پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سماعت کیلئے مقرر

لاہور : سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے مقرر کردیا، کیس کی سماعت 20 اگست کو ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کیس کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے محمد یاور کی سربراہی میں قائم 3رکنی خصوصی عدالت کرے گا، بینچ میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس طاہرہ صفدر اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر شامل ہیں۔

خصوصی عدالت نے متعلقہ فریقین کو سماعت سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کی تھیں اور حکم دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے مئی میں عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔

تاہم11 جون کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

غداری کیس کا پس منظر

مسلم لیگ ن کی حکومت میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے لیے 2013ء میں خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی۔ 2014ء میں پرویز مشرف پر فردجرم عائد کی گئی تاہم 2016 میں سابق صدر کانام ای سی ایل سے نکالنے کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے۔

بعد ازاں عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

رواں سال 8 مارچ کو سنگین غداری کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی گئی اور 29 مارچ کو پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس یحیٰی آفریدی نے سماعت کرنے سے معذرت کرلی جس کے بعد سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کیس کی پیروی کے لیے قانون دان اکرم شیخ کو پراسیکیوٹر مقرر کیا تھا لیکن اکرم شیخ پراسیکیوشن ٹیم سے الگ ہوگئے کر اپنے عہدے سے استفیٰ دےدیا۔