دانیال عزیز توہین عدالت کیس: سیدھا چلیں گے توآپ کے لیے بہتر ہوگا، جسٹس شیخ عظمت

اسلام آباد: جسٹس شیخ عظمت سعید نے دانیال عزیزکیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تاخیری حربے استعمال نہیں کریں ۔ سیدھا چلیں گے توآپ کے لیے بہتر ہوگا۔

سپریم کورٹ میں دانیال عزیزکیخلاف توہین عدالت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے جاویدہاشمی کابیان غیرمتعلقہ قراردے دیا ۔

دوران سماعت دانیال عزیزکے وکیل نے حاجی آدم کو دوبارہ بلانےکی استدعا کی جس کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جوگواہ متعلقہ نہیں انہیں بلاکر کیا کرناہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اپنےگواہ کوسمن کی تعمیل خودکروائیں اور تاخیری حربےاستعمال نہ کریں اگر سیدھاچلیں گےتوآپ کےلیےبہترہوگا اور اگر آپ کوایڈیٹنگ کامسئلہ ہےتواصل ویڈیوبھی منگوالیتےہیں۔

اس موقع پر دانیال عزیزنےجاوید ہاشمی کی سی ڈی بھی عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیاکسی اورنےدانیال عزیزکی آوازنکالی؟ کسی اورکادانیال عزیزکی آوازنکالنا مشکل لگتاہے۔

دانیال عزیز کے وکیل نے درخواست کی کہ گواہان کاشف جباراورحاجی آدم کوطلب کرناچاہتےہیں ۔ جسٹس عظمت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک گواہ توپہلےہی پیش ہوچکاہے اور ساتھ ہی انصاف کےتقاضےپورےکرنےکےلیےکاشف جبارکوطلب کرنےکی اجازت دے دی۔

وکیل صفائی علی رضا نے عدالت میں کہا کہ گواہ نےوہ مواد پیش نہیں کیاجوہمیں درکارہے ۔ نجی ٹی وی کےکلپ کی تصدیق کروانی ہے۔ نجی ٹی وی کاکلپ ایڈیٹ شدہ ہے اور ہم جانناچاہتےہیں کہ ویڈیوکس نےبنائی اور اپڈیٹ کی۔

جسٹس سعیدعظمت نے کہاکہ ویڈیوسےمتعلق پیمراگواہ پرجرح کرچکےہیں اور آپ متن کوپہلےہی تسلیم کرچکےہیں۔ آپ گواہ سے بھی مواد منگوا سکتے تھے۔

پراسیکیوٹر راناوقار نے کہا کہ عدالت کےسامنےمعاملہ ایڈیٹنگ کانہیں ہے اور دانیال عزیزکےگواہ غیرمتعلقہ ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باربارایک گواہ کوبلانے سےوقت ضائع ہوگا ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 24اپریل تک ملتوی کردی۔