہے پاکستان کے مستقبل کو درست سمت چلانے کا۔