ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں معطل کرنے کا اعلان

سنگاپور: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے اپنی تاریخی ملاقات کے بعد جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنگاپور کے جزیرے سینتوسا کے ایک ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقیں روک رہے ہیں۔

 جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجی دستے واپس بلانے کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسا ہوسکتا ہے لیکن ان کے بقول فی الحال یہ اقدام زیرِ غور نہیں۔

صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کرکے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کم جونگ ان کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی ہے جو انہوں نے قبول کرلی ہے۔ ان کے بقول یہ دورہ “کسی مناسب وقت” ہوگا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان تخلیے میں اور وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت لگ بھگ پانچ گھنٹے جاری رہی تھی جس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کیے۔

اعلامیے میں بات چیت جاری رکھنے اور جزیرہ نما کوریا میں دیرپا اور مستقل امن کے قیام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں دونوں ملکوں نے جنگِ کوریا کے دوران قیدی بنائے جانے والے فوجیوں اور لاپتا ہونے والوں کی باقیات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

معاہدے میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا کہ یہ کیسے اور کتنے عرصے میں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ان کے بقول وہاں سے “جوہری ہتھیاروں کی لعنت” کو ختم نہیں کردیا جاتا۔