عارضہ قلب، شوگر اور دیگر موذی بیماریوں کا ’پانی ‘سے علاج

 |تحریر : ایمن محمود  |

پانی کی  اہمیت سے ہم سب واقف ہیں کہ زندہ رہنے کے لیے پانی اشد ضروری ہے لیکن گرم پانی (جو نہ تو بہت گرم ہو نا ٹھنڈا ہو) کے  بیش  بہا فوائد سے ہم نابلد ہی ہیں۔

انسانی صحت کو بیماریوں سے بچانے کے لیے سرگرداں ماہرین صحت کی حالیہ رپورٹ میں سادے پانی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سادے پانی کے استعمال سے انتہائی موذی بیماریوں سے انسان چھٹکارا حاصل کرسکتا ہے۔

تحقیقات کے بعد ماہرین نے بتایا کہ نارمل پانی پینے والا فرد ذیلی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

1- فشار خون (بلڈ پریشر)

2- جوڑوں   کا درد

 3- دل کی دھڑکن  میں بے ترتیبی

4- سر درد،

 5-درد شقیقہ(مائیگرین)  یعنی آدھے سر کا  درد

6- مرگی

7- کولیسٹرول

8- کھانسی

9- بے آرامی

10- دمہ

11-  معدے کی بیماریاں

12- کمر درد

13- کالی کھانسی

 14- رگوں میں رکاوٹ

15- بھوک نہ لگنا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرم پانی کیسے پیا جائے ۔ تو اس سوال کا جواب بھی ماہرین نے خود ہی دیا ہے کہ :

صبح سویرے اٹھ کر نہار منہ 2 گلاس  گرم پانی پئیں۔ پانی اتنا گرم نہ ہو کہ منہ جل جائے ۔ شروعات میں آپ کے لیے دو گلاس پانی پینا مشکل ہوگا اس لیے اپنی سہولت کے حساب سے آدھا یا ایک گلا س پینا شروع کریں اور آہستہ آہستہ دو گلاس پینے کو معمول بنالیں۔

اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ پانی پینے کے 45 منٹ بعد تک کچھ نہیں کھانا۔

گرم پانی پینے کے فوائد

گرم پانی پینے سے معاشرے میں پھیلی ہوئی خطرناک بیماریوں سے مختلف دورانیے میں چھٹکارا حاصل کرسکیں گے۔

بیماریوں سے چھٹکارے کا دورانیہ

1- ذیابطیس سے 30 دن میں

2- بلڈ پریشر سے  30 دن میں

3- معدے کی تیزابیت اور زخم صرف 10 دن میں

4- ہر طرح کا کینسر 9 ماہ میں

5- رگوں میں رکاوٹ 6 ماہ میں

6- بھوک میں کمی سے چھٹکارا صرف 10دن میں

7- مثانے اور رحم کی بیماریاں صرف 10 دن میں

8- خواتین کی بیماریاں 15 دن میں

9- دل کی بیماری 30 دن میں

10- سردرد اور دردِ شقیقہ 30 دن میں

11- دمہ  4 ماہ میں

12- کولیسٹرول 4 ماہ میں

13- ناک کان اور گلے کا حلم 10 دن میں

14- مرگی اور فالج کا علاج 9 ماہ میں

اگر مذکورہ بیماریوں میں کوئی بھی شخص مبتلا ہے تو وہ معالج کے مشورے کے بعد ماہرین طب کے بتائے ہوئے نسخے کا استعمال کرکے اپنی بیماری سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔