ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں، جمائمہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ریحام خان کی کتاب پرردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں نہیں چھپ سکتی اور ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہونے کے قابل نہیں ہے۔

جمائمہ گولڈ اسمتھ کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کتاب چھپی تو ہتک عزت کا دعویٰ کروں گی اور کیس اپنے بیٹے کی جانب سےعدالت میں دائر کروں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے ریحام خان کی کتاب بہت توہین آمیز ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ اور اینکر پرسن ریحام خان کا کہنا تھا کہ کسی کوحق نہیں پہنچتا کہ مجھے وارننگ دے، یہ کس بات سے ڈر رہے ہیں، مجھے چپ کیوں کرارہے ہیں؟

تفصیلات کے مطابق لندن میں خاتون اینکر پرسن ریحام خان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں نےکافی وقت بہت مشکل گزارا کتاب میں اپنے اوپر بیتنے والے وہ حالات بیان کیے جو لوگ نہیں جانتے کتاب میں بتایا کہ مجھ پر کیسا دباؤ تھا کس طرح خاموش کروایا گیا کتاب میں بچوں کے رشتوں کے حوالے سے والدین کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتاب میں نوجوانوں، خواتین کیلیے بھی پیغام ہے کہ زندگی کیسے گزاریں، کتاب میں اپنا تجربہ بھی شیئر کیا کہ میں نے کس کام سے کیا نقصان اٹھایا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ کا کہنا تھا کہ تردید میں تب کروں جب میں نے کوئی بیان دیا ہو، تردید تو پی ٹی آئی کو کرنی چاہیے، یہ کتاب حمزہ علی عباسی کی سوشل میڈیا پر ہے وہ تردید کریں۔

ریحام خان نے واضح کیا کہ میرے پیچھے کوئی مغربی قوت اور سیاسی جماعت نہیں ہے، میں کسی کی عزت نہیں اچھال رہی یہ خود باتیں کر رہے ہیں، میں جوابدہ نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ وہ بڑی جماعت ہے لیکن میں نہیں سمجھتی ہوں اور میری کتاب جب شائع ہو جائے پھر جس کو جو کہنا ہے کہے۔ پی ٹی آئی کے کافی لوگ میرے ساتھ رابطے میں ہیں  بہت لڑکیاں جو پارٹی میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں رابطہ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر کتاب نہیں لکھ رہی  میرے پاس ای میلز بھی ہیں اور شواہد بھی موجود ہیں۔ لیگل نوٹس میں احسن اقبال کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ان سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تو مریم نواز سے کیسے ہو سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کس بات سے ڈر رہے ہیں، مجھے چپ کیوں کرا رہے ہیں؟ جہاں تک ہو سکا میں ان مافیا کیخلاف لڑوں گی۔