واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر بند کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او)  کے دفتر کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے دفتر سے متعلق ایک محتاط جائزے کے بعد، انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسے بند کر دینا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال نومبر میں پی ایل او کے دفتر کو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا اور جامع امن کے قیام کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکنے کی خاطر پچھلے اجازت نامے کی مدت ختم ہونے پر اس کی تجدید کی تھی۔

بیان کے مطابق فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اس امریکی امن منصوبے کی مذمت کی ہے جسے انھوں نے ابھی دیکھا بھی نہیں اور امریکی حکومت کے ساتھ امن کی کوششوں کے لیے کام کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔

بیان میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیل کی جانب سے مبینہ بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں فلسطین کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے اس اقدام کے بعد فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس خطرناک بڑھاوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی نظام کو توڑ کر اسرائیلی جرائم اور فلسطینی عوام کے ساتھ ساتھ ہمارے خطے کے امن اور سکیورٹی کے خلاف حملوں کو بچانا چاہتا ہے۔‘