ریٹنگ کی دوڑ نہیں صداقت کی جنگ ہے

Dr Shahid Masood

کراچی : سینئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کے تہلکہ خیز انکشافات کے بعد میڈیا میں ایک نئی لڑائی اور بحث چھڑگئی ہے۔

ان کے انکشافات پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل 3 رکنی بینچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دن تمام میڈیا ما لکان ، اے پی این ایس ، پی بی اے کو طلب کیا گیا تھا جس کے بعد کئی ٹی وی اینکرز ،صحافی اور تجزیہ کارسپریم کورٹ پہنچ گئے۔

نجی چینل کے ایک اینکر پرسن نے اپنے پروگرام میں سوال اٹھایا جو کسی حد تک درست بھی ہے کہ 3 کمپیٹٹر کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو کیا ہو گا ؟

انھوں نے معزز جج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف جسٹس اور ان کے ہر فیصلے کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں مگر یہ نہیں بنتا تھا کہ آپ پورے پاکستان کے صحافیوں کو اکٹھا کر لیں اور انھیں کہیں کہ ہمیں بتائیں کے ا ب ہمیں کیا کر نا چاہیے جرگہ اور عدالت میں فرق ہو نا چاہیے قانون کا مسودہ قانون کے مطابق حل ہو نا چا ہیے ۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا میرے پاس انفاریشن ہے چیف جسٹس بلائیں گے میں آوں گا اور ان کے سامنے ہر ثبوت اور بات رکھوں گا اس کے اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے وہ مطمئن ہوئے یا نہیں ہوئے یہ ان پر ہے کیوںکہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے بطور جرنلسٹ ان کا خیال ہے کہ یہ عمل اتنا قابل تعریف نہیں ہے ۔

ڈاکٹر صاحب کو یا تو اکیلے بلانا چاہیے تھا اور اگر وہ لانا چاہتے تو اپنا وکیل لے جاتے اور جو صحافی اس کاروائی کو سنا چاہتے وہ بھلے سے جاتے لیکن صرف سننے کے لیے ۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں صحافیوں کی اکثریت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی مذمت کی ان میں سرفہرست وہ اینکر پرسن ہیں جن کا شو ٹھیک اس ہی ٹائم پر ان ائیر جاتا ہے جس وقت ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام جاتا ہے ان کی مذمت میں ایک پروفشنل رقابت کا عنصر بھی نمایاں ہے وہ ایک دوسرے کے کمپیٹیٹر ہیں اور جب ایک کمپیٹیٹر سے دوسرے کمپیٹیٹر کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ کبھی اس کے حق میں نہیں بولیں گے اور جب اس کمپیٹیٹرکا پروگرام پرائم ٹائم کی ساری ریٹنگ لے رہا ہو تو پھر آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ بیان اور الزامات اس ہی طرح کے آتے ہیں جیسے ڈاکٹر صاحب پر لگائے گئے ہیں ۔