نواز شریف لیڈر نہیں تھا اسکو ضیاالحق نے اٹھا کر لیڈر بنایا،عمران خان

چارسدہ: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف لیڈر نہیں تھا اسکو ضیاالحق نے اٹھا کر لیڈر بنایا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا چارسدہ سےجلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چارسدہ کے عوام کی عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور چارسدہ کے نوجوانوں آپ مستقبل کے لیڈر ہو۔ میں آج  آپ کے مستقبل کے لیے یہاں کھڑا ہوں اور باچا خان کے نظریات سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن وہ لیڈر تھے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ حقیقی جمہوریت میں لیڈر میرٹ پر آتا ہے اور قائداعظم اپنی قابلیت کی وجہ سے عظیم لیڈر بنے تھے۔ قائداعظم نے ایمانداری کے ساتھ 40 سال جدوجہد کی تھی اور قئداعظم ایک واحد لیڈر تھے جو پاکستان بنا سکتے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قائداعظم کے بعد آج تک کوئی لیڈر نہیں آیا ہے اور نواز شریف لیڈر نہیں تھا اسکو ضیا نے اٹھا کر لیڈر بنایا تھا۔ نواز شریف کو ڈکٹیٹر کی گود میں چوسنی دیکر پالا گیا ہے اور بارش پڑی تو شہباز شریف کو پتا لگا اصل امپائر تو اللہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ لاہور میں بارش ہوئی تو پتا چلا اصل ترقی صرف اشتہار میں ہے اور پختو نخوا کے مقابلے 3 گنا زیادتی ترقیاتی بجٹ لاہور کا ہے اور بلاول بھٹو نے پاکستان میں ایک کلو میٹر زمین چل کر نہیں دیکھی اور بلاول بھٹو وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ بلاول، مریم کو کیا معلوم کسان اور مزدور کس طرح محنت کرتے ہیں اور جد وجہد کرکے ایک انسان اوپر آتا ہے اس کو جمہوریت کہتے ہیں۔ مریم نواز نے زندگی میں ایک گھنٹا کام نہ کیا، وہ وزیراعظم بنیں گی اورشہباز شریف کراچی جاکر کہتے ہیں کراچی کو لاہور بنا دوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بھی لیڈر بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہاں جمہوریت کا مذاق بنا ہوا ہے۔ خاندانی سیاست ہورہی ہے، یہاں میرٹ نہیں ہے اور معاشرہ وہ اوپر جاتا ہے جس میں میرٹ ہوتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کا بھائی اور بیٹا بھی سیاست میں ہیں اور رشتہ داروں کے سوا ان کے پاس کوئی لیڈر نہیں، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ 25 جولائی ملکی تاریخ کا سب سے اہم ترین دن ہے اور 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو کو اللہ نے موقع دیا تھا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے روٹی، کپڑا، مکان عوام کو نہیں دیا جاسکا اور بھٹو کے جانے کے بعد ان کا خاندان لیڈر بننے کی کوشش کررہا ہے۔ جمہوریت اس لیے کامیاب نہیں، یہاں خاندانی سیاست ہے اور نواز شریف تم قوم کے مجرم ہو۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف تم نے قوم کے اربوں روپے چوری کیے ہیں اور لندن میں بیٹھ کر کہتے ہیں میں جب پاکستان آؤں گا تب فیصلہ کرنا۔ نواز شریف قومی مجرم ہے، اسے سہولت کیوں دی جائے اور 300 ارب چوری کرنے والا کہتا ہے ابھی چوری نہ کرنا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے قوم کو مقروض کر دیا ہے اور 10 سال پہلے قرض 6 ہزار اور آج 27 ہزار ارب ہو چکا ہے۔ عوام غریب ہوتے گئے، نواز شریف اور زرداری کے بینک بیلنس بڑھتے گئے اور ملک کے ادارے مضبوط کریں گے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آکر نیب، ایف بی آر اور پولیس کا نظام بہتر کریں گے اور مولانا فضل الرحمان کا اصل نام مقناطیس ہے۔ سابق حکمرانوں میں سے کوئی کرپشن نہیں کرسکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ظفرعلی شاہ کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کہتے ہیں اور کرپشن کا مطلب عوام کا پیسہ چوری کرنا ہوتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو پتا ہے لندن فلیٹس کو ناجائز طریقے سے خریدا گیا ہے اور نواز شریف نے اسمبلی میں کہا فلیٹس2007 میں خریدے۔ 1993 میں مے فیئرفلیٹس خریدے گئے، لیگی قیادت کو پتا تھا اور نواز شریف نے قوم کے اربوں روپے چوری کئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ کل نواز شریف کے ایک کیس کا فیصلہ آنا ہے اور نواز شریف نے فیصلہ مؤخر کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔ نواز شریف نے کہا جب تک واپس نہیں آتا فیصلہ نہ کریں اور یہ کونسی دنیا میں بیٹھے ہیں، قانون اندھا ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں انصاف کے دو نظام ہوں وہ تباہ ہوجاتے ہیں اور کیا نیب باقی مجرموں کو ایسی سہولت دیتا ہے۔ کیا جیل میں قیدیوں کو ایسی سہولتیں ہوتی ہیں اور روپے کی قدر گرنے کی سب سے بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی سینئر لیڈ شپ کو اور وزیروں کو پاناما ایشو کا معلوم تھا اور ظفرعلی شاہ نے غلط کام کا دفاع نہیں کیا ہے۔ شاہ صاحب میں غلط کام کروں تو میرے خلاف بھی آواز بلند کریں اور نظریے سے اختلاف اپنی جگہ مگر اس کی عزت کرنا جمہوریت ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی دین کے نام پر تو کوئی لسانی بنیاد پر سیاست کر رہا ہے اور 2 جماعتیں مک مکا کرکے ایجنڈاسیٹ کرتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاناما میں پارلیمنٹ نے کچھ نہیں کیا تو سڑکوں پر نکلنا پڑا۔