9/11 وہ تاریخ جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی

نائن الیون وہ تاریخ  جس نے  دنیا کی تاریخ  بدل دی یہ  وہ  سیاہ ترین دن ہے جس دن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک دور کا آغاز ہوا۔

 17 برس گزر جانے کے بعد بھی اس واقعے کی یاد  اور  اثرات  ابھی  تازہ ہیں جس نے دنیا کا  نقشہ  بدل دیا ۔

11 ستمبر 2001 ، کی صبح ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو دہشت گردی کا نشانہ بنیا گیا ،  ورلڈ ٹریڈ سینٹر مکمل تباہ ہوگیا۔ جسکے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے ۔ یہ واقعہ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ بتایا گیا کہ ‘‘القاعدہ ’’ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ عالمی قوت کے اہم تریں مقامات پر حملہ ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں ، اس لئے اس رات ہی امریکن صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تقریباً پوری دنیا نے ساتھ دیا ، اور اسکا آغاز افغٓنستان میں موجود تنظیم القاعدہ پر حملے سے ہوا،جس میں پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینا پڑا۔ اسکے بعد 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ  کیا کہ وہاں بھی دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے اور دیا کو نقصان پہنچانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ان دو ممالک می دہشت گردی کے خلف جنگ کے نام پر وہاں ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا کردی گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی اس جنگ کے نتیجے مین مختلف دہشت گردی تنظیمیں وجود میں آئیں جو دنیا بھر میں بے گناہ لوگوں کا خون بہا رہیں ہیں ۔دہشت گردی کے خلف اس جنگ نے جہاں مختلف اسلامی ممالک کو نقصان پہنچا وہاں پاکستان آج تک اس جنگ کا ساتھ دینے کا خمیازہ بھگت رہا ہے ۔پچھلے 16 سالوں میں پاکستان نے دیشت گردی کے بدترین حالات دیکھے ہیں ۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، خون کی ندیاں بہتی دیکھی ہین کہ ایم ہی دن میں مختلگ مقامت پر کئئ دھماکے بھی  ہوئے ہیں ۔ مزار، اسکول ، مدرسہ ، مساجد، رہائشی عمارتیں ، جلسہ جلوس ، سرکاری عمارتیں ، غرضیکہ ہر ادارے کو حتی الامکان نقصان پہنچانے کی کقؤوششیں کی گئیں۔ لیکن پاکستان اس دہشت گردی کا مقابلہ بہت بہادری سے کرتا آرہا ہے ۔ پہلے آپریشن ضرب عضب اور اب ملک گیر آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشت گردون کے ٹھکانے آئئے دن تباہ کئے جارہے ہیں۔

لیکن 11/9 کے بعد سے مسلمان ممالک اور مسلمان زوال کا شکار ہوگئے ، خصوصاً جو  ظلم و بربریت کا عالم شام اور روہنگیا میں ہے اسکا ذمہ دار کون ہے؟؟ کیا صرف امریکہ کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف ایک جنگ شروع کی۔ بہت سے مفروضے آج تک قائم ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کا ایک پلان تھا جسکے تحت وہ مسلم ممالک مٰن اپنی حکومت کرن اچاہتا تھا۔

مفروضات اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سب سے زیادہ مسلمان ہی متاثر ہوئے ہیں جسکی سب سے اہم وجہ اپنے دین سے دوری اور ملت اسلامیہ کا متحد نہ ہونا ہے ، ایک ملک میں مسلمان تڑپ رہے ہوتے ہین اور ہم بے حسوں کی طرح اپنی زندگی مٰن مگن ہوتتے ہیں۔ مسلمان دہشت گرد اس لئے بھی کہلائے جارہے ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ، ہم فرقہ ورانہ، لسانی، علاقائی تعصبات کا شکار ہین اور اتنا نقصان ہوجانے کے باوجود ہم آج بھی ان تعصبات کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ 11/9 ہوگیا ، لیکن دنیا نہیں تھمی، بدل گئی ، پاکستان اور تمام مسلم ممالک اس مشکل سے اس وقت ہی چھٹکارا پاسکتے ہیں جب ہم سب کو برابری کا درجہ دیں اور انصاف کی فضا برقرار رکھیں ورنہ مکمل امن ممکن نہیں۔ تمام اسلامی ممالک ایک دوسرے کے کلاف ہی سازشیوں میں مصروف رہیں گتے تو دوسرے ممالک اس کا فائدہ آسانی سے اٹھارہے ہیں۔

 

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔