امریکی صدراورشمالی کوریا کے رہنما کی تاریخی ملاقات ختم

سنگاپور: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات اختتام پذیر ہوگئی، دونوں رہنماؤں نے تمام اختلافات کو بالائے تاک رکھ کر مصافحہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے درمیان ملاقات سنگاپور کے جزیرہ سینٹوسا کے کیپیلا ہوٹل میں ہوئی، ملاقات 45 منٹ تک جاری رہی۔

ملاقات کا باقاعدہ آغاز مصافحہ اور فوٹو سیشن سے ہوا۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے صرف متراجم شریک ہوئے۔ ملاقات کے اختتام کے بعد اب دونوں کی سربراہی میں وفود کی سطح پرملاقات جاری ہے۔

45 منٹ تک جاری رہنے والی ون آن ون ملاقات میں شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیار اور میزائل پروگرام ختم کرنے کا معاملہ سرفہرست رہا۔تاہم شمالی کوریا پر عائد عالمی پابندیاں ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ بہت اچھا محسوس کررہے ہیں، ہماری بات چیت بہترین ہوگی اور میرے خیال میں بہت کامیاب بھی ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا تعلق شاندار ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے اختتام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ کم جونگ اُن سے ملاقات بہت اچھی رہی، شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ مل کر معاملات کو حل کریں گے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے کہا کہ آگے چیلنجز کا سامنا ہوگا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

ملاقات سے قبل جنوبی کورین صدر کا امریکی صدر کو فون

شمالی کوریا سے ملاقات سے قبل جنوبی کوریا کے صدر مون جئے ان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ سربراہ ملاقات ختم ہوتے ہی نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیوکو جنوبی کوریا بھیجیں گے۔