خون میں لت پت اہل شام

Syria

تحریر:موسیٰ غنی

دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، انبیاء کی سرزمین اور اسلامی تاریخ کے روشن ابواب میں شامل، ہزاروں آئمہ، علماء، محدثین فقہاء و ادباء و مفکرین کے مرکز ملک شام میں آج اسلام اجنبی بن کر رہ گیا ہے۔ مغربی طاقتیں شام کے شہریوں پر ایسے ٹوٹ پڑی ہیں کہ جیسے گدھ کسی مردار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔

شام کے بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر ہر وہ ظلم آزمایا جاچکا ہے جو آج کا انسان سوچ سکتا ہے۔موجودہ حالات تیزی سے ہمیں عالمی جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں اور ہم ایک بے حس قوم کی طرح صرف کھیل کود اور مزاق میں مشغول ہیں گزشتہ کئی سالوں سے شام ،عراق ،لبنان ،فلسطین ،کشمیر عالمی طاقتوں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں روز قتل عام ہوتا ہےاور دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں کہ اس کی مذمت کرےیا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے ۔

 

مکار دشمنوں نے شام میں  وہاں کی آبادی کو آپس میں لڑوا کر اپنے مفاد کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک طرف روس ہے جو بشار الاسد کا حامی بن کر باغیوں کے نام پر شام کے معصوم بچوں ،بزرگوں اور خواتین پر قہر ڈھا رہا ہے تو دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ہیں کہ جو عوام کی مدد کے نام پر خوفناک تباہی پھیلا رہے ہیں۔

دہشت گردی کے نام پر شام کو مقتل بنانے والی دنیا کی ان طاغوتی طاقتوں کا بال بھی بیکا نہیں ہورہا اور اگر کوئی اس سے متاثر ہے تو وہ صرف اور صرف مسلمان ہیں ۔

بکھرے مسلمان شام تا عراق ،لبنان تا فلسطین ،کشمیر تا افغاستان خون کی ندیاں بہہ رہیں ہیں تو صرف اور صرف مسلمان کی اور لڑ رہے ہیں آپس میں تو صرف اور صرف مسلمان۔

تنظیم برائے انسانی حقوق کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں 2011ء سے اب تک4لاکھ 15 ہزار عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، اس کے علاوہ مجموعی طور پر لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ بیرون ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد 90لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

شام میں جاری خونی جنگ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے ہر قوت اپنا زور دیکھانے شام اور عراق کا رخ کرلیتی ہے خواہ میزائل چیک کرنے ہوں یا گولیاں لیکن کسی عالمی امن کے ٹھیکدار کویہ نظر نہیں آتا  اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ ،دو دہشت گرد ملک ہی امن کی بات کرتے ہیں یہ مذاق نہ امت مسلمہ کی سمجھ آتا ہے نہ دیکھائی دیتا ہے اور نہ سنائی دیتا ہے گونگے  ،بہرے مسلم  امہ  کےسربراہ  کو  شام میں مرنے والے بے قصور لوگوں کی  کوئی فکر نہیں  ہے۔

موجودہ دور میں امریکہ ،سعودیہ ،فرانس ،جرمنی ساتھ کھڑے نظر آتے  ہیں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت اور اس کے ہم پلہ ہے افغانستان کی نام نہاد حکومت کےجس کے پاس نہ ملک کا کنٹرول ہے اور نہ افغانستان میں امن کا کوئی ذریعہ، امریکی افواج کی افغانستان میں بدترین شکست کے دھانے پر ہیں تو وہیں بھارت کشمیر میں اب دو شکست خوردہ دیکھ رہے ہیں دجالی فتنے اقوام متحدہ کی طرف ۔شام میں معصوموں کی ہلاکت پر اقوام عالم خواب خرگوش کے مزہ لیے سو رہی ہے، اسے ہر حال میں بیدار کرنا ہوگا، ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا اور امت مسلمہ کے ہر فرد کو رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینا ہوگا۔

اس بار میری جنگ ہے خود اپنی ذات سے

اس بار ہار جانے کا امکان ہے بہت

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔