نامور ادیب اور افسانہ نگاراشفاق احمد کو مداحوں سےبچھڑے 14 برس بیت گئے

لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں اس بہترین اور ناقابلِ فراموش  بات کو کہنے والے نامور ادیب اور افسانہ نگاراشفاق احمد کو مداحوں سےبچھڑے 14 برس بیت گئے ۔

اردو اور پنجابی کے نامور ادیب، افسانہ و ڈرامہ نگار، دانشوراشفاق احمد کی 14ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔اشفاق احمد22 اگست 1925کو مکتسر ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئے۔انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔

داستان گو اور لیل و نہار نامی رسالوں کے مدیر بھی رہے اور 1966سے 1992تک اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔

ان کے افسانوی مجموعے ایک محبت سو افسانے،اجلے پھول، سفر مینا، پھلکاری اور سبحان افسانے کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے 41 برس تک ریڈیو کے مشہور ڈرامہ سیریل تلقین شاہ کا اسکرپٹ بھی لکھا اور اس میں صداکاری بھی کی۔اشفاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے متعدد کامیاب ڈرامہ سیریلز تحریر کئے۔

حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز عطا کئے ۔اشفاق احمد 7ستمبر 2004 کو لاہور میں اس دیارِ فانی ست کوچ کر گئے ۔

اشفاق احمد کے اقوال

جب زندہ آدمی کا اندر مر جاتا ہے ، تو وہ بڑا خوش اخلاق اور شائستہ ہو جاتا ہے اور شمع زندگی کے پروانے اس سے نور حاصل کرنے کے لیے دور دور سے اُڑ کر آنے لگتے ہیں

لفظوں کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں ۔

بارش کے دنوں میں باہر بوندیں پڑتی ہیں ، تو انسان کے اندر بھی بارش ہونے لگتی ہے ۔ اوپر سے تو ٹھیک رہتا ہو ، لیکن اندر سے بلکل بھیگ جاتا ہے ۔

زندگی کا مقصد زمہ داری ہے- اور سب سے بڑی زمہ داری الله کے ہاتھ میں ہاتھ دینا ۔

جوگ کا پہلا قدم تب اُٹھے گا جب غصے کو ختم کرے گا ، غرور تکبر راکھ بنا کر حکم حکومت داؤ پر لگا دے گا ، یہ رنگ اتار پھینک ‘ پھر جوگ کی سوچنا ۔

اکثر لوگوں میں تکبر ہوتا ہے ، مگر اُن کا نفس اُن کو پتا نہیں چلنے دیتا ۔

جس شخص نے آپ کا کوئی قصور کیا ہو ، اُس کو فوراً معاف کر کے آزاد کر دیں ۔ جب تک آپ اسے معاف نہیں کریں گے ، وہ قصور میں جکڑا رہے گا اور آزادی سے دور رہے گا یاد رکھیے جکڑے ہوئے شخص پر شیطان فوری حملہ کرتا ہے ۔