ڈارک ویب مجرمانہ سرگرمیوں کی منڈی

 | تحریر: وقاص جاوید |

دنیا بھر میں موجود مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگ اپنے پیسے کو حفاظت سے رکھنے اور استعمال کرنے کا کوئی نہ کوئی خفیہ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ان کو دوسرے گروپس کے ساتھ دنیا بھر میں لین دین کرنے میں معاونت کرتا ہے۔

“ڈارک ویب” منشیات ، اسلحہ ، فحش فلموں کی خریدو فروخت اور غیرقانونی چیزوں کی ڈیلنگ کے لیے شیطان صفت انسانوں کی سب سے با اعتبار جگہ ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں  سات سالہ معصوم زینب کا بے حرمتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ اس ہولناک واقعے نے قوم کو غم و غصے میں مبتلا کردیا ۔ ہر ایک نے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے واقعے کی مذمت کی۔

زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کے لیے سرگرداں تحقیقاتی ٹیم نے 9 جنوری کو قتل ہونے والی زینب کے قاتل عمران علی کو 14 روز بعد 23 جنوری کو پاکپتن کے علاقے سے گرفتار کرلیا۔

زینب  قتل کیس کے مبینہ مرکزی ملزم عمران علی کے حوالے سے پاکستان کے معروف اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود میں کچھ لرزہ خیز انکشافات کیے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا  کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر ان کے قتل میں چائلڈ پورنوگرافی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی مافیا ملوث ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ زیر حراست ملزم عمران علی بھی دنیا بھر میں چائلڈ پورنو گرافی پر کام کرنے والے گروپ کا کارندہ ہے ۔ اس کے 37 سے زائد بینک اکاونٹس ہیں جن میں فارن ایکس چینج اکاؤنٹس بھی شامل ہیں ۔  مافیا فحش فلموں کی لین دین اور خریدو فروخت بذریعہ ڈارک ویب دنیا کے کسی بھی کونے سے بیٹھ کربآسانی کرتا ہےاور اس کا نیٹ ورک بہت وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔

ڈارک ویب کیا ہے؟

ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لئے تین بار WWWلکھناپڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے ورلڈ وائڈ ویب، اسے سرفس ویب ، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لئے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ دن رات استعمال کر کرکے بھی جس انٹر نیٹ کو ہم ختم نہیں کرسکتے یہ کل انٹر نیٹ کا بہت تھوڑا سا حصہ ہے۔ باقی زیادہ حصہ عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔

اب ذہن میں سوالات ابھرتے ہیں کہ:

انٹر نیٹ کا  زیادہ تر حصہ  ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل رہتا  ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟  دنیا کی نظروں سے  اوجھل انٹر نیٹ کے بڑے حصے کو عام فہم لوگوں سے پوشیدہ کیوں رکھا جاتا ہے؟ انٹرنیٹ کے  اس حصہ کے پیچھے راز کیا ہے اور اس سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث مافیا کیا فوائد حاصل کرتی ہیں؟

ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ طور پر منظر عام پرلائی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی برق رفتار سے ترقی کرتے کرتے خاص و عام میں مقبول ہونے لگی ہے ۔ اس طرح پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ ہرگزرتے وقت کے ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔ ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتابت اب بذریعہ ای میل کی جاتی ہے۔

ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہی تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Security without  identification  لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں، یا پرانی ہیں۔ چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے صارفین کے بارے میں اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔

یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لئے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی کسی کا ڈیٹا چوری نہ کرسکے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے امریکی نیوی کے تین تحقیق کاروں نے یہ بیڑا اٹھایا اور Onion Routing کا نظام پیش کیا۔ اس نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس نظام سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھناؤ نے جرائم کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا اور اب لوگ نظام کو ڈارک ویب کے نام سے جانتے ہیں ۔

نیچے دی گئی تصویر کو دیکھ کر مذکورہ بالا بحث کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

تصویرمیں برف کے ایک  پہاڑکو دیکھا جا سکتا ہے جس کا بہت ہی تھوڑا حصہ سمندرسے باہر ہے جس کو   ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔

پھر ایک بڑا حصہ زیر آپ نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں ڈوبا ہوا نظر آرہا ہے، اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔ پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ کے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے مریاناز ویب کہا جاتا ہے جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔

او پر ذکر کیے گئے انٹرنیٹ کے چار حصوں کا مختصر تعارف :

1 ۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں۔

2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلا آپ کسی سیلولر کمپنی کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکلوانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے تو آپ متعلقہ کمپنی کی فرنچائز جاتے ہیں اور وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے۔  ہر کمپنی کی رسائی محدود اور صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔

3۔ پھر ڈیپ ویب سے نیچے باری آتی ہے ڈارک ویب کی۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی ، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔یہاں جانے کے لئے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے اور مکمل ایڈریس ڈالنے پریہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے، لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزرپر یہ اوپن نہیں ہوتی ، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹس کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانوناً جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا ہی پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے

پھر ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے، اور وغیرہ وغیرہ۔

اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ وہاں بآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریڈ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کر دیا تھا۔

4۔ Marianas web مریاناز ویب:-  یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔ نیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر دجالی قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے۔

ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں۔ ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔

اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ ڈارک ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی؟

تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لئے بناتے ہیں، چھری سبزی کاٹنے کے لئے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا۔ لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور باقی لوگوں کو پہلے سے ہی بتا دیا جائے کہ اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا و آخرت برباد کرسکتا ہے۔

حال ہی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں۱۳لاکھ پاکستانیوں نے ڈارک ویب کو گوگل پر سرچ کیا۔