وزیر اعظم ،وزیر خارجہ، سپہ سالار سے اعلیٰ امریکی حکام پر مشتمل وفد کی ملاقات

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان  ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے  پاکستان کے مختصر دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ملاقات کی اور پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوڈنفورڈ اور دیگر حکومتی اور فوجی حکام کے ہمراہ پاکستان کے اہم دورے پر 5 ستمبر کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان ، ہم منصب شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

پرائم منسٹر ہاوس میں وزیر اعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور ملٹری تعلقات کو اتفاق رائے سے آگے بڑھانے اور خطے کی موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال سمیت افغانستان کے حوالے سے معاملات زیر بحث رہے ۔

قبل ازیں  مہمان وفد نے دفتر خارجہ کے آفس کا دورہ کیا جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ دفترخارجہ میں وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ اس موقع پر مائیک پومپیو کے ہمراہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سفارت خانے کے اعلی حکام بھی موجود تھے۔

مذکرات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مائیک پومپیو کو وزیراعظم عمران خان کے اصلاحاتی ایجنڈا سے آگاہ کیا اور بتایا کہ عام پاکستانی کے معیار زندگی میں بہتری لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے.

شاہ محمود قریشی کا مہمان وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی سطح پرپاکستان کاتشخص بلند کرناحکومت کی ترجیح ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں قیام امن کے لیے کردار اداکرتے رہیں گے۔

مذاکرات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے مواقع اور خطے کی موجودہ صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ امریکا وفد سے تعلقات میں سرد مہری اورتعطل کا عنصر نمایا رہا ہے لیکن آج کا ماحول یکسربدلاہواتھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کا مؤقف امریکا کے سامنے پیش کیا۔

شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گا جس سے قوم کے سامنےغلط بیانی ہو۔ امریکا کے سامنے پاکستان کامؤقف ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے واشنگٹن کی دعوت موصول ہوئی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی وفد نے کافی عرصہ کے بعدپاکستان کادورہ کیا اور اس دورے میں پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی مؤقف کا دفاع میری ذمہ داری ہے میں جب اقوام متحدہ جاؤں گا توامریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کروں گا۔ ہم نے پاک امریکاتعلقات میں ڈومورکا نہیں آگے بڑھنےکا مطالبہ کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔

امریکی وفد سے کہا اگر آگے بڑھنا ہے توبنیاد سچائی پرہونی چاہیے ۔ مذاکرات کے دوران ہم نے امریکی وفد کی خواہشات کوسمجھا اور اپنی توقعات بھی پیش کیں۔

شاہ محود قریشی کا کہنا تھا کہ مائیک پومپیوکو اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کا مینڈیٹ کیاہے۔ پاکستانی عوام کو نئی حکومت سے نئی توقعات ہیں اور ہم اپنی پالیسیزکوازسرنوتشکیل دیناچاہتےہیں۔

ہم نے بتایا کہ پی ٹی آئی عوام کی بہتری کے لیے کام کرناچاہتی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا ہے میرا پہلاغیرملکی دورہ افغانستان کاہوگا۔  پاکستان اورافغانستان ایک دوسرے کی ضرورت اور سہاراہیں اور دونوں ممالک کامستقبل ایک دوسرےسےجڑاہواہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خوشحالی ہوگی توافغانستان میں بھی خوشحالی ہوگی اور اگر پاکستان میں ترقی ہوگی تواس کےاثرات افغانستان میں بھی ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان،  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی موجودتھے اور ہم نے  امریکاکوواضح کیا ہے کہ افغانستان میں آگے بڑھناہےتوہماری مدد چاہیے ہوگی۔

ملاقات میں ایک دوسرےکے نقطہ نظرکوواضح اندازمیں سمجھاگیا اور ہم نے امریکی وفدکوآگاہ کردیاکہ الزامات لگانےسےکچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تاثردیاجاتاتھاامریکی وفدپہلےجی ایچ کیوپھروزیراعظم سےملاقات کرتاتھا۔ ہم نے واضح کیا ملاقات میں کہ پیسوں کی نہیں اصولوں کی بات کرنی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے پاکستان افغانستان کے معاملات میں اس کی مدد کرے ۔ انکا کہنا تھا کہ امریکا سے تعلق صرف لین دین کانہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ خوددارقومیں الگ اندازسےسوچتی ہیں ، دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی قربانیوں سےغافل نہیں ہے اور امریکی وفد سے آج کی ملاقات میں کوئی منفی پہلودکھائی نہیں دیا بلکہ صرف آگے بڑھنے کی خواہش ظاہر ہوئی اور اگست2017اور2018میں اتنافرق تھا جتنادن اوررات میں ہوتاہے۔

مزید برآں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔