جس نے 18ویں ترمیم کو چھیڑا تو میرے ہاتھ میں اس کا گریبان ہوگا، اسفند یار ولی

           چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندریارولی کا کہنا ہے کہ جس نے 18ویں ترمیم کو چھیڑا تو میرے ہاتھ میں اس کا گریبان ہوگا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندر یار ولی کا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کی حیثیت کٹھ پتلی جیسی ہے اور پی ٹی آئی نے  الزام تراشی اور گالیوں کو فروغ دیا ہے۔

اسفندیارولی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں ریکارڈ کرپشن کی ہے اور چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ کی خوب کلاس لی ہے۔ وزیر اعلیٰ اسپتالوں اور اسکولوں کے حالت پر مطمئن نہ کرسکے ہیں۔

اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں ہم پر ایک بھی مقدمہ قائم نہیں ہوا ہے اور پی ٹی آئی حکومت میں نیب نے وزیر اعلیٰ کیخلاف کیس بنایا ہے۔ آفتاب شیر پاؤ ہم سے حساب کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ کرپشن کے حوالے سے افتاب شیر پاو کی اڈیو ٹیپ میرے پاس ہے۔

اسفندیارولی کا کہنا تھا کہ مشرف کے دور میں حکومت میں آفتاب شیر پاؤ انگلینڈ بھاگ گئے تھے جبکہ چارسدہ پختون قومی تحریک کا مرکز ہے اور باچا خان نے کہا تھا کہ میرا صوبہ ہے لیکن صوبے کا نام نہیں ہے۔

اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خبریں آ رہی ہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کیا جا رہا ہے اور جس نے 18ویں ترمیم کو چھیڑا تو میرے ہاتھ میں اس کا گریبان ہوگا۔ انتخابات سے قبل فاٹا کو پختونخوامیں ضم کیا جائے۔

اسفندیارولی کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دی جائے اور عمران خان نا قابل اعتماد شخصیت ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندر یار ولی کا مزید کہنا تھا کہ نکالے گئے ارکان کی اکثریت پارٹی چھوڑنے والی تھی اور عمران بتائیں ووٹ خریدنے والوں کے خلاف کب کارروائی ہوگی۔ ہم کھبی بکے ہیں اور نا کسی کو خریدا ہے۔