عید الاضحی : سنت ابراہیمی کی پیروی کا عظیم دن

dua

عید الاضحی دراصل اللہ کے خلیل کی قربانی کی عظیم اور زندہ یادگار ہے اللہ کے  نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دل کی گہرائی سے آخری عمر میں اولاد کے لئے دعائیں مانگی تھیں، مناجات کیں تھیں، سجدوں کی نذر پیش کی تھی اور بھیگی پلکوں کے سائے میں خالق مطلق سے بیٹے کی درخواست کی تھی اور جب دعائے خلیل کو شرف قبولیت حاصل ہوا تو چمن زار آرزو میں بہاریں مسکرانے لگیں۔

 گھر کا چشم و چراغ روشن ہوگیا اور جب یہ غنچۂ تر ایک شاداب پودے کی شکل میں رعنائی بکھیرنے لگا تو وہ کیسی آزمائش کی گھڑی ہوگی جبکہ خدائے عز و جل کے حکم کی محض تعمیل میں ایک دن وہی باپ اپنی تمنائون کے مرکز ‘ اپنی آرزوؤں کے پیکر اور اپنے ارمانوں کے حاصل سے جنگل بیابان کی بے آب و گیاہ ‘ لق و دق سرزمین پر مشورہ طلب کررہا ہے کہ ’’یٰبنیّ انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا ترٰی( صافات۔۱۰۲)‘‘ یعنی ’’ ائے جان پدر ! محض خدائے برتر کی خوشنودی کی خاطر ہم تمہیں ذبح کرنا چاہتے ہیں بتائو اس سلسلہ میں تمہاری رائے کیا ہے؟‘‘ اور مقدس باپ کے سعادت فرزند نے والد محترم کے علم کو یقین کا جامہ پہناتے ہوے اور جذبۂ ایثار کو نور علی نور بناتے ہوے عرض کیا ’’یابت افعل ما تؤمر ستجد نی ان شاء اﷲ من الصٰبرین ( صافات۔۱۰۲)‘‘ یعنی’’ میرے پدرِ بزرگوار آپکو جس بات کا حکم دیا گیا ہے بغیر کسی پس و پیش کے اسے کر گذرئے اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔ ‘‘

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

ایسی قربانی کی دنیا میں مثال نہیں کہ ایک طرف باپ اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی قربانی پیش کررہا ہے تو دوسری طرف سعادت شعار صاحبزادے اپنی متاع حیات کی قربانی پیش کررہے ہیں۔

 حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک نئے عزم کے ساتھ کائنات گیتی پر تسلیم و رضا کا ایک نرالا امتحان دینے کیلئے اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ وادی منیٰ کی قربان گاہ میں موجود ہیں ۔

 آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے تاکہ شفقت پدری سے کہیں ہاتھ کانپ نہ جائے اور ہاتھ میں چھری لئے ہوے زائد از نوے سال کا بوڑھا باپ ہے کہ مناجات سحر کے بعد خاندان کا جو چشم و چراغ عطا ہوا تھا اب اُسی اور اُسی محبوب جگر گوشہ چراغ کو گل کرنے کیلئے اُس کی آستینیں چڑھ چکی ہیں۔

 اسمٰعیل علیہ السلام لیٹ گئے اور اللہ کے خلیل نے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی فوراً رحمت حق جوش میں آئی اور پکار اُٹھی ’’یابراھیم قد صدقت الرؤیا(سورئہ صافات۔۱۰۵)‘‘ یعنی ’’(اے ابراھیم!) بیشک تو نے اپنا خواب سچا کردکھایا‘‘ قدرت کا عجیب کرشمہ تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام الگ کھڑے مسکرا رہے تھے اور آپ کی جگہ ذبح ہونے والا ایک دنبہ تھا جسے حکم الٰہی سے حضرت جبرئیل علیہ السلام جنت سے لاکر اسماعیل علیہ السلام کی جگہ لٹا دئے تھے۔

 آج کوئی ہزاروں برس کا طویل ترین زمانہ گذر چکا ہے جس کے دوران نہ جانے کتنی یادگاریں بنتی گئیں اور فنا ہوگئیں۔ کتنے انقلابات رونما ہوئے اور کتنی تاریخیں بن کر قصہ پارینہ ہوگئیں۔

 لیکن تاریخ کی کوئی تبدیلی اور زمانے کا کوئی انقلاب آج تک اللہ کے خلیل و ذبیح کے بے مثال ایثار و قربانی کی حقیقت کو فراموش نہ کرسکا۔

 باپ بیٹے کی یہ قربانی اللہ کی نظر میں اتنی مقبول ہوگئی کہ یہ سنت خلیلی تا صبح قیامت زندہ و پائندہ ہوگئی۔ ہر سال لاکھوں فرزندان توحید مخصوص متبرک ایام میں قول ہی سے نہیں بلکہ عملی نمونہ بن کر اس سنت ابراہیمی کو تازہ کیا کرتے ہیں۔ جسے ایک دوامی ثبات حاصل ہونے کا راز یہ بھی ہے کہ اس قربانی کے یادگار و مقدس واقعہ میں جہاں اللہ کے خلیل و ذبیح کے قلب میں خلوص ، جذبات میں صداقت اور فکر و نظر میں للہیت کارفرما تھی۔ وہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی گہرائی سے نکلی زبان سے بار بار کہہ رہی تھی ’’اے اللہ ! پھر سے ہماری نسل میں ایسی ہی امت پیدا فرما جو ہماری طرح اسلام پر قائم اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو۔( حضرت مولانا قاضی سید شاہ اعظم علی صوفی قادری)

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔