بیرونی قرضوں نے حکومت کے لیے معاملات بدترکردیے، اسٹیٹ بینک

کراچی: اسٹیٹ بینک نےسہہ ماہی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بڑے پیمانے پرلیے گئے بیرونی قرضوں نے حکومت کے لیے معاملات بدترکردیے ۔

قومی مالیاتی ادارے اسٹیٹ بینک نے ملکی معاشی کارکردگی کی تیسری سہہ ماہی جائزہ رپورٹ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2018 کا مالیاتی خسارہ 9 ماہ میں جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہا جب کہ مالیاتی خسارے کاپورے سال کے لیے ہدف جی ڈی پی کا 4.1 فیصد تھا۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق آمدنی کم اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے معاشی ترقی کے فوائد نہیں مل سکے۔ بڑھتے جڑواں خسارے نے بہترمعاشی کارکردگی کا اثرزائل کردیا جب کہ مالی سال18،جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 13سال کی بلند ترین سطح 5.8 فیصد رہی اور امن وامان کی بہترصورتحال سے کاروباری رجحانات کو فروغ ملا لیکن معاشی نمو کے باوجود تجارتی، مالی خسارے نے پائیدارترقی کو متاثر کیا۔

جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی قدرمیں کمی سے مہنگائی میں اضافےکارجحان ہے۔ معاشی ترقی کا انحصاراندرونی وبیرونی خسارے پرقابو پانے کےعوامل پرہوگا جب کہ ٹیکس بنیادمیں توسیع کے لیے اور ایف بی آرکی کارکردگی بڑھانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر لیے گئے بیرونی قرضوں نے حکومت کے لیے معاملات بدتر کردیے۔