سندھ ہائیکورٹ : سانحہ 12 مئی کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم

کراچی : سندھ  ہائی کورٹ نے سانحہ 12 مئی سے متعلق مقدمے میں تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سانحہ 12 مئی 2017 سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنایا جس کے مطابق معاملے کی اسرنو تحقیقات کے لیے مشترکہ تقیقاتی ٹیم بنانے اور  سندھ حکومت کو انکوائری ٹریبیونل بنانے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے سندھ حکومت کو فیصلے پر عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی اور اے کلاس کے تحت ختم کیے گئے 65 مقدمات دوبارہ کھولنے کا بھی حکم دیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے نے سانحہ 12 مئی کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے ان مقدمات کی مانیٹرنگ کے لیے جج بھی مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ 12 مئی کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو 3 ماہ میں مقدمہ نمٹانے کا حکم دیا تھا۔تاہم عدالت نےفریقین کےوکلاءکےدلائل سننےکےبعدفیصلہ محفوظ کیاتھا۔

ساںحہ 12 مئی کیس

12 مئی 2007 کو غیر فعال چیف جسٹس افتخار چوہدری سندھ ہائی کورٹ کہ پچاسویں سالگرہ پر کراچی آرہے تھے۔ ان دنون سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف  کے دورِ آمریت میں وکلا تحریک عروج پر تھی۔

غیر فعال چیف جسٹس کی آمد پر اپوزیشن کارکنان افتخار چودری کے استقبال کیلئے نکلے تو  شہر کے مختلف مقامات پرانکے  اورحکومتی  کارکنان کے  درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں شہر  کو خون سے نہلا دیا گیا ، اسی روز سیاسی جماعت کے کارکنوں کی فائرنگ سے وکلا سمیت کم از کم 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 130 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ اس موقع پر شہر میں تشدد اور ہنگامے کا بازار گرم ہوگیا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ چاروں طرف گولیوں کی گونج اور آگ پھیلی ہوئی ہے۔دن بھر جاری اس مسلح ہنگامے میں گاڑیوں اور املاک کو بھی نذرِ آتش کیا گیا تھا۔

سانحہ 12 مئی میں قتل کیے جانے کے 7 مقدمات شہر کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے۔لیکن گیارہ برس کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ملزمانن پر فرد جرم عائدنہیں کی جاسکی۔