ذوالفقار علی بھٹو کی برسی

|تحریر: سید علمدار حیدر|

پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کا نام بہت نمایاں ہے انہوں نے اپنی سیاست کی کی ابتدا اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان کی کابینہ میں شامل ہوکر کی .وہ پاکستان کے صفِ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر فائز رہے۔

وہ 1929ء میں لاڑکانہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم بمبئی میں حاصل کی اور پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لندن اور امریکہ گئے جہاں سے انہوں نے پولیٹیکل سائنس اور قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ کچھ عرصہ وہ کراچی کے سندھ مسلم لاء کالج میں  لیکچرار بھی رہے۔انہیں فوجی آمر جنرل ضیاءالحق نے 4 اپریل 1979 کو عدالت کے ایک متنازعہ فیصلے پر راولپنڈی جیل میں سرِ دارچڑھادیا۔ متنازعہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی بنچ کے ایک جج نسیم حسن شاہ نے یہ بیان دیا کہ ان پر حکومتی دباؤ اس قدر تھا کہ وہ بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے پر مجبور ہوگئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جیل میں لکھی ہوئی کتاب ’’ اگر مجھے قتل کردیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ میں ایک واقعہ لکھا ہے  وہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں 12 سال کا تھا تو میرے والد شاہنواز بھٹو میرے بڑے بھائی سکندر بھٹو کے ہمراہ انگریز وائسرائے سے ملاقات کے لیے گئے۔

انگریز وائسرائے نے  میرے والد سے کہا کہ شاہنواز تمہار بڑا بیٹا سکندر بہت ہینڈ سم ہے۔ میرے بڑے بھائی اٹھارہ سال کے تھے اور واقعی وہ ہینڈسم لگتے تھے اس سے پہلے کہ میرے والد کوئی جواب دیتے میں نے وائسرائے سے کہا کہ یو آر آلسو ویری ہینڈسم لیکن آپکے  چہرے پر جو لالی ہے وہ ہم ہندوستانیوں کے خون کی لالی ہے۔ میری بات سن کر وائسرائے نے میرے والد سے کہا کہ شاہنواز تمہارا یہ بیٹا انقلابی ہے یا شاعر۔ طویل عرسے کے بعد میں پنڈی جیل کی پھانسی کی کوٹھڑی میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ ہاں میں آج بھی شاعر اور انقلابی ہوں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ میں وزیرخارجہ کی حیثیت سے بہت مؤثر کردار ادا کیا۔ سیٹو اور نیٹو جیسے امریکی معاہدوں میں شامل ہوتے ہوئے انہوں نے اس وقت دنیا کی دوسری سپر پاور روس اور سوشلسٹ ملک سے تعلقات استوار کرکے آزادانہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی اور اس دور میں کراچی میں نیوکلیر پاور پروجیکٹ کی  داغ بیل ڈالی اور پھر وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے ایٹمی پروسیسنگ پلانٹ کا منصوبہ بنایا اور اسکو عملی شکل دی۔ پاکستان کا ایٹم بم منصوبہ انکی پھانسی کا ایک سبب قرار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے ایوب خان سے علیحدہ ہوکر پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور صرف چار سال میں 1970ء کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان سے اکثریت حاصل کرلی۔ پیپلز پارٹی کا روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بہت مقبول ہوا اور بڑے بڑے نامور سیاستدانوں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو پہلا متفقہ آئین دیا جو آج بھی مختلف ترامیم کے بعد 1973ء کا متفقہ آئین کہلاتا ہے۔ انہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس کرکے سارے مسلمان ممالک کو اکھٹا کیا  جسکی وجہ سے عالمی قوتیں ناراض ہوگئیں۔ انہوں نے پاکستان اسٹیل پورٹ قاسم ہیوی الیکٹریکل  مکینکل کمپلیکس ٹیکسلا قائم کیا۔ لاکھوں ہنر مند مزدوروں اور کسانوں کو بیرونِ ملک بھجوایا۔ پاسپورٹ عام آدمی کے لیے کم پیسوں میں جاری کرنے کے احکامات  دیئے جسکی وجہ سے کروڑوں روپے کا زرِ مبادلہ پاکستان آنے لگا اور معیشیت مضبوط ہوئی۔ بھٹو نے تباہ حال پاکستان کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا کردیا۔

ایٹمی منصوبے کے باعث امریکہ ان سے ناراض ہوا اور اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی کہ اگر یہ منصوبہ ترک نہ کیا گیا تو انکا حشر نشر کردیا جائے گا۔ اور پھر سامراج کے اشارےپر پی این اے کی تحریک چلائی گئی اور نواب احمد خان کے قتل کے الزام میں متانزعہ فیصلے کے تحت سرِ دار چڑھادیا گیا۔

کبھی یہ سوچنا تم نے یہ کیا کیا لوگو

یہ کس کو تم نے  سرِ دار کھودیا لوگو

ڈس کلیمر:
نیوز ون کا یا اس کی پالیسی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔