نادیہ مرزا کا ملک میں بجلی کے بحران پر خصوصی پروگرام

معروف اینکر  نادیہ مرزا نے تجزیاتی پروگرام ’لائیو ود نادیہ مرزا‘ میں ملک میں بجلی کے بحران پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی، پی ٹی آئی کے رہنما اعجاز چوہدری اور ماہر توانائی ارشد عباسی سے خصوصی گفتگو کی ۔

پروگرام کے موضوع کے حوالے سے میزبان کے تعارفی کلمات

بجلی کی لوڈ شیڈنگ تو ہو رہی ہے اور اسی شدت کے ساتھ ہور رہی ہے جب کہ کہا گیا تھا کہ رمضان الکریم میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کچھ سوال نہیں کر سکتے کیوںکہ ہمیں منع کردیا گیا ۔ شہباز شریف جاتے جاتے کہہ گئے کہ آج ہمارا آخری دن ہے ۔ آج تو بجلی آرہی ہے لیکن اگر کل سے نہ آئے تو ہم سے کوئی نہ پوچھے ، نواز شریف صاحب سے کوئی نہ پوچھے ، عباسی صاحب سے کوئی نہ پوچھے کیوںکہ ہم نے اپنا کام کردیا ۔

اب اگر بجلی نہیں آرہی تو یہ نگراں حکومت سے پوچھیں اور نواز شریف بھی آج غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے احتساب عدالت کے باہر تو انھوں نے بھی کہا کہ نگراں حکومت زمہ دار ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں ہے ۔ اور اسی طرح سے نگراں حکومت نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے ۔ جسٹس ناصرالملک نے کہا ہے کہ اس کو یقینی بنایا جائے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ اگر آپ نے 10 ہزار میگا واٹ ایڈ کردیے ہیں نیشنل گریڈ میں تو اس کے باوجود کیوں ہورہی ہے ۔ اور آج بھی ہورہی ہے ۔

کل ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک پریس کانفرنس ہوئی اور اس پریس کانفرنس کے بعد جب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ان سے ایک سوال کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ فلاں کہتے ہیں کوئی خلائی مخلوق ہیں۔ وہ ہمیں یہ نہیں کرنے دیتی وہ نہیں کرنے دیتی ، ہمیں ملک چلانے نہیں دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کا جواب بھی دیا۔انہوں نے حتی الامکان کوشش کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے اور بتایا جائے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بہتر ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ۔ وسعت اللہ خان صاحب جن کے حوالے سے میں بات کر رہی تھی جس کو میں نے پڑھا اور سوچا کہ اس کو پروگرام کا حصہ بنایا جائے اس میں انہوں نے ایک اہم بات کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’ اگر مان لیا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک اسٹرونگ رول ہوتا ہے جو وہ پلے کرتی ہے ۔

اسٹیبلشمنٹ ہی وہ ہے جس نے پاکستان میں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔ جو لیگ پولینگ بھی کر رہی ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ اگر ان تمام چیزوں کو مان لیا جائے۔ لیکن انھوں نے کچھ سوالات اٹھائے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے لیے کہ آخر یہ بتادیں کہ یہ کرنے سے آخر آپ کو وہ کونسی چیز روک رہی ہوتی ہے ۔ اگر آپ اسٹیبلشمنٹ کے رول کو الگ بھی کردیتے ہیں۔

ان کے سوالات یہ تھے۔

اگرآپ کو کوئی کام خلائی مخلوق کرنے نہیں دیتی ۔ تو جن کاموں کا ذکر وسعت اللہ خان نے اپنے کالم میں کیاہے وہ کرنے سے آپ کو کونسی خلائی مخلوق روک رہی ہے ۔

سوال: آپ کو یہ منطق سمجھ آتی ہے کہ ہم نے تو بنا دی تھی بجلی اب چوں کہ ہمارا تو آخری دن ہے تو اگلے دن لائٹ جاتی ہے تو نگراں حکومت کو پکڑیے گا جس نے ابھی آفس کا چارج بھی صحیح طریقے سے نہیں لیا۔

سینیٹر نہال ہاشمی: اگر دس ہزار میگاووٹ بجلی سسٹم میں نہیں آئی ہوتی تو ساری دنیا کو پتہ چل جاتا ۔ آج کے دور میں یہ چھپتا نہیں ہے۔ اب اس کے بعد اس کی ڈسٹریبیوشن کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری وپڈا کی بھی ہوتی ہے ۔ پروڈکشن کوئی کرتا ہے ۔ ان کمپنیز میں جو لوگ ہوتے ہیں ان کی بھر پور ذمہ داری ہوتی ہے کہ اگر ہمارے اسٹور میں بجلی ہے تو اس کو علاقے تک پہنچانا چاہیے ہمارے کارخانے کو اور بازاروں کو اندھیرے میں نہیں ڈوبنا چاہیے ۔

پی ٹی آئی کے رہنما اعجاز چوہدری: جو اس وقت صورتحال ہے جو 2013 میں شارٹ فال تھی 6، ساڑھے 6 ہزار ، اتنی ہی شارٹ فال اس وقت موجود ہے اور آپکو اضافی بات میں عرض کردوں کہ جوں ہی رمضان المبارک شروع ہوا انڈسٹری میں مسلسل 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ۔ آپ کو یاد ہوگا ایپٹما کے جو گروپ لیڈر ہیں فیاض گوہر اور اس نے روزے سے ایک دن پہلے پریس کانفرنس کی اور اس نے کہا کہ ہم برباد ہوگئے۔ اس کیفیت میں ہم اپنا سرکل ہی پورا نہیں کرسکیں گے تو بزنس ہمارے لیے مشکل ہوگیا تھا پہلے ہی اب ناممکن ہوگیا ہے۔ جب 2013 تھا تو قیمت تھی 8 روپے اور اب قیمت ہے 12 روپے اور جتنی ریوینیو کلیکشن اس وقت تھی اب ہے اس کی آدھی ۔ چار سو بلین روپے انھوں نے دیے تھے اور وہ اس وقت کوئی ٹریلین روپے سے اوپر پر ہیں پھر سرکولر ڈیتھ۔ جن پروجیکٹس کا یہ ذکر کرتے ہیں ان میں کوئی سو فیصد تو کیا اسی فیصد بھی نہیں چل رہا ۔ اس لیے عملا ان کے دعویٰ جو ہے کہ ہم نے اضافہ کردیا ۔

شہباز شریف نے اکتیس کی رات سے پہلے جو تقریر کی تھی وہ اس نے اصل میں اپنی کارگردگی کا تذکرہ کیا تھا کہ کیا کرایا ہم نے کک نہیں ہے ۔ کل دھڑام سے یہ گرجانا ہے ہمیں برا بھلا نہیں کہنا اور یہ وہ شہباز شریف ہے جس نے فیروز پور روڈ پر بیٹھ کر پنجاب کے اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی ، سارا دن یہ فیروز پور روڈ بند رکھتے تھے۔ اور انہوں نے پیپلزپارٹی کے لوگوں کے گھروں پر حملہ کیے تھے۔

سوال: اگر 10 دس ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کردی ہے ۔ تو کوئی ان سے نہ پوچھے ۔ تو کوئی کیسے نہ پوچھے؟

ماہر توانائی ارشد عباسی: ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ انرجی نیشنل سیکیورٹی کا ایسیڈ ہے ۔ آپ نے ایک بات کا ذکر نہیں کیاکہ آپ کے فارن ریزرف کتنے رہ گئےہیں۔ پاکستان میں ایمپلائمنٹ کتنی ہے ۔ پاکستان میں کنفیوشن کتنی ہے ۔ انکا تعلق انرجی سے ہوتا ہے۔ یہ پیور انجینئرنگ یعنی میتھ میٹکس ہے ۔ یہ صحیح بات ہے کہ دس ہزار میگاواٹ مسلم لیگ ن کی حکومت نے شامل کیے ہیں۔ یہ پورا سسٹم یہ ہے کہ آپ نے جنریشن بھی کی ۔ آپ نے ٹرانسمیشن بھی کرنی ہے اور پھر ڈسٹریبیوشن بھی کرنی ہے ۔ اگر آپ کی بجلی کنزیومر تک نہیں پہنچتی تو اس کے کوئی معنیٰ نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اعجاز چوہدری: بارہ سال ہوگئے ہیں بھاشا ڈیم کو اور اس کی بھاشا ہم آج تک نہیں بول سکے جو اگر آج سے بارہ سال پہلے شروع ہوا تو وہ بارہ سال کا پروجیکٹ ہے اب تک مکمل ہوچکا ہوتا ۔ اڑتالیس سو میگا واٹ داخل ہوگیا ہوتا ۔ اس کے فوائد ہمارے سامنے آتے ۔ اصل میں بات یہ ہے کہ بابا آدم ہی نرالا ہے ۔

یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ تصدق حسین صاحب انٹیرم سیٹ اپ کا حصہ تھے ۔ اور وہ اگر ارشد عباسی صاحب کو جا کر کہہ دیتے تھے کہ لوڈ شیڈنگ کو کس طرح زیادہ سے زیادہ کم کیا جائے جس علاقے کی بجلی بند ہوتی ہے تو اس کو مزید بجلی بند کرنے کا دورانیہ بڑھایا جائے تاکہ آنی والی گورنمنٹ میں اس کو پولیٹکلی استعمال کرسکیں اور یہ 2013 میں جب ن لیگ کی حکومت آئی تھی تو وہ اسی پولیٹیکل سلوگن کے ساتھ آئی تھی اور یہ کس طرح سے تکلیف عوام کو دی گئی تھی۔ عوام کو کس اذیت سے دوچار کیا گیا تھا ۔ یہ سیاست دان یہ حرکتیں کرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکیں ۔