عارف علوی ملک کے 13ویں صدر منتخب

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی ملک کے 13ویں صدر منتخب ہوگئے۔

الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے نتیجے کی تفصیل جاری کردی۔ جس کے مطابق مجموعی طور پر 1 ہزار 83  ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں سے 27 مسترد ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی نے 353 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے نامزد صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمان کے حصہ میں 185 ووٹ آئے جبکہ پیپلزپارٹی کے اعتزازاحسن 124الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے۔

صدر کے انتخاب کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی، پاکستان پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن اور مسلم لیگ ن سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے درمیان تھا۔

ملک کے 13 ویں صدر مملکت کے انتخاب کے لیے سینٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 1121 ووٹرز نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔جس کے مطابق پی ٹی آئی کے عارف علوی ایوان صدر کے نئے مکین منتخب ہوئے۔

قومی اسمبلی کےنتائج کااعلان

پارلیمنٹ میں 432 میں سے 424 ووٹ کاسٹ ہوئے عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کیے۔پارلیمنٹ میں 6 ووٹ مسترد اور دو ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

پنجاب اسمبلی کے نتائج کا اعلان

پنجاب اسمبلی میں 354 میں سے 351 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا۔پنجاب اسمبلی میں عارف علوی کو186ووٹ ملے جبکہ مولانافضل الرحمان141،اعتزازاحسن کو6ووٹ ملے۔ پنجاب اسمبلی میں18ووٹ مستردہوئے۔

سندھ اسمبلی کےنتائج کااعلان

سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ووٹ کاسٹ ہوئے، پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزازاحسن کو100اور تحریک انصاف کے عارف علوی کو56ووٹ ملے جبکہ دیگر اپوزیشن پارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو ایک ووٹ پڑا۔

بلوچستان اور سندھ اسمبلی کے نتائج کا اعلان

بلوچستان اسمبلی میں 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے اور ریک رکن نواب ثناء اللہ زہری نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ بلوچستان اسمبلی سے تحریک انصاف کے امیدوار عارف علوی کو 45 ووٹ ملے اور  فضل الرحمٰن کو 15 ووٹ ملے۔جبکہ اعتزازاحسن کوکوئی ووٹ نہیں ملا۔

خیبرپختونخوااسمبلی کےنتائج کااعلان

خیبرپختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 ارکان نے ووٹ ڈالے،آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔عارف علوی کو78اورمولانافضل الرحمان کو26ووٹ ملے۔جبکہ اعتزازاحسن صرف5ووٹ لےسکے۔

ریٹرننگ آفیسر الیکشن کمشنر سردار جسٹس (ر) سردار رضا خان چاروں صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہیں اکٹھا کریں گے اور زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے شخص کو ملک کا منتخب صدرقرار دیں گے۔

صدارتی انتخاب کا عمل صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک بلاتعطل جاری رہا، خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے انتخاب میں موبائل فون سمیت کسی بھی کیمرہ ڈیوائس کا پولنگ اسٹیشن میں لانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

ملک کے 13ویں صدر کے انتخاب میں وزیراعظم عمران خان پولنگ کا وقت ختم ہونے کے آخری گھنٹے میں اسمبلی ہال پہنچے اور اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

پولنگ کا طریقہ

صدر مملکت کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ، قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار ہوگا جب کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے برابر شمار ہوں گے۔ صدر کا الیکٹورل کالج مجموعی طور پر 706 ووٹوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن مختلف اسمبلیوں میں نشستیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس مرتبہ یہ تعداد 684 ہے۔

اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں پریزائیڈنگ افسر چیف الیکشن کمشنر جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پریزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔

آئین میں درج طریقے کے مطابق پریزائڈنگ افسر ہر رکن کو اس کی متعلقہ اسمبلی ہال کے اندر ایک بیلٹ پیپر فراہم کرے گا جس میں صدارتی امیدواروں کے نام چھپے ہوں گے۔

ہر رکن خفیہ طریقے سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر اس کے حق میں اپنا ووٹ دے گا۔

شام 4 بجے پولنگ ختم ہونے پر پی او گنتی کے بعد نتیجے کا اعلان کریں گے۔ تمام ووٹوں کو جمع کر کے نتیجے کا سرکاری اعلان چیف الیکشن کمشنر خود کریں گے۔

کامیاب امیدوار کے نوٹیفکیشن کے بعد نئے صدرِ مملکت سے چیف جسٹس آف پاکستان حلف لیں گے۔