تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

|تحریر:شرجیل ارشد |

والدین اولاد کی پیدائش سے قبل ہی ان کے مستقبل کے حوالے سے خواب سجالیتے ہیں۔ کچھ اپنے جگر کے گوشے کو ڈاکٹر کے لباس میں دیکھتے ہیں ، ، کوئی بیٹی کو سائنس دان بنے نت نئے تجربات میں مشغول تو کوئی دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا پاک فوج کی وردی میں ملبوس وطن کی سرحدوں کا دفاع کررہا ہے۔

والدین کے خواب کچھ بھی ہوں، بچوں کا سپرمین باپ ہی ہوتا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ بچہ والدین کے پیشہ سے متاثر ہو کر بچپن ہی سے اسے اختیار کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔

جیسا کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ ڈاکٹر کا بچہ ڈٓاکٹر، انجینیر کا بیٹا انجینیر اسی طرح فوجی کے بچے بھی خاندانی طور پر فوجی ہوتے ہیں۔ انکا وطن سے محبت کا انداز ہی نرالہ ہوتا ہے۔ ان کا پہلا اور آخری پیار فوج اور ملک ہی ہوتا ہے ۔

والدین کا خواب ہمیشہ اپنی اولاد کو خود سے ایک قدم آگے دیکھنے کا ہوتا ہے۔ بالفرض اگر باپ فوج میں سپاہی ہو اور بیٹا فوج میں افسربھرتی ہوجائے تو ساری زندگی کی محنت وصول ہوجاتی ہے اور اگر یہی بیٹا وطن کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادے اور غازی یا شہادت کا رتبہ حاصل کرلے تو ناصرف والدین بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی یہ سپوت باعث فخر ہوتا ہے۔

ایسے ہی جانثاروں کا ایک خاندان میرے رفقاء میں شامل ہے ۔ حمزہ محمود میرا ہم جماعت تھا۔ ہم دونوں نے میٹرک تک تعلیم ایک ہی اسکول سے حاصل کی۔

حمزہ کا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے ، ان کے والد فوج سے سبکدوشی کے بعد اہلخانہ کے ہمراہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ حمزہ تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ بڑے دونوں بھائی پاک فوج سے وابستہ ہیں اور ملکی دفاع میں سربکف ہیں۔

حمزہ اہلخانہ کے ہمراہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو میرا رابطہ بھی منتقطع ہوگیا ۔ چار سال بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر حمزہ سے رابطہ بحال ہوا اور ماضی کے تمام یادیں میر نظروں کے سامنے گھوم گئیں، حال احوال کے بعد بھائیوں کی خیریت دریافت کی۔

اس نے بتایا کے میرے دونوں بڑے بھائیوں کی شادی ہوگئی ہیں۔ میں نے مبارکباد دی۔ اسی دوران اسکی آنکھیں نم ہوگئیں۔ میں چونکا گیا اور وجہ دریافت کی اور دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا کہ اب کہاں ہیں؟

حمزہ نے دکھی لہجے میں بتایا کہ آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کے چند روز بعد چھوٹے بھائی کا نکاح تھا۔ تاریخ طے کی جاچکی تھی۔ دعوت نامے بھی تقسم ہو چکے تھے۔ گھر پر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران چھوٹا بھائی آپریشن ضرب عضب میں شریک تھا۔

بھائی کی شادی کی تاریخ سر پر آپہنچی تھی لیکن اس کی آمد سے اب تک گھر والے بے خبر تھے۔ وہ ایک روز قبل بھی گھر نہ پہنچ سکا۔ تو بلاخر بڑوں نے مشاورت سے شادی کی تاریخ کچھ دن اور آگے بڑھا دی گئی مگر وہ سپاہی پھر بھی ملک دشمنوں سے برسرپیکار گھر نہ پہنچ سکا۔

بہرحال ماں باپ کی دعائیں رنگ لے ہی آئیں۔ دلہے کی واپسی کی خبر گھر پہنچی تو تیسری بار شادی کی تاریخ طے کی گئی اور اسکی آمد کا انتظار کیا جانے لگا لیکن رب کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا ۔

گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ بڑا بھائی بھی آپریشن میں شریک تھا۔ چند روز قبل ہی چھوٹے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے چھٹی لے کر گھرآیا تھا۔ میں بڑے بھائی کے ہمراہ گھر کے ایک کمرے میں بیٹھا گفتگو کر رہا تھا، اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔

ایک آواز آئی۔۔۔۔ اسلام علیکم سر۔۔ آج دوپہر پاک فوج کی گاڑی جوانوں کو لے کر وزیرستان کے راستےواپس آرہی تھی۔ اسی دوران گاڑی دہشت گردوں کی جانب سے سٹرک پر نصب کی گئ آئی ڈی مائین (بارودی مواد) پر چڑھ گئی اور اطلاعات ہیں کہ تمام جوان شہید ہوگئے ہیں۔ اسی گاڑی میں آپ کے بھائی بھی سوار تھا۔

دوسری جانب سے کی جانے والی گفتگو میں یہ عنصر نمایا تھا کہ آپ ذہنی طور پر ہر طرح کی خبر سننے کے لیے تیار رہیں۔ معاملہ ابھی تھما نہیں تھا۔ جواب میں بڑے بھائی نے تصدیق تک والد کو واقع سےآگاہ نہ کرنے کی درخواست کی۔

وہ لمحے کسی قیامت صغرہ سے کم نہیں تھے۔ گھر میں خوشی کا عالم تھا۔ ماں اپنے بیٹے کو دلہا بنا دیکھنا چاہتی تھی، مگر اس معصوم ماں کو کیا خبر تھی کہ اسکا بیٹا کس حال میں ہے۔

گھر میں ہم دونوں بھائیوں کے سوا اور کسی کو اس واقعہ کی خبر نہ تھی۔ دل میں ایک ہی دعا تھی یا اللہ خیرو عافیت کا معاملہ فرما۔ دل کی دھڑکن تیزی سے چل رہی تھی اور زبان پر صرف اللہ کا نام تھا۔

شام کا وقت تھا کہ ایک بار پھر فون کی گھنٹی بجی۔ وقت تھم سا گیا۔ دھڑکنی مزید تیز ہوگئیں ۔ بڑے بھائی نے فون اٹھایا۔

اسلام علیکم سر۔ فون سے آواز آئی۔

وعلیکم اسلام ۔ بھائی نے جواب دیا۔

پھر فون پر ایک سپاہی نے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ کہ آج وزیرستان میں پیش آنے والے واقع میں گاڑی میں موجود دیگر سپاہی جام شہادت نوش کرگئے۔ آپ کا بھائی شدید زخمی ہوا ہے۔ انھیں ڈاکٹرز کی نگرانی میں طبی امداد فراہم کی جاری ہے۔

یقینا بھائی کے منہ سے بے ساختہ الحمداللہ کے کلمات ادا ہوئے ہوں گے۔ مگر ساتھ ہی ہمیں جوانوں کا غم بھی تھا

چند روز بعد چھوٹا (زخمی سپاہی) اسپتال سے گھرآیا۔ اپنی شادی کی تقریب میں شرکت کی اور چند ہی روز بعد نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر ایک بار پھر مادر وطن سے کیے اپنے وعدے کو نبھانے کے لیے محاذ کی جانب چل دیا۔

اس بات چیت کے دوران حمزہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔ اس کی ہچکیاں تھیں جو بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ یقینا یہ لرزہ دینے والے واقعات تھے۔ مگر فوجی جوانوں کے اہلخانہ کے شب و روز انہی حالات سے گزرتے ہیں۔

چند روز قبل حمزہ کے والد سے بھی فون پر مختصر گفتگو ہوئی۔ میں نے پوچھا سر آپ کے دونوں بیٹے غازی ہیں، ہر وقت محاز پر رہتے ہیں، آپ کے احساسات اور کیفیت کیا ہوتی ہے۔

میرے لیے اس سے بڑی فخر کی کیا بات ہوگی کہ میرے دونوں بیٹے غازی ہیں۔ میں خود ایک فوجی ہوں۔ جانتا ہوں کس قدر مشکل حالات کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن اب اللہ کے سپرد ہیں۔ والد نے جواب دیا۔

کس طرح بات ہوتی ہیں، محاز کے دوران کوئی بات یا واقع دیا ہو۔ میں نے سوال کیا۔ بات قسمت سے ہی ہوپاتی ہے ۔انھوں نے کہا۔ ماہ رمضان کا مہینہ تھا۔ اس دوران ایک بار بات ہوئی۔ میں نے بیٹے سے پوچھا کہ روزے کیسے رکھتے ہوں۔ کہنے لگا، چند پھل اور بس پانی سے۔

جب سے میرے دونوں بیٹے آپریشن پر گئے ہیں۔انکی والدہ مسلسل علیل ہیں۔ آپریشن سے متعلق چینلز پر چلنے والی ہر خبرانھیں معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ انکے بیٹوں نے جن چوٹیوں کو فتح کیا، ایک ایک چوٹی کا نام یاد ہے۔ آخر وہ بھی ماں ہے۔

اس دوران انکی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں۔ مگر آواز بارعب تھی جس میں وطن سے محبت، خدمت کا جذبہ نمایا تھا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فوجی کے بیٹوں کی جرت اورحوصلہ کی اونچائی کس قدر ہوگی۔

یہ صرف ایک فوجی گھرانے کی کہانی ہے۔ جو نسل در نسل شب وروز اپنے وطن سے کیے وعدے پر ہمہ وقت جان نثار کرنے کو تیار ہے۔

اس قوم نے ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ تاقیامت دنیا سلام پیش کرتی رہے گی۔ جہاں کیپٹن بلال شہید کی والدہ جیسا جذبہ رکھنے والی مائیں ہوں، 22 سالہ لیفٹینینٹ ارسلان شہید جیسے نواجوان ہیرے، اپنی ایک سالہ بیٹی اور جوان بیوی کو چھوڑ کر وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے میجر اسحاق شہید جیسے سپوت کا خون مٹی میں شامل ہوں۔ تو پھر کوئی چاہ کر بھی اس ملک پر میلی نگاہ نہیں ڈال سکتا ۔

تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکنھے والے 6 ستمبر کے روز اپنا منہ چھپائے پھرتے ہیں۔

6 ستمبر پوری قوم یوم شہدا کے طور پر مناتی ہے۔ اس موقع پر وطن عزیز کی خاطر جان نثار کرنے والے شہدا، غازیوں اور ان کے اہلخانہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جو دوسروں کے خواب کی خاطر خود ادھورے رہ گئے” تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں”۔

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔