ابھی ’شامیوں‘ کو مزید قربانیاں دینا ہوں گی

تحریر: طٰہٰ جلیل

شام میں جاری خونریزی اور خانہ جنگی کو سات سال مکمل ہوگئے اور اس دوران اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے بغاوت اور باغیوں کو کچلنے کے بہانے ، اپنے حکومت کو طول دینے کی خواہش تلے ، لاکھوں معصوم لوگوں کی جانیں روند ڈالیں۔

سات برس قبل 15 مارچ کو شام کےعام لوگوں نے حکمران جماعت سے جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور اس دن کو  ’ڈے آف ریج‘ (غصے کا دن) کا نام دیا ۔ یہ احتجاجی مظاہرے دمشق ، حلب اور دیگر شہروں میں کیے گئے جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔

حزب اختلاف کی جانب سے کیے جانے والے ان مظاہروں کو دبانے کے لیے حکمران جماعت نے تشدد کا راستہ اپنایا جس نے مختلف عسکری گروپوں کو اپوزیشن کے جھنڈے تلے ایک کر دیا اور مختصر سے عرصے میں پورا ملک شام ’خانہ جنگی ‘کا شکار ہوگیا۔

7 سال قبل شروع ہونے والی عرب دنیا میں تبدیلی کی لہر تیونس اور مصر سے بڑھتی ہوئی ملک شام پہنچی جہاں 15 مارچ 2011ء کو عوام حکمران بشارالاسد سے جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے دمشق ، حلب اور دیگر شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ اس واقعے کا ردعمل تھا جس میں شامی فوج نے  دیواروں پر حکومت مخالف مظاہرے لکھنے والے پندرہ طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔ شامی فوج نے 13 سالہ حمزہ علی خطیب کو گرفتار کرکے بیہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ اس واقعے نے شامی عوام کو اسدی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر اکسادیا اور ان کا عرصہ دراز سے دبا ہوا غصہ ابھر کر سامنے آگیا۔

بغاوت کو کچلنے کے لیے بشارالاسد نے باغیوں کے خلاف ملگ گیر آپریشن کا آغاز کیا ۔ حکومت کے خلاف ڈٹنے والوں میں سے اکثریت نہتے لوگوں کی تھی ۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال اختیار کرلی جو بڑھتے بڑھتے شدید خونریزی کی شدت اختیار کرگئی جس میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔

شام میں موجود مختلف جتھوں میں بٹے عسکری گروپس کے اتحاد نے شامی حکومت کے خلاف جدوجہد شروع کی اور اسی دوران دولت اسلامیہ (داعش) بھی متاثرہ شامی علاقوں میں اسدی فوجیوں کے خلاف برسر پیکار ہوگئی اور ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہوکر ان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

داعش اور باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے شامی فوج کے ساتھ روس نے بھی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور شامی حکومت کے ساتھ اتحاد قائم کیا ۔

شامی حکومت نے حلب میں باغیوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کیا جس نے ہزاروں زندگیاں نگل لیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک نے اسدی اقدام کی بھر پور مذمت کی ۔

دونوں افواج نے مشترکہ طور پر حلب پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد اپنے خاندانوں اور گھروں سے محروم ہوگئے اور شام کی گلیاں انسانی خون میں نہا گئیں۔ شامی اتحادی افواج کی فضائی اور زمینی کارروائیوں نے شام کے شہروں کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا اور ہر سو موت کا رقص ، دہشت اور انجان خوف نے شامی عوام کو اپنے گھروں ، شہروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کردیا ۔

اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں جاری خانہ جنگی کو رکوانے کے لیے اقدامات کیے گئے جو کہ خاطر خواہ نتائج مرتب نہیں کرسکے ہیں۔ تاہم ترکی اور دیگر ممالک نے شامی حکومت کو معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ہمیشہ پرزور مذمت کی ۔

حلب کے بعد حال ہی میں شامی افواج اور اس کے اتحادی روس نے دمشق کے قریب واقع غوطہ کو بربریت کا نشانہ بنانے اور عمارتوں کو کھنڈرات میں بدلنے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے ۔ حالیہ آپریشن میں اب تک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق شام میں گزشتہ 7 سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران 5 لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور 2011 سے 2018 تک محفوظ مقام کی تلاش میں کروڑوں شامی اپنے شہروں سے ہجرت کرکے ترکی اور اقوام متحدہ کے پناہ گزین کیمپوں میں رہائش اختیار کرچکے ہیں۔

اب تک شام کی معصوم عوام نے اقتدار کی اس جنگ میں حکمران اور حزب اختلاف کے درمیان خلاء کو اپنی نعشوں سے پر کرنے کی کوشش کی ہے تاہم موجودہ حالات سے لگتا ہے، ’ابھی شامیوں کو مزید قربانیاں دینا ہوں گی‘۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔