’’سعادت حسن مر جائے گا مگر منٹو زندہ رہے گا‘‘

تحریر: ایمن محمود

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار اور خاکہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھاتھا کہ ’’سعادت حسن مر جائے گا مگر منٹو زندہ رہے گا۔‘‘

سعادت حسن منٹو کا شمار اردو ادب کے ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فن سے ہم عصر افسانہ نگاروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 42 سال کی عمر میں دنیا سے کوچ کر جانے والے صاحبِ اسلوب نگار کا106واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

’’ افسانہ مجھے لکھتا ہے‘‘ منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ انہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-منٹو کے افسانے ادب کا سرمایہ ہیں۔ انکی سبھی تحریریں یعنی افسانے،مضامین اور خاکے آج بھی مقبول ہیں اور ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

منٹو نے اپنی تحریروں سے جانی پہچانی دنیا میں ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے گمراہ لوگوں کی دنیا کہتے تھے۔ منٹو کے افسانوں کی اس مروجہ اخلاقی نظام سے بنی تخلیقاتی دنیا میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی جو اسی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے۔یہی لوگ منٹو کی تحریروں کا موضوع تھے۔

اردو افسانے میں منٹو کا طرز اسلوب ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو افسانہ نگاری کی نئی طرز میں پہلی اینٹ ثابت ہوئی۔

سعادت حسن منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں تھے۔ ان کے افسانے پسماندہ معاشروں کے ماحول، کرداروں اور تضادات کی داستانیں بھی ہوتی تھیں جو معاشرے میں موجود تھیں لیکن انکے متعلق لکھے جانے پر اعتراض تھا۔

سعادت حسن منٹو11 مئی 1912کو لدھیانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔منٹو کےدوست اور سوانح نگار ابو سعید قریشی کے مطابق سعادت حسن بچپن ہی سے کھلنڈرے اور شرارتی تھے جو اپنے دوستوں کو چونکا دینے کے لیے غیر معمولی شرارتیں کیا کرتے تھے۔ سعادت حسن کے دوست انہیں ’’ٹامی‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

سعادت حسن منٹو اپنےگھر میں ایک سہما ہوا بچہ سمجھے جاتے تھے۔ سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے وہ اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتے تھے البتہ ان کی والدہ ان کی طرفداری کرتی تھیں۔ ایسے حالات میں سعادت حسن منٹو کو اپنی اصل شخصیت کے اظہار کا موقع گلی کوچوں میں ملتا۔

منٹو ابتدا ہی سے تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انھوں نے 1931ء میں یہ امتحان پاس کیا۔

منٹو کی سوچ اور زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز اس وقت ہوا جب 1933ء میں اکیس برس کی عمر میں امرتسر میں ہی ان کی ملاقات اس وقت کے ایک معروف سکالر اور رائٹر عبدالباری علیگ سے ہوئی۔ عبدالباری علیگ نے منٹو کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں اپنے اندر کے ادیب کو پہچاننے اور روسی اور فرانسیسی ادیبوں کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔

منٹو نے اپنے تحریری سفر کے آغاز میں ترقی پسند نظریات کے حامل افسانے لکھے جس کے بعد ان کے اسلوب اور تخلیق میں نکھار آتا گیا اور ان کی ہر تحریر آنے والے وقت کا ادبی معیار بنتی گئی۔

منٹو کے شہرہٴ آفاق افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور کالی شلوار جیسی بہت سی تحریریں شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے، خاکے اور ڈرامے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

منٹو کے افسانے نہ صرف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ ان کی سبھی تحریریں بشمول افسانے، مضامین اور خاکے اردو ادب میں بےمثال حیثیت کے حامل ہیں۔

بر صغیر کی تقسیم کے بعد منٹو بھارت میں بمبئی سے پاکستان آ کر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال گذارے۔کثرت شراب نوشی کی وجہ سے وہ لاہور ہی میں 18جنوری 1955ء کو صرف بیالیس سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

ان کی تحریریں آج بھی اس دنیا کو ان کے خیالات و مشاہدات سے روشناس کراتی ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک دنیا میں اردو زبان کا وجود ہے ۔

منٹو کی موت کے بعد جتنا ان کے فن اور شخصیت پر لکھا گیا شایدکسی دوسرے کہانی کار پر نہ لکھا گیاہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ منٹو نے خود اپنے بارے میں جو کچھ لکھ دیا وہی بہت ہے۔ یہاں تک کہ انکی کی قبر کا کتبہ بھی ایک نہ ختم ہونے والی کہانی میں سے ایک ہے جوکہ انہوں نے خود لکھاہے کہ ’’یہ سعادت حسن منٹو کی قبر ہے،جو اب بھی سمجھتا ہے کہ اس کا نام لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں‘‘۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔