لیلتہ الجائزہ : انعام کی رات

Lailatul – Jaiza

تحریر :عنبر حسین سید
عید کی چاند رات کو لیلتہ الجائزہ کہتے ہیں اس میں ہمیں اپنی عبادات اور ریاضت کو نبیﷺ کا واسطہ دے کر اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا ہے اور اپنا جائزہ لینا ہے کیا ہم نے رمضان کا حق ادا کیا یا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے رمضان کے روزوں میں احکام الہی پر عمل کیا یا نہیں کیا ؟ کیا ہم نے روزہ کی حالت میں بدگوئی ، فضول گوئی ،جھوٹ ، غیبت اور ہر طرح کی برائی سے پرہیز کیا ؟ تو آج کی رات ہمیں اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگنا ہے ۔
اللہ سبحان تعالیٰ کو راضی کرنا ہے اور استغفار کرنا ہے ۔انشا اللہ پروردگار ہمارے تمام گناہو ں کو معاف فرما دے گا اور لیلتہ الجائزہ ہمارے لیے با بر کت ہوجائے گی ۔

عام دیکھنے میں آیا ہے کہ عید کا چاند نظر آتے ہی بازاروں میں چاندنی سی بکھر جاتی ہے اورچہروں پر رونق ہی رونق نظر آتی ہے اللہ اس رونق اور خوشی کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے کوئی بازاروں کا رخ کرتا ہے تو کوئی فوڈ اسٹریٹس کا کوئی شاپنگ سینٹرز کی خاک چھانتا ہے تو کوئی درزی کی منت سماجت کر رہا ہوتا ہے۔ کبھی سوچا کہ کیا ہی بہترہو اگر یہ تمام خریداری اور سیر و تفریح کے کام پہلے ہی مکمل کرلیے جائیں اور عید کی چاند رات کو اپنےروزہ اور نماز کے ساتھ دعاؤں کی قبولیت کے لیے بھی بارگاہِ رب ا لعزت میں ہاتھ پھیلائے جائیں ۔ کیونکہ ایک روزہ دار نے پورے رمضان اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے روزہ رکھا ہے تو اب جب مزدور کی مزدوری ملنے کاوقت ہے تو وہ غافل ہو جائے یہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔

عید الفطر امت مسلمہ کے لئے انتہائی با برکت اور خوشیوں کا موقعہ ہوتا ہے۔ اس دن اللہ تبار ک تعالیٰ کی جانب سے بے شمار رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو بہتر انعام اور بدلہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور پر نور ؐ نے ارشاد فرما یا کہ عید ا لفطر کی رات اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ بتائو جب مزدور اپنی مزدوری پوری کر چکا ہو تو تو اس کی جزا کیا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود !اسے پوری مزدوری ملنی چاہیے۔ اللہ فرماتا ہے کہ فرشتو! تم گواہ رہو کہ میں نے روزہ داروں پرہیز گاروں کو بخش دیا اور ان کے لئے جنت کو واجب کر دیا ۔ اس لئے اس رات کا نام لیلتہ الجائزہ‘‘ یعنی انعام والی رات ہے ۔

عید الفطر کی رات کو حدیث میں “لیلتہ الجائزہ” یعنی انعام کی راتکہا گیا ہے۔حدیث کا مفہوم ہے  کہ  جس شخص نے دونوں عیدوں کی راتوں کو ثواب کا یقین رکھتے ہوئے (عبادت کیاور گناہ سے بچا رہا) تو اس کا اس دل قیامت کے دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل (دہشت سے ) مردہ ہوجائیں گے۔ : (فضائل رمضان)

شیطان کو چونکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے اس لیئے اسکی فضیلت سے محروم کرنے کے لیے اس نے یہ راستہ نکالا ہے کہ لوگوں کو اس رات مختلف قسم کے گناہوں میں مبتلا کردیتا ہے۔

اس لیے مانگ مانگ لو چشم تر مانگ لو، مانگنے کا مزا آج کی رات ہےکملی والے کی نگری میں گھر مانگ لو، مانگنے کا مزا آج کی رات ہے۔

ہمیں  نہیں  معلوم  کہ  اگے  سال  یہ ماہِ  صیام  ہمارا مہمان  بنے گا  یا  نہیں   اس لیے  سمیٹ  لیں  جتنی  نعمتیں  ،برکتیں  اورفضیلتیں  سمیٹنی ہیں  کیونکہ فرش پر دھوم ہے عرش پر دھوم ہے، بد نصیبی ہے اس کی جو محروم ہے ۔پھر ملے گی یہ شب کس کو معلوم ہے،عام لطف خدا آج کی رات ہے۔

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے، ہم اس ہی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں ۔ اپنے گناہوں کی بخشش کے ساتھ نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، اے ہمارے پروردگار ہم سے راضی ہو جا اور اس ماہِ مبارک کے صدقے میں ہمارے تمام گناہِ صغیرہ کبیرہ کو معاف فرما دے ۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔