سندھ اور خیبرپختون خوا اسمبلیوں کی 5 سالہ مدت پوری

کراچی : سندھ اور خیبر پختون خوا اسمبلی کی 5 سالہ مدت آج پوری ہوجائے گی۔ جس کے بعد صوبائی اسمبلی آج رات 12بجے تحلیل ہوجائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آج سندھ اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں اپنی مقررہ مدت پوری کریں گی، دونوں اسمبلیوں کی مدت آج رات بارہ بجے ختم ہورہی ہے ،جس کے بعد صوبائی حکومت کی بارہ وزارء پر مشتمل کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی کا آخری اجلاس آج اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ہوگا، اجلاس کے دوران ارکان اپنا الوادعی خطاب کریں گے۔

مراد علی شاہ نے بھی صوبائی کابینہ کا الوداعی اجلاس آج شام وزیراعلیٰ ہاؤس میں طلب کرلیا ہے ، جس کے بعد کابینہ ارکان کے اعزاز میں افطار عشائیہ بھی دیا جائے گا۔

سندھ اسمبلی کے پانچ سالہ مدت کے دوران 894قرادادوں میں سے119منظور ہوئی دو واپس لی گئی چار کمیٹی کے حوالے ہوئیں اور775منظور نہ ہو سکی، ان قرار دادوں بانی ایم کیو ایم کو وطن دشمن قرار دینے، عمران خان کی مختلف بیانات کی مذمت کرنے ، دہشت گردی کے بڑے واقعات کی مذمت کرنے نواز شریف کے بمبئی حملوں کے بیان کی مذمت کرنے ، جنرل مشرف کو قانون کے کٹہرے میں لانے ،سندھ او کراچی کے الگ الفاظ نا بولنے اور شہید بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین پیش کرنے ،سندھ اسمبلی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان کیخلاف دو مرتبہ مذمتی قرار دادیں بھی شامل ہیں۔

قراردادوں میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیموں کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارد اد بھی شامل ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی

خیبرپختونخوا اسمبلی کا آخری اجلاس آج منعقد ہورہا ہے، جس میں تمام ارکان اسمبلی کو بلایا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کا پہلا اجلاس 29 مئی 2013 کو بلایا گیا تھا، 5 سال میں اسمبلی کے اب تک کل 279 اجلاس ہوچکے ہیں جن میں مجموعی طور 196 بل پیش کیے گئے 196 بلوں میں سے 151 بل منظور ہوئے، جن میں فاٹا انضمام ،رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ، لوکل گورنمنٹ بل، بلاسود قرضوں کا بل اور جہیز پر پابندی کا بل سرفہرست ہیں ۔

حاضری کے حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی عائشہ نعیم نے سب سے زیادہ 259 اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ مسلم لیگ ن کے گوہر نواز نے اسمبلی اجلاسوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور 279 اجلاسوں میں صرف 56 میں شریک ہوئے۔

بات کی جائے وزرا کی تو پاکستان تحریک انصاف کے وزیر علی امین گنڈاپور وہ واحد وزیر ہیں جنہوں نے 168 اجلاسوں سے غائب رہ کر حاضری رجسٹر پر حاضریاں لگانے کی زحمت نہیں کی ۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے کئی اجلاسوں میں ایوان مچھلی منڈی بھی بنا رہا جبکہ کئی بار بات ہاتھا پائی تک بھی گئی جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے پانچ اراکین اسمبلی مدت پوری ہونے سے قبل ہی دارفانی سے کوچ کرگئے، جن میں فرید خان، اسرار اللہ گنڈاپور،اکبر حیات،عمران مہمند اور سورن سنگھ شامل ہیں۔