الرجی کی علامات ، اقسام ، اور بچاؤ

skin-allergy

الرجی کا مرض ڈھیٹ اور ضدی ہوتاہے اور ٹھیک ہونے میں بہت وقت لگاتا ہیں کیونکہ انسانی جلد بہت حساس ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر موسم کی تبدیلیوں سمیت اور بیماریاں جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔

آج ہم بات کریں گے الرجی کی علامات ، اقسام ، اور بچاؤ کے بارے میں ۔الرجی اس وقت بہت زیادہ عام ہے اور زیادہ تر لوگ اس کا شکار ہیں وہ ہے ۔

الرجی کیا ہے؟

الرجی جلد الرجی ایک ایسی بیماری کا نام ہےجس میں جلد پر خارش اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ الرجی جسم میں قوت مدافعت کی کمزوری کے باعث ہوتی ہے ۔

الرجی کی علامات

خارش، دانے یا پھر داد کی صورت جسم میں مقررہ جگہ پر ہونے کے ساتھ ساتھ پھیلتی ہے اور آہستہ آہستہ سارے بدن پر پھیل جاتی ہے۔ جس سے متاثرہ شخص کو ایک عجیب قسم کی بے چینی کا سامنا ہونے لگتا ہے اور اسے بار بار کھجانے یا سکون محسوس ہوتا ہے۔
الرجی کیوں ہوتی ہے؟
آج کل الرجی ایک عام بیماری ہے ایسی چیز جس کا کھانا یا لگانا جسم قبول نہ کرےتو اس چیز کے کھانے یا جسم پر لگاے سے الرجی ہو جاتی ہے ۔

الرجی معاشرے کے تقریباً ہر طبقے میں پائی جاتی ہے۔کوئی بھی کھانے کی یا لگانے کی ایسی چیز جو جسم کو چھوجائے یا پھر جسم میں داخل ہوجائے، جسم اسے کسی صورت برداشت نہ کرے ، اور پھر اس عمل کے ردعمل میں جسم میں خارش، چبھن یا پھر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسان کو اندر سے بے چین کردے۔ اسے الرجی کی وجہ تصور کیا جاتا ہے۔

الرجی کی اقسام

قابل برداشت الرجی

جلد کی الرجی الرجی عموماً ہاضمے کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جیسے ہی کھانے کے ساتھ جسم میں کوئی چیز داخل ہوتی ہے الرجی کی صورت میں جسم پر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں یا تو الٹیاں لگنا شروع ہوجاتی ہیں یا پھر جسم میں ایسی خارش شروع ہوجاتی ہے جو قابل برداشت ہوتی ہے۔ چہرے یا ہاتھوں پر سوجن محسوس ہوتی ہے اور بعض اوقات سر میں شدید درد بھی اسی الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ناقابل برداشت الرجی

یہ الرجی ابتدا میں اپنا اثر ظاہر نہیں کرتی، مریض کے لیے یہ پہلے تو قابل برداشت ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ جب یہ الرجی شدت اختیار کرلیتی ہے تو مریض کے لیے اٹھنا بیٹھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں ہونے والی خارش کی صورت میں کھجانے سے جسم پر نشانات پڑ جاتے ہیں، ہونٹ اور کان پر بھی سوجن آجاتی ہے۔اس الرجی کی ابتدا نزلے کی صورت میں ہوتی ہے۔

الرجی سے بچاؤ

موسم کی تبدیلی کے وقت خود پر توجہ دیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ایسا پرفیوم، عطر یا پھر کوئی اور خوشبو جو بہت زیادہ تیز ہو اور اس سے طبیعت میں یا جلد پر کوئی ایسے اثرات محسوس ہوں جو الرجی کا اشارہ کرر ہے ہوں تو ایسے میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

دھول اور مٹی میں ناک پر ٹشو یا رومال رکھ لیں تاکہ گرد سانس کے ذریعے ناک میں داخل ہو کر الرجی کا سبب نہ بن سکے۔

اپنی خوراک میں ایسی غذا شامل کریں جو آپ کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنائے۔

سونف، اجوائن اور پودینہ کا سفوف بنا کر کھانے سے پہلے استعمال کریں، اس سے جلد کی کے امکان کم ہوتے ہیں۔

انتباہ : حساس جلد والے اور کسی بھی جلدی بیماری میں مبتلا افرد اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی نسخہ استعمال نہیں کریں ۔